زندہ چوہے کے ذریعہ سرایت کرنے کا حکم
اگر زندہ چوہا کھانے کے اندر گرجائے اور زندہ ہی باہر آجائے کیا وہ کھانا پاک ہے؟
جواب: پاک توہے لیکن آلودہ ہے اور بہتر ہے کہ اس کھانے سے پرہیز کیا جائے۔
جواب: پاک توہے لیکن آلودہ ہے اور بہتر ہے کہ اس کھانے سے پرہیز کیا جائے۔
جواب: کسی بھی ملزم کو ، شرعی طور پر اس کا جرم ثابت کئے بغیر، زدوکوب نہیں کیا جاسکتا مگر دوصورتوں میں:الف) جبکہ ملزم ایسے جرائم، جیسے لوگوں کے گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہونا، کار، گاڑی وغیرہ کا دروازہ کھول لینا یا غیر اخلاقی جرائم کا مرتکب ہوا ہو اور خود اس کے اعتراف کرنے سے اس قسم کے جرائم، ثابت ہوگئے ہوں نیز تعزیرات اور سزا کی دلیلیں اس کو شامل ہوں، اس صورت میں تعزیر کے عنوان سے اس کو سزا دی جاسکتی ہے اسی کے ذیل میں اس سے بازپرس کی جائے تاکہ جرائم کو وضاحت سے بیان کرے ۔ب) جبکہ مسئلہ اس قدر مہم ہو کہ اسلام یا اسلامی حکومت یا وسیع سطح پر مسلمانوں کی جان ومال سے تعلق رکھتا ہو، اس صورت میں، اہم ومہم کے قاعدہ کے مطابق، مذکورہ قسم کی سزا وتعزیر کا امکان ہوسکتا ہو، ضمناً یہ بھی بیان کردیا جائے کہ دور حاضر میں، ایسے طریقہ دنیا میں پائے جاتے ہیں جن کے ذریعہ، ملزم کو زد وکوب کئے بغیر، اس سے زیادہ بازپرس کرکے اس کے بیان حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔
اگر ایک وار سے دونوں عارضے وجود میں آئے ہوں تو ایک دیت ہے۔
اگر ان سے مزاحمت ہو تو انہیں مار دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جواب: اقرار اشکال رکھتا ہے اور اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔
جواب : یہ حکم مجتہد مطلق ( جو فقہ کے تمام موضوعات میں اجتہاد کی صلاحیت رکھتا ہو) اور متجزی ( یعنی جو فقہ کے بعض موضوعات میں صاحب نظر ہو ) دونوں کو شامل ہے۔
اگر وہ دوا اپنی نوعیت مں منحصر نہ ہو اور مریض کے لیے فوری معالجہ بھی ضروری نہہو تو اس دوا کا انسان کے لیے استعمال کرنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر دوا اپنی نوعیت میں منفرد و منحصر ہو اور اس کا استعمال کرنا ضروری ہو اور فایدہ کا احتمال نقصان سے زیادہ ہو تو اسے استعمال کرنا چاہیے ۔
جواب: جب تک وہ گھر میں موجود ہے حرز شما رہوگا اور چونکہ چور حرز سے خارج نہیں ہوا ہے لہٰذا حد بھی نہیں رکھتا۔
ریٹائرمینٹ کے مسائل کو بھی دو طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے:الف: پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اصل قرارداد کے ضمن میں ایک نئے عقد کا عنوان دیا جائے، جس میں عقد کی تمام شرطوں کا لحاظ کیا گیا ہو جیسے دونوں فریق بالغ ہوں، عاقل ہوں۔ ریٹارمینٹ کے مسائل کے باب میں جو ابھامات پائے جاتے ہیں جسیے یہ کہ اس عقد میں سفاہت کے حکم نہیں لگ سکتے، اس لیے کہ اس کا عقلی حکم واضح ہے اور یہ بات اس عقد کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے۔ در حقیقت یہ عقد اور قرارداد بیمہ کے عقد اور قرارداد کی طرح ہے جو ایک مستقل عقد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس آیہ کرہمہ (اوفوا بالعقود) کے ضمن میں آتا ہے۔ مذکورہ عقد میں ادا کی جانے والی کل رقم کے واضح نہ ہونے اور اس جیسے پیش آنے والے دوسرے مسائل سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سے ربا کا مسئلہ نہ ہی عقد بیمہ میں جاری ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریٹائرمینٹ کے عقد میں۔ب۔ یہ مسئلہ اپنی تمام خصوصیات اور قوانین و ضوابط کے ساتھ شرط ضمن عقد کی صورت میں قرارداد میں شامل کیا جائے گا اور اس میں جو ابھامات یا شکوک پائے جاتے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کی راہ میں مانع نہیں بنتے۔ جیسا کی اوپر بیان کیا گیا۔
جب بھی حاکم شرع تشخیص دے کہ یہ کام یک مہم اجتماعی مصلحت پر مترتب ہے تو اس کام کو انجام دے سکتا ہے لیکن وہ قصاص جو ذاتی مقاصد کے لئے انجام پائیں یہ حکم ان کو شامل نہیں ہوتا اور کیا بہتر ہے کہ قصاص سے صرف نظر کرکے دیت پر ہی راضی ہوجائیں۔
جواب:الف۔اگر مشاہدہ کا دعویٰ نکرے تو کوئی خاص رسم کیےٴ بغیر اس کے ساتھ ازدواجی زندگی کو جاری رکھ سکتا ہے، لیکن اس پر جو الزام لگا یا ہے اس سلسلہ میں زوجہ حاکم شرع کے یہاںحد قذف (الزام لگانے کی سزا) کا تقاضا کر سکتی ہے (اس کی سزا اسّی کوڑے ہیں) مگر یہ کہ زوجہ اس کو معاف کردے .جواب: ب:۔جی ہاں لازم ہے ( ازدواجی) زندگی جاری رکھے .جواب:ج۔اگر شوہر طلاق دینے پر راضی ہو جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے .
جواب:۔جس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی ہے وہ رقم لیکر رجوع کرسکتا ہے، اور اگر طلاق رجعی نہیں ہے تو دوسرے نکاح کی ضرورت ہے .
زیارت مطلقہ کے قصد سے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور بہتر یہ ہے کہ قصد رجاء کی نیت سے پڑھے۔
اگر آپ کے لئے واقعاً ثابت ہوجائے کہ ان میں غیر دینی مقاصد انجام دئے جائیں تو ایسی نشستوں میں شریک نہ ہوں ۔
جواب:آپ اس مسئلہ کے جواب کے لئے ہماری کتاب ”انوار الفقاھة“ میں رجوع کریں۔