معین مہر کے علاوہ دوسرے مہر پر نکاح کے صیغہ جاری کرنا
ایک لڑکی سے کہا گیا کہ تمہارا مہر ،پندرہ ہزار ہندوستانی روپیہ ہے وہ لڑکی اس مہر پر راضی ہو گئی لیکن نکاح نامہ میں دس ہزار روپیہ لکھا گیا وکیل نے نکاح نامہ میں تحریر مہر پر صیغہ نکاح جاری کیا ،کیا یہ نکاح دائم کا صیغہ صحیح ہے؟
احتیاط یہ ہے کہ صیغہ نکاح دوبارہ اس مہر کے ساتھ جاری کریں جس پر دونوں متفق ہیں۔
خنثٰی کی شادی
کیا خنثیٰ مشکلہ اور خنثٰی غیر مشکلہ کی شادی جائز ہے ؟
جواب:۔حنثٰی مشکلہ کی شادی جائز نہیں ہے اور خنثٰی غیر مشکلہ اگر اس کی وضعیت روشن اور واضح ہو تو جائز ہے .
جو رقم داماد سے وصول کی جاتی ہے اس کا خمس
افغانستان کے لوگوں اور شیعوں کے درمیان رواج ہے کہ شادی میں مہر کی رقم کے علاوہ کچھ رقم لڑکی کا باپ، داماد سے وصول کرتا ہے کیا یہ رقم حلال ہے اور اگر اس رقم پر ایک سال گذر جائے تو کیا اس پر خمس واجب ہے ؟
جواب:۔اگر مذکورہ رقم کو عقد کے ضمن میں باپ کیلئے قرار دیا جائے تو حلال ہے اور سال گذرنے کے بعد اس پر خمس واجب ہے .
باربار استخارہ کرنا
کیا شادی کے سلسلے میں دوبارہ استخارہ کرنا جائز ہے کس طریقہ سے ؟
جواب:۔کسی بھی مورد میں دوبارہ استخارہ کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کافی عرصہ گذر جائے یا جس کام کیلئے استخارہ کرایا ہے، اس کے حالات و شرائط بدل جائیں
شادی کےلئے استخارہ
کیا لڑکی کا رشتہ کرنے کیلئے استخارہ کا کوئی مورد ہے ؟
جواب:۔جب بھی مشورہ اور ضروری تحقیقات کرنے کے بعد مشکل حل نہ ہو پائے تو استخارہ کیا جاسکتا ہے
شادی سے پہلے دیے گئے تحفہ وتحائف کا حکم
لڑکی اور لڑکے کی منگنی کی مٹھائی کھاتے ہیں، لڑکا اور اس کے بزرگ کچھ تحفہ تحائف منگیتر اور اس کے گھر والوں کے لئے لے جاتے ہیں، اگر ان کی منگنی ٹوٹ جائے یا دونوں میں سے کوئی ایک مرجائے تو اس صورت میں ان دئے گئے تحفوں کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ان میں سے جو استعمال نہیں ہوئے انہیں واپس لوٹائیں لیکن جسقدر استعمال ہوگئے ہوں ان کے بارے میں وہ لوگ مقروض نہیں ہیں .
جو رقم داماد سے جہیز کےلئے حاصل کی گئی ہے
لڑکی کے والد اپنی بیٹی کے جہیز کیلئے جو رقم داماد سے وصول کرتے ہیں وہ اگر جہیز کی مقدار سے زیادہ ہو (یعنی جہیز خرید کر بچ جائے) کیا وہ رقم لڑکی کے والد کیلئے حلال ہے ؟
جواب:۔اگر عقد کے ضمن میں،شرط کے طور پر وہ رقم لڑکی کے والد بزرگوار کیلئے قراردی جائے تو اضافی رقم ان کیلئے حلال ہے اور اگر لڑکی کیلےٴ قرار دی گئی ہو اور مہر کا حصّہ ہو تو لڑکی کی ملکیت ہے .
ہمسر (شوہر وبیوی) پر ناجائز تعلقات کا الزام لگانا
اگر کوئی شخص اپنی زوجہ پر ناجائز تعلقات کا الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام کو ثابت نہ کرسکے ؟الف)کیااس شخص کے لئے دوبارہ اپنی زوجہ کے ساتھ زندگی بسر کرناممکن ہے ؟ب)کیا شرعی لحاظ سے زوجہ کے اوپر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھے ؟ج) خصوصاً اس مورد میں کیا زوجہ طلاق کا تقاضا کرسکتی ہے اور اپنے حقوق، مہر، جہیز اور دولت وثروت کو حاصل کرسکتی ہے ؟
جواب:الف۔اگر مشاہدہ کا دعویٰ نکرے تو کوئی خاص رسم کیےٴ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس پر جو الزام لگا یا ہے اس سلسلہ میں زوجہ حاکم شرع کے یہاںحد قذف (الزام لگانے کی سزا) کا تقاضا کر سکتی ہے (اس کی سزا اسّی کوڑے ہیں) مگر یہ کہ زوجہ اس کو معاف کردے .جواب: ب:۔جی ہاں لازم ہے ( ازدواجی) زندگی جاری رکھے .جواب:ج۔اگر شوہر طلاق دینے پر راضی ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے .
داماد سے دودھ پلانے (شیر بہا) کی قیمت وصول کرنا
کیا ماں شیربہا(دودھ پلانے کی قیمت) لے سکتی ہے ؟
جواب:۔ماں اس صورت میں شیر بہا لے سکتی ہے کہ جب نکاح میں شرط رکھے اور عقد پڑھتے وقت اس شرط کو بیان کیا جائے .
وہ تحفہ وتحائف جو لڑکی کے گھر والے دیتے ہیں
عام رواج کے مطابق نکاح اور رخصتی کے بعد دلہن کے گھر والے اپنی بیٹی کیلئے کچھ تحفہ و ہدیے لے جاتے ہیں، ان شوہر بیوی کے جدا ہونے یا دلہن کے مرنے کے بعد وہ تحفہ کس کے ہیں ؟
جواب:۔اگر کوئی خاص قرینہ نہ پایا جائے تو ظاہر یہ ہے کہ لڑکی کی ملکیت ہیں، جو باپ نے اپنی بیٹی کے احترام اور شوہر کے نزدیک اس کی عزت وآبرو بڑھانے کے لئے دیے ہیں
نکاح دائم کے بجائے عقد متعہ کا صیغہ پڑھ لینا
اگر کوئی خاتون ،مرد(ہونے والے شوہر) کو نکاح دائم پڑھنے کے لئے اپنا وکیل بنائے اور مرد (عقد پڑھنے کے بعد ) مدعی ہو کہ اس نے متعہ (وقتی نکاح) کا صیغہ جاری کیا تھا وہ بھی چند سال کے بعداس عقد، مہر ،شوہر و بیوی کے درمیان وراثت اور بچوں کی وراثت کا کیا حکم ہے؟
اگر اسے یقین ہو کہ مرد صحیح کہتا ہے اور اس نے نکاح غیر دائم (متعہ) پڑھا تھا تو اس صورت میں عقد نکاح باطل ہے اور میاں بیوی کو ایک دوسرے کی میراث نہیں ملے گی لیکن ان کے بچوں کو ان کی میراث ملے گی مگر یہ کہ مرد جانتا ہو کہ یہ عقد باطل ہے ،اس صورت میں بچوں کو فقط ماں کی طرف سے میراث پہنچے گی ، مرد (باپ ) کی جانب سے نہیں ،اور مرد پر زنا کی حد (سزا)جاری ہو گی اور ہر حال میں مرد کو عورت مہرالمثل ادا کرنا ہوگا۔

