قرض الحسنہ بینک کی رقم کو بغیر اجازت کے استعمال کرنا
کیا قرج الحسنہ بینک کے ذمہ دار حضرات ، بینک کی موجودہ رقم کو بینک کے اعضاء سے وکالت لئے بغیر ( بینک کے اعضاء وحصہ دار ) قرض الحسنہ کے عنوان سے بینک کو رقم دیتے ہیں ) ان سے کام کریں ، درجہ ذیل دو صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے ؟الف) حاصل شدہ منافع ، قرض الحسنہ بینک میں ، بطور مشترک جو قرض اور ضروری چیزوں کی خریداری کو شامل ہے ، خرچ ہو۔ب) حاصل شدہ منافع فقط کام کرنے والوں کے لئے ہو ،
اجازت لئے بغیر جائز نہیں ہے ، اور اگر قرض الحسنہ بینک میں ، حساب کرے یعنی کھاتا کھلواتے وقت ، یہ بات صراحت سے بیان کر دی جائے کہ قرض الحسنہ کی کچھ رقم کو بینک کے منافع کے لئے استعمال کیا جائے گا تو کافی ہے ، اور جس طرح لوگوں نے اجازت دی ہے اسی کے مطابق عمل کیا جائے-
اللہ کی حدود جاری کرنے والا
افغانستان کے موجودہ حالات میں الله کے احکام اور حدود کے جاری کرنے کی ذمہ داری کن لوگوں کے اوپر ہے؟
ہر وہ عادل مجتہد جو اس علاقہ میں موجود ہے یہ کام انجام دے سکتا ہے اور مجتہد کے نہ ہونے کی صورت میں کوئی عادل عالم جو جامع الشرائط مجتہد کی جانب سے نمائندگی گررہا ہو، حدود الٰہی کو جاری کرسکتا ہے
حاملہ عورت کی تعزیر اور حد
اگر کسی بیمار کے اوپر حد (سزا) ثابت اور واجب ہوجائےکیا اس صورت میں اسّی (۸۰) باریک لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک مرتبہ میں اس بیمار کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟ جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں کیا تعزیر (غیر معیّن سزا) کا بھی یہی حکم ہے؟ اس تمہید کو پیش نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوال کا جواب مرحمت فرمائیں: کسی خاتون نے شادی سے پہلے کے زمانے میں کوئی ایسا کام کیا تھا جس کا حکم تعزیر تھا اور اب شادی کے بعد جبکہ وہ حاملہ ہوگئی ہے اور اس کا شوہر بھی اُس کے اس کام (جرم) سے آگاہ نہیں تھا، اس کا جرم ثابت ہوگیا ہے، لہٰذا یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس وقت وہ بیمار ہے اور حاملہ ہے نیز یہ کہ اگر اسے تعزیر اور سزا دی جائے تو اس کے شوہر کو پتہ چل جائے گا اور ممکن ہے اُسے طلاق دیدے یا دیگر مشکلات پیش آئیں، کیا اس صورتحال میں تیس (۳۰) باریک لکڑیاں ایک ساتھ ملاکر تعزیر کے عنوان سے ایک مرتبہ میں اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟
بیمار کے سلسلہ میں تو، حد (سزا) کی تعداد کے مطابق لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک بار ہی اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں لیکن حاملہ عورت کو وضع حمل کے بعد سزا دی جائے گی، البتہ تعزیر (غیر معین سزا) کی صورت میں چند کوڑوں پر اکتفا کی جاسکتی ہے اور تعزیر کوڑوں کی سزا ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس طرح کے موقعوں پر سرزنش کرنے یا نصیحت کرنے پر بھی اکتفا کی جاسکتی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کے اس میں نصیحت وغیرہ کے اثر کرنے کی امید ہو ۔
کینسر کے مریضوں کا علاج ترک کرنا
ایک شخص کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہے، ڈاکٹر نا امید ہو چکے ہیں، اب اگر کوئی ڈاکٹر اس پر ترس کھا کر ہمدردی دکھاتے ہوئے اس کا علاج نہ کرے تا کہ وہ جلدی مر جائے اور مرض کی صعوبت سے نجات پا جائے اور مریض قبل از وقت مر جائے تو وہ ڈاکٹر شرعی لحاظ سے مجرم ہے؟ مہربانی کر کے اجمالی طور پر دلیل بھی بیان فرمائیں؟
جواب: انسان کا قتل کسی بھی بہانہ سے جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ ترس کھا کر اور ہمدردی میں بھی نہیں، اور اگر مریض خود بھی ایسا کرنے کو کہے تب بھی نہیں، اسی طرح سے اس کا معالجہ ترک کد دینا تا کہ وہ جلدی مر جائے، جایز نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کی دلیل آیات و روایات میں قتل کا حرام ہونا مطلقا بیان ہونا ہے اور اسی طرح ان دلائل سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے جن میں جان کا بچانا واجب قرار دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس کا فلسفہ یہ ہو کہ اس بات کی اجازت دینا بہت سے سوء استفادہ کا سبب بن جائے گا اور اس طرح کے بے تکے اور بے بنیاد بہانوں کے تحت ترس اور ہمدردی میں قتل ہونے لگیں گے یا بہت سے افراد اس قصد سے خودکشی کی راہ اختیار کرنے لگیں گے ۔ ویسے بھی طبی مسائل غالبا یقین آور نہیں ہیں اور بہت سے افراد جن کی زندگی سے مایوسی ہو چکی ہے، عجیب و غریب طریقہ سے موت کا شکار ہونے لگ جائیں۔
مستحب روزہ رکھنے کے لئے والدین کی اجازت
میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا مقلد تھا اور جناب عالی کے فتوے سے اب بھی امام ۺ کی تقلید پر باقی ہوں مستحب روزوں کے سلسلہ میں انہوں نے فرمایا ہے اگر ماں باپ اور دادا کی اذیت کا سبب بن جائے تو مستحب روزہ جائز نہیں ہے ۔ ملحوظ رہے کہ میں شادی کرنے پر قادر نہیں ہوں اور حرام کام سے بچنے کا ، مستحب روزے رکھنا مجھے بہترین راستہ نظر آتا ہے دوسری جانب ماں باپ میرے مستحب روز ے رکھنے پر راضی نہیں ہےں اور میں ان کو ناراض بھی نہیں کرسکتا کیا مذکورہ شرائط کو نظر میں رکھتے ہوئے ماں باپ کی مرضی کے بغیر روزہ رکھا جاسکتا ہے ؟
جواب:۔ مذکورہ فرض میں آپ کے لئے مستحب روزہ رکھنا جائز ہے لیکن کوشش کریں اور جس قدر بھی ہو سکے ان کی رضایت حاصل کریں ۔
فرش(قالین وغیرہ)کی نجاست
ہمیں نہیں پتہ کہ بارہ (۱۲)میٹر کا فرش کہاں سے نجس ہے ؟کیا یہ شبہہ محصورہ ہے یا غیر محصورہ ؟کیا اس پر نماز پڑھی جا سکتی ہے؟
جواب: شبہہ محصورہ ہے لیکن اس پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مطلّقہ زوجہ اور وارثین کا طلاق کے زمانے میں اختلاف
وہ زوجہ ٴ مطلّقہ جس کا شوہر فوت ہوگیا اس میں اور شوہر کے ورثہ کے درمیان اصل طلاق میں اتفاق نظر اور زمان طلاق میں اختلاف پایا جاتا ہے، مطلّقہ زوجہ دعویٰ کررہی ہے کہ طلاق اسی بیماری میں واقع ہوئی جس میں وہ فوت ہوا ہے جبکہ ورثہ دعویٰ کررہے ہیں کہ طلاق، اُس کی زمانے میں واقع ہوئی ہے جب وہ صحیح وسالم تھا اس صورت میں کس کا قول مقدم ہے؟
جواب: زوجہ کو ثابت کرنا چاہئے کہ طلاق مرض الموت میں واقع ہوئی ہے، ورنہ کوئی حق نہیں رکھتی، لیکن بہتر ہے کہ ورثہ کے ساتھ ایک رقم پر مصالحہ کرلے۔
قتل عمد میں وارثین کا تعاون
کیا قتل عمد میں تعاون کرنا موانع ارث میں سے شمار ہوگا؟
جواب: اس صورت میں جبکہ تعاون اس شکل میں ہو ا ہو کہ قتل کی نسبت دونوں (یعنی قاتل اور معاون) کی طرف دی جاسکے، دونوں ارث سے محروم ہوجائیں گے؛ لیکن اگر اس طرح نسبت نہ دے سکیں، مثلاً اس نے اسلحہ کو قاتل کے اختیار میں دیا، یا مقتول کی جگہ کا پتہ بتایا، اس طرذح کا تعاون مانع ارث نہیں ہے۔
بیماروں کے لئے لباس احرام کا نجس ہونا
بندہ ناچیز بیمار اور پیشاب پر ضبط ونہ ہونے کی وجہ سے ، اپنے احرام کے لباس کو پاک نہیں رکھ سکتا، میر ا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب:۔ جس قدر کرسکتے ہو ضبط اور برداشت کریں اور جس قدر عسروو حرج( شدید مشقت ) کاباعث ہوتو، اس مقدارمیں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
امانت واپس کرنے کے بارے میں امانت دار اور صاحب مال میں اختلاف
اگر امانت دار، دعویٰ کرے کا امانت کو واپس کردیا ہے اور صاحب مال اس سے انکار کرے تو دونوں میں سے کس کی بات قبول کی جائے گی؟
اگر امانت دار ایسا شخص ہو جس پر پہلے سے کوئی الزام نہیں ہے تو امانت واپس کرنے کے بارے میں اس کا دعویٰ قبول کیا جائے گا، لیکن اگر اس پر پہلے سے کوئی الزام ہو تب اس کی بات قبول نہیں کی جائے گی، البتہ اس صورت میں چونکہ صاحب مال منکر ہے لہٰذا امانت دار اس سے قسم کھانے کا مطالبہ کرسکتا ہے اور اگر منکر قسم کھالے تو امانت دار کو اس کا مال واپس کرنا پڑے گا ۔
عقد متعہ کے بارے میں شرےعت کا حکم
کسی باکرہ لڑکی کے لئے باپ کی اجازت کے بغیر عقد متعہ کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب :۔ احتیاط واجب یہ ہے کہ باپ کی اجازت سے ہو .
میت کی دیت کے مال سے، میت کے قرضوں کی ادائیگی
ایک شخص ، قتل عمد ، شبہ عمد، یا خطائے محض کے نتیجہ میں فوت ہوگیا، بہرحال دیت لینے پر صلح ہوگئی ، کیا یہ دیت اس کے ترکہ کا جزء محسوب ہوگی، کہ پہلے متوفیٰ کے تمام قرض اس سے ادا کیے جائیں اور اس کے بعد باقی ماندہ کو تقسیم کیا جائے ، یا متوفیٰ کے قرضوں کو اس سے نہیں نکالا جائے گا؟
جواب: دیت کی رقم میت کے مال کے حکم میں ہے اور متوفی کے قرضوں کو اس سے ادا کیا جائے گا۔
بیٹی اور بیوی کی نیابت
ایک شخص نے حج کی وصیت کی ہے کیا، اس کی بیوی یا بیٹی بھی اس کی نیابت میں حج کرسکتی ہے ؟
جواب :۔ اگر وصیت نامہ میں کسی خاص شخص کی شرط نہیں لگائی ہے تو بیٹی او ربیوی بھی اس کی نیابت میں حج کرسکتی ہیں ۔

