سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

والدین کا نیک کام سے روکنا

اگر والدین نیک کاموں سے روکیں مثلا پڑھنے سے منع کریں، تو اولاد کا کیا فریضہ ہے؟

ان معاملات میں والدین کی اطاعت ضروری نہیں ہے، البتہ حتی الامکان ان سے اس طرح سے پیش آئے کہ انہیں رنج نہ پہچے اور ضروری پے کہ نیک کام کے فاید انہیں بتائے تا کہ مسئلہ ان کے لیے واضح ہو جائے اور وہ منع کرنے سے باز آ جائیں؟

دسته‌ها: حق والدین

ماں کی جان بچانے کے لیے حمل کو ساقط کرنا

اگر ڈاکٹر قطعی طور پر کہے کہ بچہ کے پیٹ میں رہنے کی صورت میں ماں کی جان جا سکتی ہے تو درج ذیل مسائل کا حکم کیا ہوگا:الف: کیا بچہ کا رحم مادر میں ختم کر دینا جائز ہے تا کہ ماں کی جان بچ سکے؟ب: کیا ماں کو اسی حالت پر چھوڑ دینا جائز ہے تا کہ اس بچہ کی ولادت ہو جائے اور ماں مر جائے؟ج: اگر ماں کو اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے اور ماں اور بچے دونوں کے مرنے کا احتمال ہو تو حکم کیا ہوگا؟ (موت و حیات کا احتمال دونوں کے لیے مساوی ہو)د: اگر بچہ میں روح پڑ چکی ہو یا نہ پڑی ہو تو اس سے مسئلہ پر کوئی فرق پڑے گا؟

جواب: الف۔ اگر بچہ کی خلقت کامل نہ ہوئی ہو تو سقط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ب۔ اگر بچے نے ابھی انسانی شکل و صورت اختیار نہ کی ہو تو ماں کی جان بچانے کے لیے اس کا سقط کرنا جائز ہے۔ج۔ اگر یہ معلوم ہو کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی بچ سکے گا تو ان کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا جائے گا تا کہ جس کو بچنا ہو وہ بچ جائے اور اس میں کسی انسان کا کوئی دخل نہ ہو اور اگر حالات یہ ہوں کہ یا دونوں مریں گے یا صرف بچہ مرے گا تو اس صورت میں بچہ کو سقط کرانا جائز ہے تا کہ ماں کی جان بچائی جا سکے۔د۔ مذکورہ بالا جوابات سے اس کا جواب بھی روشن ہو چکا ہے۔

دسته‌ها: حامله کے احکام

زنا کے ثابت ہونے کے بعد توبہ کا دعوا

اگر کبھی زنا کا الزام ثابت ہونے کے بعد اور ملزم اور ملزمہ توبہ کا دعوا کریں ، کیا معافی کا تقاضا حکم کے صادر ہونے سے پہلے کرنا چاہیے یا حکم کے صادر ہونے کے بعد بھی وہ یہ حق رکھتے ہیں؟

جواب: اگر توبہ کا یہ دعوا صدور حکم کے بعد کریں اور ان کا یہ دعویٰ ثابت نہ ہوسکے تو اس صورت میں حد ساقط نہیں ہوگی، لیکن اگر وہ گرفتار ہونے سے پہلے ثابت کردیں تو حد ساقط ہوجائے گی۔

دسته‌ها: زنا کی حد

”صراط“ کا ”س“ کے ساتھ تلفظ کرنا

چونکہ کلمہٴ ”صراط“ کا تلفظ ”س“ سے بھی صحیح ہے اور ”ص“ سے بھی، اب اگر کوئی شخص ان دونوںمیں کسی ایک کا بھی قصد نہ کرے، کیا جو کچھ زبان پر آجائے صحیح ہے، اگر اس نے ”س“ کا قصد کیا اور ”ص“ تلفظ ہوگیا یا اس کے برعکس تو کیا حکم ہے؟

”صراط“ کا ”س“ کے ساتھ تلفظ کرنا ہمارے یہاں خلاف احتیاط ہے؛ لیکن اگر کوئی ایسے مجتہد کا مقلّد ہو جو دونوں کوصحیح جانتا ہو تو مطلق کی نیت کرسکتا ہے جو بھی تلفظ ہوگیا ہ ہی منظور تھا، تو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔

جمع کی گئی رقم پر خمس

ایک شخص کے پاس کچھ مقدار میں رقم ہے جو قرض تنخواہ اور اضافی اوقات میں ، کام کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہو ئی ہے ، کیا اس رقم پر خمس واجب ہے ؟

جواب:۔ جس قدر قرض لیا تھا اور اس قرض کی قسطیں جمع نہیں کی ہیں رقم کی اس مقدار میں خمس نہیں ہے، لیکن اس رقم پر جو تنخواہ یا اضافی وقت میں کام کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہو ئی ہے یا وہ قرض جس کی قسطیں جمع ہوچکی ہیں خمس واجب ہے ۔

آزمایشگاہ میں رشد شدہ نطفہ کا ضایع کرنا

ڈاکٹر حضرات آزمایشگاہ میں مرد اور عورت کی منی کو مشین میں رکھ کر اسے رشد دیتے ہیں، اس مقدمہ کے ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف: اس مشین میں رشد شدہ نطفہ کو پھینکنے کا کیا حکم ہے؟ یا وہ سقط جنین کے حکم میں آ جائے گا اور اس کے طفل کامل (ذی روح) ہونے تک اس کی محافظت ضروری ہے؟ب: اگر اس کا پھینکنا جائز نہ ہو تو کیا اس کے بدلہ سقط جنین کی دیت دینا واجب ہے، واجب ہونے کی صورت میں دیت کس کے ذمہ ہوگی؟ج: جنین (بچہ) کے سقط کرنے میں روح پڑنے یا نہ پڑنے کے سلسلے میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟د: مذکورہ بالا سوال کی روشنی میں کیا اجبنی مرد اور عورت کی منی کو ایک دوسرے کے ساتھ جمع کرنا اور مشین میں رشد دینا جائز ہے؟ھ: اگر منی اجنبی مرد اور عورت کی ہو تو اس صورت میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب: الف۔ اس کی حفاظت واجب نہیں ہے۔ب۔ گزشتہ جواب سے واضح ہو گیا کہ دیت واجب نہیں ہے۔ج: جب تک زندہ انسان کی صورت میں نہ ہو جائے، اس کی حفاظت پر دلیل موجود نہیں ہے۔د: ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ھ: اشکال سے خالی نہیں ہے۔

دسته‌ها: جنین کی دیت

ڈاکٹر کا بعد میں پیش آنے والے ناقص حمل کی خبر دینا

اگر ڈاکٹر قطعی طور پر یہ کہ دے کہ آپ کے آئندہ بچے ناقص الخلقت ہوں گے تو مندرجہ ذیل سوالوں کا حکم کیا ہوگا:الف: کیا ڈاکٹر پر واجب ہے کہ وہ والدین کے سوال کرنے پر انہیں پوری اطلاع فراہم کرے؟ب: اگر وہ سوال نہ کریں تو کیا تب بھی ڈاکٹر کے لیے انہیں بتانا واجب ہے تاکہ وہ پرہیز کر سکیں اور اگر اس پر واجب نہیں ہے تو کیا اس کے لیے بتانا حرام ہے؟ج: اگر ڈاکٹر کو یقین ہو کہ وہ بتانے کی صورت میں ہر بار بچہ سقط کرا دیں گے تو یہاں پر اس کا کیا شرعی فریضہ ہے؟

جواب: الف۔ ڈاکٹر کے لیے بتانا واجب نہیں ہے مگر یہ کہ نہ بتانے سے مریض کو کوئی بہت بڑا نقصان پہچ سکتا ہو۔ب: اس طرح کے موارد میں اگر مسئلہ نہایت اہم ہو تو ڈاکٹر کو چھپانا نہیں چاہیے ۔ج: ڈاکٹر کو اپنے شرعی فریضے پر عمل کرنا چاہیے اور اگر مریض خلاف ورزی کر رہا ہے تو ڈاکٹر ذمہ دار نہیں ہے ۔ البتہ ڈاکٹر اپنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ پر عمل کرے گا ۔