سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

قرض الحسنہ بینک کا کام انجام دینے کی اجرت لینا

چند لوگ ایک دوسرے کی مدد سے ایک قرض الحسنہ بینک ، بناتے ہیں ، اور جو لوگ قرض الحسنہ بینک کے عضو ء ہیں ، ان کو قرض دیتے ہیں ، کیا وہ فائدہ جو اپنے کام کی اجرت کے طور پر لیتے ہیں ، وہ حرام ہے ؟ یہ بتانا ضروری ہے کہ اس طرح کے بینکوں کا کوئی ملازم نہیں ہوتا ، کہ اس کی تنخواہ دی جائے ، لہذا اس بناء پر جو فائدہ لیا جاتا ہے اس کے حلال ہونے کی صورت میں ، کس سلسلے میں اس کو استعمال کیا جائے ؟

کام کی اجرت ( مزدوری ) سے مقصود وہ حق الزحمت ہے جو بینک یا قرض الحسنہ وغیرہ کے ملازموں کو ، تنخواہ کے عنوان سے اس زحمت کے بدلے جو حساب کو محفوظ اور دیگر خدمات کے بدلے ، دیا جاتا ہے ، چنانچہ اسی قصد اور نیت سے ، مزید رقم لی جائے اور تنخواہ کے عنوان سے ملازموں اور دیگر اخراجات میں خرچ کیا جائے تو کوئی ممانعت نہیں ہے ، لیکن جوصورت آپ نے تحریر کی ہے اس میں اشکال ہے۔

دسته‌ها: قرض الحسنه

مقر کا غیر معین مقر لہ کے لیئے اقرار کا حکم

مردّد شخص کے لئے اقرا رکے آثار (نتائج) بیان فرمائیں:الف) کیا ایسا اقرار صحیح ہے؟ب) صحیح ہونے کی صورت میں مقرّلہ کا معین کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور یہ کیسے انجام پائے گا؟ج) اقرار کے معین ہونے کے بعد مقرّ یا مقرلہ یا مخاطبین کے درمیان اختلاف کی صورت میں کیا حکم ہے؟د) اگر کوئی اور شخص مقرّلہ ہونے کا ادعا کرے، اس کا ادّعا کیا اثر رکھتا ہے؟ کیا اس صورت میں مقرّلہ پر عنوان مدّعی، وطرف دیگر پر عنوان منکر صادق آتا ہے، نتیجةً کیا یہاں پر مخاصمہ (مقدمہ) کی صورت پیدا ہوجائے گی؟ھ) اگر مقرّلہ کے علاوہ مقرّبہ بھی مردّد ومبہم ہو، تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟و) اگر مقرّ، مقرّلہ کے معین کرنے سے خودداری کرے یالاعلمی کا اظہار کرے اور وہ دونو ں (یعنی مردّد اشخاص ) اس کی تصدیق کریں تو کیا تعیّن لازمی ہوجائے گا، یا یہاں پر کوئی اور حکم ہے؟ز) اگر مقرّ معین کرنے سے خودداری کرے یا لاعلمی کا اظہار کرے، وہ دونوں یا ان میں سے ایک مقرّ کے عالم ہونے کا ادعا کریں، کیاقسم کے ذریعہ مقرّ کا ادّعا قبول کیا جاسکتا ہے؟۔ح) کیا اقرار کے لئے مخاطبین کی تصدیق یا عدم تصدیق ، مقرّ کی لاعلمی کے اظہار کی بہ نسبت کوئی اثر رکھتی ہے؟

جواب: مبہم شخص کے لئے اقرار کرنا جائز ہے ، لیکن حاکم شرع ،مقرّ کو مُلزَم (مجبور) کرے گا کہ اپنے اقرار کے لئے مناسب تشریح بیان کرے، تشریح سے امتناع کی صورت میں حاکم شرع اس کو قید یا تعزیر کرسکتا ہے، بہرحال اس کے اقرار کی قدر متیقّن حجت ہے اور اس کے مطابق عمل بھی کیا جاسکتا ہے، مگر قسم کے حکم کا اجراء ان جیسے موارد کے لئے مشکل ہے۔

دسته‌ها: اقرار کے احکام

بدن کے لیے پانی کا استعمال مضر ہونے کی صورت میں تیمم کرنا

جس شخص کو ( بیماری کی وجہ سے ) پیشاب کے ساتھ ہمیشہ منی کے اجزاء خارج ہوتے ہوں ،اور صحتیاب ہونے کی امید بھی نہ ہو، کیا وہ تیمم سے اپنے اعمال بجالاسکتا ہے ؟ چونکہ مفروض یہ ہے کہ ہمیشہ غسل جنابت کرنے سے اس کو ناقابل تلافی جسمانی ضرر ہوسکتاہے ؟

جواب : مذکورہ صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ جس قدر غسل کرنا باعث ضرر نہیں ہے غسل کرے ، اور جب باعث ضرر ہو تیمم کرنا جائزہے لیکن احتیاط کے طور پر وضو بھی کرلے یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ منی کے ذرّات پیشاب میں مل کر مکمل طور پر ختم نہ ہوئے ہوں ،اور اگر منی کے ذرّے ، پیشاب میں ملکر بالکل ختم ہوگئے ہیں ۔ تو اس پر غسل ضروری نہیں ہے ، اسی طرح اگر اسے شک ہو کہ وہ منی کے قطرے ہیں ( یا دوسری ( مذی وغیرہ) چپکنے والی چیز ہے جو کبھی کبھی پیشاب کے راستہ سے خارج ہوتی ہے ، توبھی غسل نہیں ہے ۔

دسته‌ها: تیمم کے احکام

عورت اور مرد کے درمیان عدم فرق کے کنوینشن کاشرعیت اسلام سےمطابق نہ ہونا

اس کنوینشن کے بہت سے مادّے ایسے ہیں کہ جوفقہی نظر سے تنقید کے قابل ہیں، درخواست ہے کہ نیچے دیئے گئے موارد میں اپنی مبارک نظر بیان فرمائیں:اس معاہدے کے پہلے بند کے مطابق، جنسیت کی بنیاد پر مرد اور عورت کے درمیان ہر طرح کا فرق، استثنا یا محدودیت، سیاسی، اقتصادی، اجتماعی، فرہنگی اور مدنی وغیرہ میدانوںمیں ختم ہونا چاہیے ۔اس مادّے پر توجہ رکھتے ہوئے ذیل کے موارد میں عورت اور مرد کے درمیان فرق جیسے بدن کے ڈھاپنے کاواجب میزان، صنف مخالف کے بدن کو دیکھنا، امامت جماعت، تمکین جنسی، بچوں پر ولایت، خاندان کی سرپرستی، حق حضانت، نکاح کے فسخ ہوجانے والے عیوب ،نشوز، دوسری شادی کے لئے ضروری عدت کا گذرنا، مرجعیت اور قضاوت کو غلط مانا جاتا ہے اور اس کو ختم ہونا چاہیے ۔آیا مذکورہ موارد میں مرد اور عورت کی مساوات، احکام شرع کے مطابق ہے؟

بے شک کامل مساوات نہ فقط فقہ شیعہ کی ضرورت کے مخالف ہے بلکہ ضرورت اسلام اور قرآن کی نص صریح اور روایات متواترہ کے مخالف ہے، اور علماء اسلام میں کوئی ایک بھی نہ آج ایسی مساوات کا قائل ہے اور نہ گذشتہ زمانہ میں کی کا قائل تھا، دراصل بین الاقوامی تنظیموں کو یہ سمجھا دیا جائے کہ قومیں اور ملتیں اپنی تہذیب اور مذہب کو الوادع نہیں کہہ سکتیں اور آنکھوں اور کانوں کو بند کرکے ایسے قوانین کو تسلیم نہیںکرسکتیںکہ جن کے بنانے میں وہ نہ ہی تو حاضر تھے اور نہ ہی منطق اور وجدان کی نظر سے ان میں قاطعیت پائی جاتی ہے، ممکن ہے بعض جزئی موارد میں علماء اسلام کے درمیان گفتگو کی گنجائش ہو، لیکن کامل طور سے مساوات کا جیسا کہ کہا گیا ہے کہ کوئی موافق نہیں ہے ۔

دسته‌ها: عورتوں کا حق
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت