کچن اور حمام کےکنویں کا ایک ہونا
صحن تنگ ہونے یا تنگ نہ ہونے کی صورت میں کچن اور حمام کا کنواں ایک ہونے کا کیا حکم ہے؟
کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان دونوں کنووں کا جدا جدا ہونا بہتر ہے۔
کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان دونوں کنووں کا جدا جدا ہونا بہتر ہے۔
جواب الف: اس سے مراد یہ ہے کہ تساہلی سے کام نہ لے اور اس کو تاخیر میں نہ ڈالے ۔جواب ب: اگر نماز واجب کے دوران زلزلہ آجائے تو نماز واجب ختم کرنے کے بعد نماز آیات بجالائے ۔جواب ج : ایسے شخص پر نماز آیات واجب نہیں ہے، اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ اس کو بجالائے ۔
جواب:۔ کلاس میں، آداب عفت کی رعایت کرنا واجب ہے .
جواب: حرام ہے اور تعزیر کا باعث ہے ، مگر ان موقعوں پر جب کوئی مھم غرض ہو یا س کو سرکہ میں تبدیل کرنا چاہتے ہوں۔
اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ایسی حالت میں منی پیشاب کے ساتھ نکلتے وقت پیشاب میں مل جاتی ہے تو اس صورت میں غسل کا سبب نہیں ہے ، لیکن اگر بغیر پیشاب کے منی نکلے یا منی کی شکل میں بغیر پیشاب کے فقط منی نکلے تو غسل واجب ہوگا اور اگر متعدد بار غسل کرنا سخت عسروحرج کا باعث بن رہا ہو تو غسل کے بدلے تیمم کرے ۔
جواب : اگر وہ لوگ اسلام کے مثبت ثقافتی امور انجام دیتے ہیں اور نمازیوں کے لئے زحمت کا باعث بھی نہیں ہے تو جائز ہے، بانی مسجد کی رضایت بھی ضروری نہیں ہے ۔
جواب :جائز نہیں ہے ،اس کے لئے دوسری جگہ نظر میں رکھی جائے وہ جگہ (فاطمیہ )وقف کے حکم میں ہے ۔
جواب: یقینی ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب :خواتین کے لئے حالت حیض میں مسجد میں ٹہرنا حرام ہے اور اگر مسجد کا فرش خون سے آلودہ ہوجائے تو پاک کرنا واجب ہے اور جاہل و نادان اشخاص کو ان مسائل سے آشنا کرنا ضروری ہے ۔
اس میں اشکال ہے مگر یہ کہ جاری پانی یا کر پانی کی کافی مقدار کے ساتھ ملا ہوا ہو ۔
جواب:۔ جائز نہیں ہے اس کو صبر کرنا لازم ہے، جب تک خداوند عالم اس کیلئے کوئی گشائش و راستہ فراہم کرے .
اگر گناہ کا سبب نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
جواب : جو مراجع تقلید علمی نشستوں میں مشہور ہیں ان میں سے ایک کی طرف رجوع کرسکتے ہیں ۔
جواب : قاضی اگر خود مجتہد ہے تو اپنے نظریہ کے مطابق حکم کرے گا اور ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگرغیر مجتہد قضاوت کے منصب پر فائز ہوجائے تو وہ اپنے مرجع تقلید کے نظریہ پر عمل کرے گا اور اگر حکومت اسلامی کے قوانین اور مرجع تقلید کے نظریہ میں اختلاف پایا جاتا ہو تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ وہ احتیاط پر عمل کرے اور اگر اسکے لئے یہ ممکن نہ ہو یا ضررو نقصان یا عسر و حرج کا باعث ہو ، تو ایسی صورت میں عمومی اور اجتماعی مسائل میں حکومت اسلامی کے قوانین مقدم ہیں ۔ اور خصوصی مسائل میں وہ اپنے مرجع کے نظریہ کے مطابق عمل کرے ۔
جواب: چنانچہ بھائیوں نے اس مرحوم کا حق ضائع کیا ہے لہٰذا اس کے وارثین شرعاً اپنا حق واپس لے سکتے ہیں۔