مردوں سے مخصوص سونے کے زیورات کی خرید و فروخت
مردوں کے استعمال سے مخصوص سونے کے ذیورات ( انگوٹھی ، گلو بنداور دستبند ) کی خریدو فروخت کا کیا حکم ہے ؟
اگر اس طرح کے سونے سے بنے ہوئے ذیورات ، مردوں کے علاوہ استعمال نہ ہوتے ہوں تو جائز نہیں ہے
اگر اس طرح کے سونے سے بنے ہوئے ذیورات ، مردوں کے علاوہ استعمال نہ ہوتے ہوں تو جائز نہیں ہے
زیارت مطلقہ کے قصد سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور بہتر یہ ہے کہ قصد رجاء کی نیت سے پڑھے۔
بیہودہ اور خرافاتی چیزیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔
اگر آپ کے لئے واقعاً ثابت ہوجائے کہ ان میں غیر دینی مقاصد انجام دئے جائیں تو ایسی نشستوں میں شریک نہ ہوں ۔
جواب: قاضی کا ایسا کوئی وظیفہ نہیں ہے۔
جواب:۔ اگر حضر میں نماز پڑھے تو بلند آواز سے قرا ئت کرنا ،مستحب ہے اور اگر سفر میں ہوتو اس صورت میں بلند آواز سے قراٴت کرنا مستحب ہے ، جب جماعت سے نماز پڑھے،فرادیٰ کی صورت میں نہیں ۔
ہر شخص اپنا دفاع کرنے کے لئے وکیل اختیار کرسکتا ہے جو اس کا حق ثابت کرنے میں اس کی مدد کرے ۔
جواب: اس بات کے پیش نظر کہ ڈاکٹر حضرات اس بات کی وضاحت و صراحت کرتے ہیں کہ برین ھیمریج کے مریض ان افراد کی طرح ہیں جن کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ہو، جن کے دماغ بکھر چکے ہوں یا جن کے سر تن سے جدا کر دئے گئے ہوں اور جو مشینوں اور طبی وسائل کے ذریعہ کچھ دن زندہ رکھے جا سکتے ہیں مگر ان کا شمار ایک زندہ انسان کی طرح سے نہیں کیا جا سکتا ۔ البتہ وہ مردوں کی طرح بھی نہیں ہیں۔ لہذا ان کے احکام ایسے ہیں جو زندہ اور مردہ دونوں کے ہوتے ہیں جیسے احکام مس میت، غسل و نماز میت و کفن و دفن ان پر جاری نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ ان کے قلب کی حرکت بند اور بدن ٹھنڈا ہو جائے، ان کے اموال کو ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، ان کی عورتیں وفات کے عدہ میں نہیں بیٹھیں گی، یہاں تک کہ جان اور روح ان کی بدن سے جدا ہو جائے، لیکن ان وکیلوں کی وکالت ساقط ہو جائے گی اور ان کا اعتبار ختم ہو جائے گا اور انہیں ان کی طرف یا ان کی وکالت میں خرید و فروش، ان کی کسی سے شادی اور بیویوں سے طلاق کا حق نہیں ہوگا، ان کے علاج کا جاری رکھنا واجب نہیں ہے، ان کے بعض اعضاء بدن کا نکالنا، اس صورت میں کہ اس سے کسی مسلمان کی جان اس سے بچ سکتی ہو، کوئی حرج نہیں رکھتا ہے، البتہ قابل توجہ نکتہ ہے کہ یہ سب اس صورت میں ہے جب مغزی موت پوری طرح سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہو اور زندہ بچ جانے کا بالکل بھی احتمال نہ پایا جاتا ہو۔
قصاص اولیاء دم کے تقاضے کے مطابق انجام پائے گا، شخص جانی (قاتل) اگر کوئی مال رکھتا ہوگا تو دیت کو اس کے مال سے ادا کریں گے ، اس صورت کے علاوہ میں دیت میّت کے ذمہ رہے گی اور اگر اعضاء کی جنایت عمدی اور قابل قصاص ہو تو پہلے قصاص عضو کریں گے، بعد میں قصاص قتل انجام پائے گا۔
جواب : کسی شک و شبہ کے بغیرپردہ دین اسلام کا مسلم حکم ہے ، اس کے بارے میں تمام مجتہدین کا نظریہ متفق ہے ، اور ہر قسم کی بے پر دگی مقدس شریعت کے خلاف ہے ، خصوصاً مذہبی شہروں میں ، اور اس سے بڑھکر مقدس مقامات پر زیادہ پابندی ہونی چاہئیے، ان مقامات پر بے پردگی کا گناہ دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے بیشک ہر جگہ خصوصا ایسے مقدس مقامات پر برقعہ پہنا زیادہ بہتر ہے ۔
جواب ۔ یہ رویات شاید ان جگہوں پر نظر رکھتی ہیں جہاں پر کوئی زبردستی کسی کی ڈھاڈی کو کاٹ دے لیکن اگر اس کی موافقت اور مرجی سے کاٹے تو یہ مثلہ کے عنوان میں داخل نہیں ہے اگر چہ احتیاط واجب اس کے ترک کرنے میں ہے
جواب: مسح کی جگہ سرکا صرف اگلا حصہ ہے۔