سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

جدہ شہر میں احرام باندھنا

کیا جدہ شہر سے ، عمرہ تمتع کا احرام باندھنا جائز ہے؟

جواب :۔ چونکہ شہرہ جدہ کی محاذات ، کسی بھی میقات سے ، ثابت نہیں ہے ، احرام باندھنے کے لئے میقات یا میقات کے محاذات پر جانا چاہےئے اور اگر دونوں میں سے کوئی بھی ممکن نہ ہو تو احتیاط کے طور پر نذر مان کر محرِم ہو جائے اور پھر اس کے بعد احتیاط کی بناپر حرم کے شروع میں دوبارہ نئے طریقہ سے احرام باندھے۔

زمین ، گھر کا سامان اور سونے کے زیورات ، بیچ کر جو رقم حاصل ہو ئی ہے کیا اس پر خمس واجب ہے ؟

جواب:۔ اگر وہ زمین ، رہائشی گھر کے لئے ضروری تھی ، تو فروخت کرنے کے بعد ، اس پرخمس نہیں ہے اسی طرح اس رقم پر بھی خمس نہیں ہے، جو گھر میں استعمال ہونے والا سامان ، اور سونے کے زیورا ت بیچ کر حاصل ہو ئی ہے ۔

عزاداری میں خرافات سے پرہیز

ایسے حالات میں کہ جب اسلام کے دشمن مسلمانوں کومنتشر اور نابود کرنے کی کوشش میں ہیں اور طرح طرح کے بہانوں سے اسلام کو خرافاتی دین اور مسلمانوں کو بے منطق لوگوں کی حیثیت سے رو شناس کرانا چاہتے ہیں ایسے دور میں ایسے بعض اعمال کو انجام دینا جو دین میں موجود نہیں تھے اور بعض علاقوں میں کچھ لوگ اسلام کے شعائر کی تعظیم کے نام پر ان اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں جن سے شیعہ مذہب اور عزاداری کی توہین کے اسباب فراہم ہو جاتے ہیں اس سلسلے میں کیا حکم ہے ؟

جواب۔ ان شرائط اور حالات میں لازم ہے کہ اہلبیت کے (ع) کے پیرو اور مکتب حسینی کے عاشق افراد پر ہر اس کام سے پرہیز کرے جو عزاداری کے پروگرام کی سستی یا توہین کا باعث ہوتے ہیں اور ان کے بجاے ایسے پروگرام کی جانب جائیں کہ جن سے حسینی مقاصد کی عظمت پہلے سے زیادہ آشکار ہو جائے اور اگر گذشتہ زمانے کے کچھ بزرگ مجتہدوں نے اپنے زمانے میں بعض دلائل و وجوہات کی بناء پر اس طرح کے بعض کاموں کی اجازت دی تھی وہ ہمارے زمانے میں ہوتے تو یہ مسلم ہے کہ انکا نظریہ دوسرا ہوتا خدا وند عالم ہم سبکو سید الشہداء علیہ السلام کے مکتب کے پیروکاروں اور ان کے جاں نثاروں میں قرار دے

دسته‌ها: عزاداری

مطلّقہ ماں کیلئے بیٹے کی میراث

پچیس (٢٥) سال پہلے ایک خاتون نے اپنے شوہر سے طلاق لے لی تھی، اس کے شوہر نے دوسری شادی کی اور دوسری بیوی سے ایک بیٹی ہوئی پھر اس کو بھی بیس سال پہلے طلاق دیدی، اس کے بعد تیسری شادی کی ہے، پھر وہ شخص اور اس کا بیٹا، گاڑی کے گرنے اور اس میں دبنے کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ان میں کون پہلے مرا ہے اور کس کا انتقال بعد میں ہوا ہے، اس لڑے کی ماں یعنی مطلقہ خاتون کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کا تو کوئی مال یا دولت نہیں ہے اس لئے کہ وہ غیر شادی شدہ تھا اور اپنے والد کے ساتھ رہتا تھا لہٰذا اس کو باپ کی میراث ملنا چاہیے، کیا اس کو میراث ملے گی؟ (ملحوظ رہے کہ اس مرحوم شخص کے وارث یہ ہیں: دو بیٹیاں، مرحوم کی ماں اور وہ زوجہ جو اس وقت اس کے گھر موجود ہے)؟

جواب: اس شخص کی میراث، اس کی دوبیٹوں، ایکسیڈنٹ میں مرنے والا بیٹا، اس شخص کی ماں اور اس کی زوجہ کو ملے گی، میراث کا آٹھواں حصہ، زوجہ کو، چھٹا حصّہ ماں کو اور باقی مال کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گا حس میں سے دو حصّہ، اس کے مرحوم بیٹے کے ہیں جو اس کی ماں کو ملیں گے (یہ اس وقت ہوگاکہ جب اس کی وارث فقط ماں ہو) اور باقی ایک ایک حصّہ اس کی بیٹیوں کو ملے گا ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت