حاملہ عورت کی تعزیر اور حد
اگر کسی بیمار کے اوپر حد (سزا) ثابت اور واجب ہوجائےکیا اس صورت میں اسّی (۸۰) باریک لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک مرتبہ میں اس بیمار کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟ جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں کیا تعزیر (غیر معیّن سزا) کا بھی یہی حکم ہے؟ اس تمہید کو پیش نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوال کا جواب مرحمت فرمائیں: کسی خاتون نے شادی سے پہلے کے زمانے میں کوئی ایسا کام کیا تھا جس کا حکم تعزیر تھا اور اب شادی کے بعد جبکہ وہ حاملہ ہوگئی ہے اور اس کا شوہر بھی اُس کے اس کام (جرم) سے آگاہ نہیں تھا، اس کا جرم ثابت ہوگیا ہے، لہٰذا یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس وقت وہ بیمار ہے اور حاملہ ہے نیز یہ کہ اگر اسے تعزیر اور سزا دی جائے تو اس کے شوہر کو پتہ چل جائے گا اور ممکن ہے اُسے طلاق دیدے یا دیگر مشکلات پیش آئیں، کیا اس صورتحال میں تیس (۳۰) باریک لکڑیاں ایک ساتھ ملاکر تعزیر کے عنوان سے ایک مرتبہ میں اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟
بیمار کے سلسلہ میں تو، حد (سزا) کی تعداد کے مطابق لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک بار ہی اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں لیکن حاملہ عورت کو وضع حمل کے بعد سزا دی جائے گی، البتہ تعزیر (غیر معین سزا) کی صورت میں چند کوڑوں پر اکتفا کی جاسکتی ہے اور تعزیر کوڑوں کی سزا ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس طرح کے موقعوں پر سرزنش کرنے یا نصیحت کرنے پر بھی اکتفا کی جاسکتی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کے اس میں نصیحت وغیرہ کے اثر کرنے کی امید ہو ۔
حمل کی حفاظت میں ماں کی کوتاہی
اگر ماں بچے کو سقط کرنے والا کوئی کام انجام نہ دے لیکن وہ ضروری باتوں کی رعایت نہ کرے اور اس کی حفاظت میں کوتاہی کرے اور بچہ سقط ہو جائے تو کیا وہ حرام کی مرتکب ہوئی ہے؟
جواب: اگر اس نے بچہ کی حفاظت میں مطابق معمول عمل نہیں کیا ہے اور کوتاہی کی ہے تو وہ ذمہ دار ہے ۔
قرض الحسنہ بینک کی رقم کو بغیر اجازت کے استعمال کرنا
کیا قرج الحسنہ بینک کے ذمہ دار حضرات ، بینک کی موجودہ رقم کو بینک کے اعضاء سے وکالت لئے بغیر ( بینک کے اعضاء وحصہ دار ) قرض الحسنہ کے عنوان سے بینک کو رقم دیتے ہیں ) ان سے کام کریں ، درجہ ذیل دو صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے ؟الف) حاصل شدہ منافع ، قرض الحسنہ بینک میں ، بطور مشترک جو قرض اور ضروری چیزوں کی خریداری کو شامل ہے ، خرچ ہو۔ب) حاصل شدہ منافع فقط کام کرنے والوں کے لئے ہو ،
اجازت لئے بغیر جائز نہیں ہے ، اور اگر قرض الحسنہ بینک میں ، حساب کرے یعنی کھاتا کھلواتے وقت ، یہ بات صراحت سے بیان کر دی جائے کہ قرض الحسنہ کی کچھ رقم کو بینک کے منافع کے لئے استعمال کیا جائے گا تو کافی ہے ، اور جس طرح لوگوں نے اجازت دی ہے اسی کے مطابق عمل کیا جائے-
بیٹی اور بیوی کی نیابت
ایک شخص نے حج کی وصیت کی ہے کیا، اس کی بیوی یا بیٹی بھی اس کی نیابت میں حج کرسکتی ہے ؟
جواب :۔ اگر وصیت نامہ میں کسی خاص شخص کی شرط نہیں لگائی ہے تو بیٹی او ربیوی بھی اس کی نیابت میں حج کرسکتی ہیں ۔
ان خواتین کا وظیفہ جو حالت احرام میں حائض ہو جائیں
جو خاتون عمرہ کے دورا ن حالت احرام میں یا احرام سے پہلے یاا س کے بعد ،حالت حیض میں ہو گئی ہے اس کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب :۔ ہر حال میں اس خاتون کا احرام صحیح ہے ، لیکن پا ک ہونے تک صبر کرے گی ، اس کے بعد طواف اور نماز طواف کو بجا لائے گی اور اس کے بعد عمرہ کے باقی اعمال ، انجام دے گی ۔
الکل مشروبات کو اپنے ےہاں رکھنا
آپ کی مبارک نظر میں ، الکلی مشروبات کا رکھنا (اس کی نگہداشت کرنا)کیساہے؟
جواب: حرام ہے اور تعزیر کا باعث ہے ، مگر ان موقعوں پر جب کوئی مھم غرض ہو یا س کو سرکہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہوں۔
بدن کے لیے پانی کا استعمال مضر ہونے کی صورت میں تیمم کرنا
جس شخص کو ( بیماری کی وجہ سے ) پیشاب کے ساتھ ہمیشہ منی کے اجزاء خارج ہوتے ہوں ،اور صحتیاب ہونے کی امید بھی نہ ہو، کیا وہ تیمم سے اپنے اعمال بجالاسکتا ہے ؟ چونکہ مفروض یہ ہے کہ ہمیشہ غسل جنابت کرنے سے اس کو ناقابل تلافی جسمانی ضرر ہوسکتاہے ؟
جواب : مذکورہ صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ جس قدر غسل کرنا باعث ضرر نہیں ہے غسل کرے ، اور جب باعث ضرر ہو تیمم کرنا جائزہے لیکن احتیاط کے طور پر وضو بھی کرلے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ منی کے ذرّات پیشاب میں مل کر مکمل طور پر ختم نہ ہوئے ہوں ،اور اگر منی کے ذرّے ، پیشاب میں ملکر بالکل ختم ہوگئے ہیں ۔ تو اس پر غسل ضروری نہیں ہے ، اسی طرح اگر اسے شک ہو کہ وہ منی کے قطرے ہیں ( یا دوسری ( مذی وغیرہ) چپکنے والی چیز ہے جو کبھی کبھی پیشاب کے راستہ سے خارج ہوتی ہے ، توبھی غسل نہیں ہے ۔
نماز آیات کے واجب فوری ہونے سے مراد
مہربانی فرماکر نماز آیات کے سلسلے میں نیچے دیئے گئے سوالوں کے جوابات عنایت فرمائیں:الف) آپ نے فرمایا ہے کہ نماز آیات واجب فوری ہے، کیا قضائے حاجت، قرض کی ادئیگی وغیرہ جیسے کام بھی اس فوریت کے منافی ہیں؟ب) اگر نماز واجب پڑھنے کے دوران زلزلہ آجائے تو نماز واجب اور نماز آیات کے سلسلے میں ہمارا کیا وظیفہ ہے؟ج) اگر ایک معتمد شخص کسی سے کہے: ”کل زلزلہ آیا تھا“ اور وہ بھی اطمیان کرلے، حالانکہ وہ خود بھی عمومی جگہوں جیسے بازار اور سڑک پر موجود تھا مگر اس نے کچھ سنا نہیں تھا، اس صورت میں اس کا وظیفہ کیا ہے؟
جواب الف: اس سے مراد یہ ہے کہ تساہلی سے کام نہ لے اور اس کو تاخیر میں نہ ڈالے ۔جواب ب: اگر نماز واجب کے دوران زلزلہ آجائے تو نماز واجب ختم کرنے کے بعد نماز آیات بجالائے ۔جواب ج : ایسے شخص پر نماز آیات واجب نہیں ہے، اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اس کو بجالائے ۔
کچن اور حمام کےکنویں کا ایک ہونا
صحن تنگ ہونے یا تنگ نہ ہونے کی صورت میں کچن اور حمام کا کنواں ایک ہونے کا کیا حکم ہے؟
کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان دونوں کنووں کا جدا جدا ہونا بہتر ہے۔
غصبی جگہ پر نماز پڑھنا
ان حکومتی عمارتوں، اداروں ، اور جگہوں پر جو کرایہ پر لیے گئے ہیں اور مالک ، خالی کرانے پر مصر ہے نیز، راضی نہیں ہے اور اس بات کا اظہار بھی کر چکا ہے ، جبکہ مجبوری کی بناپر عمارت ابھی حکومت کے اختیار میں ہے ،اس صورت میں وہاں پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب: یقینی ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
پروسٹاٹ کے مریض کو پیشاب کے ساتھ منی کا آنا
جن لوگوں کے پروسٹاٹ ( یعنی مسانہ)کا اپریشن ہو چکاہے ان کے پیشاب میں اکثر اوقات منی بھی نکل آتی ہے ، اگر منی کے نکلنے کا یقین ہو تو کیا اس شخص پر غسل جنابت واجب ہوگا گرچہ کئی مرتبہ نکلے یاغسل واجب ہونے کی دلیلیں فقط طبیعی طور پر منی نکلنے پر صادق آتی ہیں ؟
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ایسی حالت میں منی پیشاب کے ساتھ نکلتے وقت پیشاب میں مل جاتی ہے تو اس صورت میں غسل کا سبب نہیں ہے ، لیکن اگر بغیر پیشاب کے منی نکلے یا منی کی شکل میں بغیر پیشاب کے فقط منی نکلے تو غسل واجب ہوگا اور اگر متعدد بار غسل کرنا سخت عسروحرج کا باعث بن رہا ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرے ۔
مستحب روزہ رکھنے کے لئے والدین کی اجازت
میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا مقلد تھا اور جناب عالی کے فتوے سے اب بھی امام ۺ کی تقلید پر باقی ہوں مستحب روزوں کے سلسلہ میں انہوں نے فرمایا ہے اگر ماں باپ اور دادا کی اذیت کا سبب بن جائے تو مستحب روزہ جائز نہیں ہے ۔ ملحوظ رہے کہ میں شادی کرنے پر قادر نہیں ہوں اور حرام کام سے بچنے کا ، مستحب روزے رکھنا مجھے بہترین راستہ نظر آتا ہے دوسری جانب ماں باپ میرے مستحب روز ے رکھنے پر راضی نہیں ہےں اور میں ان کو ناراض بھی نہیں کرسکتا کیا مذکورہ شرائط کو نظر میں رکھتے ہوئے ماں باپ کی مرضی کے بغیر روزہ رکھا جاسکتا ہے ؟
جواب:۔ مذکورہ فرض میں آپ کے لئے مستحب روزہ رکھنا جائز ہے لیکن کوشش کریں اور جس قدر بھی ہو سکے ان کی رضایت حاصل کریں ۔
بیماروں کے لئے لباس احرام کا نجس ہونا
بندہ ناچیز بیمار اور پیشاب پر ضبط ونہ ہونے کی وجہ سے ، اپنے احرام کے لباس کو پاک نہیں رکھ سکتا، میر ا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب:۔ جس قدر کرسکتے ہو ضبط اور برداشت کریں اور جس قدر عسروو حرج( شدید مشقت ) کاباعث ہوتو، اس مقدارمیں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

