سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

متجزی مجتہد کی تقلید

مجتہد پر تقلید حرام ہے تو کیا وہ طلاب و فضلا بھی اس مسئلہ میں شامل ہیں جوکچھ مسائل میں مجتہد ہیں ؟

جواب : یہ حکم مجتہد مطلق ( جو فقہ کے تمام موضوعات میں اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو) اور متجزی ( یعنی جو فقہ کے بعض موضوعات میں صاحب نظر ہو ) دونوں کو شامل ہے۔

رجوع کرنے کےلئے رقم رصول کرنا

اگر کوئی شخص اپنی زوجہ کو طلاق دیدے زوجہ کے وارث اس سے کہیں کہ اس قدر رقم لے لو لیکن طلاق نہ دو، کیا اس صورت میں، شوہر رجوع کرسکتا ہے ؟

جواب:۔جس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی ہے وہ رقم لیکر رجوع کرسکتا ہے، اور اگر طلاق رجعی نہیں ہے تو دوسرے نکاح کی ضرورت ہے .

دسته‌ها: رجوع کے احکام

دوا کی حساسیت کی تعیین کا ممکن نہ ہونا۔

موجودہ دور کے مطابق جس میں کسی ایک خاص دوا کی حساسیت کا تعین کرنا ممکن نہ ہو تو کیا نقصان کی صورت میں ڈاکٹر قصور وار شمار ہوگا؟

اگر وہ دوا اپنی نوعیت مں منحصر نہ ہو اور مریض کے لیے فوری معالجہ بھی ضروری نہہو تو اس دوا کا انسان کے لیے استعمال کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر دوا اپنی نوعیت میں منفرد و منحصر ہو اور اس کا استعمال کرنا ضروری ہو اور فایدہ کا احتمال نقصان سے زیادہ ہو تو اسے استعمال کرنا چاہیے ۔

ہمسر (شوہر وبیوی) پر ناجائز تعلقات کا الزام لگانا

اگر کوئی شخص اپنی زوجہ پر ناجائز تعلقات کا الزام لگائے اور عدالت میں اس الزام کو ثابت نہ کرسکے ؟الف)کیااس شخص کے لئے دوبارہ اپنی زوجہ کے ساتھ زندگی بسر کرناممکن ہے ؟ب)کیا شرعی لحاظ سے زوجہ کے اوپر واجب ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ ازدواجی زندگی جاری رکھے ؟ج) خصوصاً اس مورد میں کیا زوجہ طلاق کا تقاضا کرسکتی ہے اور اپنے حقوق، مہر، جہیز اور دولت وثروت کو حاصل کرسکتی ہے ؟

جواب:الف۔اگر مشاہدہ کا دعویٰ نکرے تو کوئی خاص رسم کیےٴ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس پر جو الزام لگا یا ہے اس سلسلہ میں زوجہ حاکم شرع کے یہاںحد قذف (الزام لگانے کی سزا) کا تقاضا کر سکتی ہے (اس کی سزا اسّی کوڑے ہیں) مگر یہ کہ زوجہ اس کو معاف کردے .جواب: ب:۔جی ہاں لازم ہے ( ازدواجی) زندگی جاری رکھے .جواب:ج۔اگر شوہر طلاق دینے پر راضی ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے .

دسته‌ها: تهمت

ریٹائرمینٹ کی سرکاری حیثیت

ریٹائرمینٹ کی شرعی حیثیت اور دونوں فریق کے حقوق کے بارے میں توضیح دیں؟

ریٹائرمینٹ کے مسائل کو بھی دو طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے:الف: پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اصل قرارداد کے ضمن میں ایک نئے عقد کا عنوان دیا جائے، جس میں عقد کی تمام شرطوں کا لحاظ کیا گیا ہو جیسے دونوں فریق بالغ ہوں، عاقل ہوں۔ ریٹارمینٹ کے مسائل کے باب میں جو ابھامات پائے جاتے ہیں جسیے یہ کہ اس عقد میں سفاہت کے حکم نہیں لگ سکتے، اس لیے کہ اس کا عقلی حکم واضح ہے اور یہ بات اس عقد کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے۔ در حقیقت یہ عقد اور قرارداد بیمہ کے عقد اور قرارداد کی طرح ہے جو ایک مستقل عقد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس آیہ کرہمہ (اوفوا بالعقود) کے ضمن میں آتا ہے۔ مذکورہ عقد میں ادا کی جانے والی کل رقم کے واضح نہ ہونے اور اس جیسے پیش آنے والے دوسرے مسائل سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سے ربا کا مسئلہ نہ ہی عقد بیمہ میں جاری ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریٹائرمینٹ کے عقد میں۔ب۔ یہ مسئلہ اپنی تمام خصوصیات اور قوانین و ضوابط کے ساتھ شرط ضمن عقد کی صورت میں قرارداد میں شامل کیا جائے گا اور اس میں جو ابھامات یا شکوک پائے جاتے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کی راہ میں مانع نہیں بنتے۔ جیسا کی اوپر بیان کیا گیا۔

دسته‌ها: حکومتی قوانین
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت