سناروں کے اصلی سرمایہ پر خمس
کیا سناروں کے اصلی سرمایہ پر خمس ہے؟
جی ہاں خمس ہے؛ لیکن اگر ایک بار خمس دے دیا جائے تو وہی کافی ہے البتہ اس کے بعد فقط اس کے منافع پر خمس دینا ہوگا ۔
جی ہاں خمس ہے؛ لیکن اگر ایک بار خمس دے دیا جائے تو وہی کافی ہے البتہ اس کے بعد فقط اس کے منافع پر خمس دینا ہوگا ۔
اگر واقعا تنہائی سے ڈرتی ہو تو اس سال مستطیع نہیں ہو اور اگلے سال تک انتظار کرسکتی ہو ۔
جواب : اگر نغمگی کے ساتھ پڑھے تو اشکال ہے
جواب : جی ہاں، قتل کے قصد کا ثابت ہونا شرط ہے؛ ہر چند کہ قرائن اور شواہد کے ذریعہ کیوں نہ ہو۔
جواب:جب بھی ثابت ہوجائے کہ جانی چند معین اور مشخص افراد میں سے کوئی ایک ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اقرار نہ کرے، دیت بطور مساوی ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
جو شخص بھی کسی موٴمن کو عمداً قتل کردے، اس کا حکم قصاص ہے اور اگر وہ کسی خطا کا مرتکب ہوگیا ہو تو اس کے بارے میں حاکم شرع کے ذریعہ، حکم الٰہی جاری ہونا چاہیے ۔
جواب۔بعض گذشتہ مجتہدین جو اب حیات نہیں ہےںاور بعض زندہ مجتہدین حرام ہونے کا حکم نہیں دیتے شاید مذکورہ شخص ان کا مقلد ہو .
اگر پیسہ کا مالک کسی رقم کو صدقہ یا خمس کے عنوان سے الگ کردے، اس میں تصرف کرسکتا ہے؛ لیکن اسے کسی کی امانت میں تصرف کا حق نہیں ہے ۔
جواب : اگر ثابت ہوجائے کہ قاتل وہ ہی عورت ہے لیکن جب تک ثابت نہ ہوجائے کہ اس کا انگیزہ اپنی عزت کی حفاظت کرنا تھا، تو قصاص ہونا چاہئے۔
جواب : سب پر عمل کرنا واجب ہے سوائے ان موارد کے جن میں اسکے خلاف کا یقین ہو۔
الف) قصاص کا حکم اپنی جگہ پر باقی ہے اور مقتول کے وارث، اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔ب و ج) اگر زخم یا کسی عضو میں نقص یا گوئی دوسرا نقص پیدا ہوجائے تب احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے ۔البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ جب قاضی اور اس کے ملازموں کے ذریعہ، پھانسی کے حکم پر عمل در آمد کیا جائے اور حکم کو جاری کرنے میں عمداً کوتاہی نہ کی گئی ہو۔د) تمام دیتوں کی طرح ہے ۔
جواب: اگر وہ عورت اس مال کے مالکوں کو پہچانتی ہے تو وہ مال ان کو واپس کر دے اور اگر نہیں پہچانتی ہے تو وہ مال مجہول المالک یعنی جس کے مالک کا پتہ نہ ہو ، کے حکم میں ہے ، اور اگر اس کو اس مال کی بہت زیادہ ضرورت ہے توحاکم شرع اس بات کا لحاظ کرتے ہوئے کہ اس نے توبہ کی ہے ، اس مال کو رد مظالم کے عنوان سے عورت کو دے سکتاہے۔
جواب:۔ اگر مسجد میں جماعت کرانا آپ کی مرادہے تو اجازہ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کوئی دوسری چیز مقصود ہے تو تحریر کریں تاکہ جواب دیا جائے۔
ضروری ہے کہ صداقت کے ساتھ خبروں کو بیان کیا جائے اور ان کی مکاریوں سے غافل نہ رہیں، اور ان کے جھوٹ کو برملا کریں اور مطمئن رہیں کہ جھوٹ کا انجام برملا ہونا اور بے اعتباری ہے ۔