سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

مغزی موت سے متعلق شرعی احکام

برین ھیمریج کے بارے میں بارہا متعدد سوال کر چکا ہوں اور آپ نے جواب عنایت کیا ہے، اگر اجازت دیں تو اسے مفصل آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، برین ھیمریج سے ہونے والی موت میں دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور صرف اس کے اعضاء رئیسہ کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے وہ زندہ تو ہوتا ہے مگر ایسے انسان کا عام زندگی کی طرف لوٹ آنا ممکن نہیں ہوتا، اس کے ضمن میں اس مریض کی طرف سے پیش آنے والے مخلتف قانونی و مالی احکام و مسائل کے بارے مہربانی کرکے مختصر و مفید جواب عنایت فرمائیں؟

جواب: اس بات کے پیش نظر کہ ڈاکٹر حضرات اس بات کی وضاحت و صراحت کرتے ہیں کہ برین ھیمریج کے مریض ان افراد کی طرح ہیں جن کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو، جن کے دماغ بکھر چکے ہوں یا جن کے سر تن سے جدا کر دئے گئے ہوں اور جو مشینوں اور طبی وسائل کے ذریعہ کچھ دن زندہ رکھے جا سکتے ہیں مگر ان کا شمار ایک زندہ انسان کی طرح سے نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ وہ مردوں کی طرح بھی نہیں ہیں۔ لہذا ان کے احکام ایسے ہیں جو زندہ اور مردہ دونوں کے ہوتے ہیں جیسے احکام مس میت، غسل و نماز میت و کفن و دفن ان پر جاری نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ ان کے قلب کی حرکت بند اور بدن ٹھنڈا ہو جائے، ان کے اموال کو ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، ان کی عورتیں وفات کے عدہ میں نہیں بیٹھیں گی، یہاں تک کہ جان اور روح ان کی بدن سے جدا ہو جائے، لیکن ان وکیلوں کی وکالت ساقط ہو جائے گی اور ان کا اعتبار ختم ہو جائے گا اور انہیں ان کی طرف یا ان کی وکالت میں خرید و فروش، ان کی کسی سے شادی اور بیویوں سے طلاق کا حق نہیں ہوگا، ان کے علاج کا جاری رکھنا واجب نہیں ہے، ان کے بعض اعضاء بدن کا نکالنا، اس صورت میں کہ اس سے کسی مسلمان کی جان اس سے بچ سکتی ہو، کوئی حرج نہیں رکھتا ہے، البتہ قابل توجہ نکتہ ہے کہ یہ سب اس صورت میں ہے جب مغزی موت پوری طرح سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہو اور زندہ بچ جانے کا بالکل بھی احتمال نہ پایا جاتا ہو۔

دسته‌ها: علاج، معالجه

پردے کی ضرورت

چونکہ پردہ کا مسئلہ اسلام کا ایک ضروری حکم ہے ، نیز اسلامی جمہوری ملک ایران خصوصاً اس کے مذہبی شہروں جیسے مقدس شہر قم میں ، اسلامی قانون کی زیادہ پابندی اور رعایت ہونا چاہئیے ، کہ بحمد للہ ابھی تک مقدس شہر قم میں اسلامی قانون کی رعایت ہوتی ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج کل اس مقدس شہر میں ،کچھ اس طرح کے اعمال ، مشاہدہ میں آتے ہیں ، جو اس مقدس شہر کی شان و منزلت ، کے مناسب نہیں ہیں ، جیساکہ با رہا دیکھاگیاہے ، خصوصاًشادی بارات کی ان گاڑیوں میں جو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہما کے روضہ کے سامنے سے گذرتی ہیں ، غیر مناسب اعمال انجام دئے جاتے ہیں، یاکلی طور پر مقدس مقامات پر انہی مقامات میں سے ایک مقام مسجد جمکران بھی ہے، جس پر پر وردگار عالم اور حضرت امام زمان (عج)کی خاص توجہات اور عنایات ہیں ، مذکورہ اعمال انجام پاتے ہیں جو نہایت ہی افسوس کی بات ہے ، چونکہ اس مقدس شہر کی شان اس سے بلند و بالا ہے کہ اس طرح کے اعمال انجام دئے جائیں لہٰذا چونکہ عظیم الشان ، مراجع اور مجتہدین کرام ، ہمیشہ اور ہر حال میں اسلام و انقلاب کے ، مدد گار رہیں ہیں، اور اپنے فتووں کے ذریعہ ، دنیا کی ظالم و جابر اور متکبر حکومتوں کو ، منھ توڑ کر جواب دیتے رہے ہیں ، اس لئے ہم نے چاہا کہ اس مسئلہ میں ، مقدس شہر قم کے سلسلہ میں ، جناب عالی کا صریح اور واضح فتوی ، معلوم کریں -؟

جواب : کسی شک و شبہ کے بغیرپردہ دین اسلام کا مسلم حکم ہے ، اس کے بارے میں تمام مجتہدین کا نظریہ متفق ہے ، اور ہر قسم کی بے پر دگی مقدس شریعت کے خلاف ہے ، خصوصاً مذہبی شہروں میں ، اور اس سے بڑھکر مقدس مقامات پر زیادہ پابندی ہونی چاہئیے، ان مقامات پر بے پردگی کا گناہ دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے بیشک ہر جگہ خصوصا ایسے مقدس مقامات پر برقعہ پہنا زیادہ بہتر ہے ۔

دسته‌ها: پرده (حجاب)

ڈاڑی منڈانے کے مثلہ ہو نے پر روایات کا مطلب

کیا وہ رویات جو ھاڈی منڈانے کو مثلہ کرنے سے تشبیہ دیتی ہیں ڈھاڈی منڈانے کے حرام ہو نے پر دلالت نہیں کرتی ہیں ؟

جواب ۔ یہ رویات شاید ان جگہوں پر نظر رکھتی ہیں جہاں پر کوئی زبردستی کسی کی ڈھاڈی کو کاٹ دے لیکن اگر اس کی موافقت اور مرجی سے کاٹے تو یہ مثلہ کے عنوان میں داخل نہیں ہے اگر چہ احتیاط واجب اس کے ترک کرنے میں ہے

دسته‌ها: ڈاڑهی منڈ وانا

اس قاتل کے قصاص اور دیت کا طریقہ جس نے دو اور شخصوں کو زخمی کیا ہو

چنانچہ ایک شخص ایک قتل عمد اور دواشخاص پر ضرب وجرح کا مرتکب ہوا ہے اگر مقتول کے اولیاء دم قصاص کے خواہاں ہوں اور قاتل کے پاس دو اشخاص کی دیت دینے کے لئے کوئی مال نہ ہوکیا قصاص کا جاری کرنا دیت کی ادائیگی سے پہلے ممکن ہے؟ جواب کے منفی ہونے کی صورت میں دیت کی ادائیگی کس طرح میسر ہے۔

قصاص اولیاء دم کے تقاضے کے مطابق انجام پائے گا، شخص جانی (قاتل) اگر کوئی مال رکھتا ہوگا تو دیت کو اس کے مال سے ادا کریں گے ، اس صورت کے علاوہ میں دیت میّت کے ذمہ رہے گی اور اگر اعضاء کی جنایت عمدی اور قابل قصاص ہو تو پہلے قصاص عضو کریں گے، بعد میں قصاص قتل انجام پائے گا۔

دسته‌ها: اعضاء کی دیت

عاشورہ کے دن بچّہ کے سر پر قمع لگانے کی نذر ماننا

ایک ماں باپ، نذر مانتے ہیں کہ اگر خداوندعالم ،ان کو بیٹا عطاکرے تو روز عاشورہ اس کے سر پر قمع لگا ئیں گے،یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس قسم کے اعمال شیعہ مذہب اور سید الشہدائ(علیہ السلام) کی عزاداری کے لئے باعث وہن (توہین)اور دشمنان اسلام کے لئے سوء استفادہ کا باعث ہے کیا اس نذر پر عمل کرنا واجب ہے ؟

جواب:یہ نذر صحیح نہیں ہے ،چونکہ نذر میں ، عمل کا بہتر(مستحب)ہونا شرط ہے اور یہ کام ، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ میں خامس آل عبا (علیہ السلام) کی عزاداری کے تمام ہی مسائل کے بار ے میں سوالات ایجاد کرنے کا بہانہ آجاتاہے ،عزاء سید الشہداء (علیہ السلام) جو قربتہً الی اللہ کاموں میں سب سے افضل ہے ، لہٰذا یہ نذر اشکال نے خالی نہیں ہے ،اور اگر فرض بھی کرلیں کہ یہ عمل بہتر ہے تو دوسرے کے بار ے میں نذر کرنا صحیح نہیں ہے ۔

دسته‌ها: عزاداری
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت