چہارشنبہ سوری اور اس کے آتش بازی پر مشتمل مراسم
چہار شنبہ سوری (زرتشتی تہوار) اور اس میں آگ جلانے جیسی رسموں کا شرعا کیا حکم ہے؟
بیہودہ اور خرافاتی چیزیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔
بیہودہ اور خرافاتی چیزیں ہیں ان سے پرہیز کرنا چاہیے۔
قرعہ ابواب قصاص اور حدود میں جاری نہیں ہوگا۔دیت ان تمام کے درمیان بطور مساوی تقسیم ہوگی۔
جواب ۔ یہ رویات شاید ان جگہوں پر نظر رکھتی ہیں جہاں پر کوئی زبردستی کسی کی ڈھاڈی کو کاٹ دے لیکن اگر اس کی موافقت اور مرجی سے کاٹے تو یہ مثلہ کے عنوان میں داخل نہیں ہے اگر چہ احتیاط واجب اس کے ترک کرنے میں ہے
جواب : کسی شک و شبہ کے بغیرپردہ دین اسلام کا مسلم حکم ہے ، اس کے بارے میں تمام مجتہدین کا نظریہ متفق ہے ، اور ہر قسم کی بے پر دگی مقدس شریعت کے خلاف ہے ، خصوصاً مذہبی شہروں میں ، اور اس سے بڑھکر مقدس مقامات پر زیادہ پابندی ہونی چاہئیے، ان مقامات پر بے پردگی کا گناہ دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے بیشک ہر جگہ خصوصا ایسے مقدس مقامات پر برقعہ پہنا زیادہ بہتر ہے ۔
جب وکیل جانتا ہو کہ اس کے موکل کا شرعی حق نہیں ہے ، تو اس کی طرف سے دفاع نہیں کرنا چاہیے یا دوسرے سے نا حق کو ئی چیز لیکر اپنے موکل کے حوالے نہیں کرنا چاہئے اور اگر وکالت کی اجرت اپنے کام کے بدلے حاصل کرتا ہے تو وہ اس صورت میں جائز ہے کہ جب شرعی حقوق کو حق ثابت کرنے کے لئیے کوشش کرے ۔
ہر شخص اپنا دفاع کرنے کے لئے وکیل اختیار کرسکتا ہے جو اس کا حق ثابت کرنے میں اس کی مدد کرے ۔
عام طور پر ایسی حالت میں، سوتے وقت بدن سے خارج ہوجاتی ہے لہٰذا دوسرے کسی کام کی ضرورت نہیں ہے ۔
قصاص اولیاء دم کے تقاضے کے مطابق انجام پائے گا، شخص جانی (قاتل) اگر کوئی مال رکھتا ہوگا تو دیت کو اس کے مال سے ادا کریں گے ، اس صورت کے علاوہ میں دیت میّت کے ذمہ رہے گی اور اگر اعضاء کی جنایت عمدی اور قابل قصاص ہو تو پہلے قصاص عضو کریں گے، بعد میں قصاص قتل انجام پائے گا۔
حجاب اور دوسری شرعی باتوں کی رعایت کے ساتھ کوئی حرج نہیں ہے۔
جواب: قاضی کا ایسا کوئی وظیفہ نہیں ہے۔
جواب:یہ نذر صحیح نہیں ہے ،چونکہ نذر میں ، عمل کا بہتر(مستحب)ہونا شرط ہے اور یہ کام ، اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اسلام کے دشمنوں کے ہاتھ میں خامس آل عبا (علیہ السلام) کی عزاداری کے تمام ہی مسائل کے بار ے میں سوالات ایجاد کرنے کا بہانہ آجاتاہے ،عزاء سید الشہداء (علیہ السلام) جو قربتہً الی اللہ کاموں میں سب سے افضل ہے ، لہٰذا یہ نذر اشکال نے خالی نہیں ہے ،اور اگر فرض بھی کرلیں کہ یہ عمل بہتر ہے تو دوسرے کے بار ے میں نذر کرنا صحیح نہیں ہے ۔
جواب:۔ شادی کا چھلّہ اور انگوٹھی میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن آرائش کے مورد میں اشکال ہے .