سر پر مسح کا مقام
کیا سر کا مسح صرف اس کے اگلے حصے پر ہونا چاہئے یا پچھلے حصے پا اس کے دونوں اطراف پر بھی ہوسکتا ہے؟
جواب: مسح کی جگہ سرکا صرف اگلا حصہ ہے۔
جواب: مسح کی جگہ سرکا صرف اگلا حصہ ہے۔
جواب : عقلی دلیل اور دنیا کے تمام عقلاء کی بنا پر کہ جاہل کو ہر مساٴلہ میں عالم کی طرف رجوع کرنا چاہئے کیا آپ جب مریض ہوتے ہیں تو کیا ڈاکٹر کے حکم پر عمل نہیں کرتے لہذا دین کے احکام کو بھی اس کے ماہرین سے حاصل کرنا چاہئے۔
جواب: کسی بھی حال میں بچہ کا اقرار معتبر نہیں ہے۔
جب تک انسان کو کسی بات کا یقین نہ ہو اسے قطعیت کے ساتھ بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے احتمال کے ساتھ بیان کرنا چاہیے مگر یہ کہ اس کی بات پر قرینہ موجود ہو جو اس کے احتمال پر دلالت رکھتا ہو اور امتحان میں جس جواب کے صحیح ہونے کا قوی احتمال دے اسے لکھ سکتا ہے۔
بہتر ہے کہ معصومین اور اولیاء الله کا آپس میں مقائسہ نہ کیا جائے، یہ سب بزرگ اور انوار الٰہی ہیں ۔
جواب: احتیاط یہ ہے کہ قربانی کی ان بھیڑ بکریوں کو عزاداروں کو کھانا کھلانے میں استعمال کیا جائے ، مگر یہ کہ قرائن و شواہد سے معلوم ہوجائے کہ نذر کرنے والوں کا کوئی دوسرا مقصد تھا۔
اگر اس طرح کے سونے سے بنے ہوئے ذیورات ، مردوں کے علاوہ استعمال نہ ہوتے ہوں تو جائز نہیں ہے
جواب:۔ اس مورد میں جو آپ نے تحریر کیا ہے اپنی آواز کو آہستہ کریں اور یا ترنم میں نہ پڑھیں.
اگر واقعا اس نے صحیح عمل کیا ہے تو گزشتہ اعمال کے متعلق کوئی وظیفہ نہیں ہے ۔
ہمارے زمانے میں چونکہ قوانین پیچیدہ ہوگئے ہیں اور بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی جو اپنا دفاع کرسکیں، لہٰذا محکمہ عدالت کا وظیفہ ہے کہ فریقین کے وکیل کو قبول کرے ۔
اگر قوانین و ضوابط کے خلاف ہو تو ایسا کرنا جایز نہیں ہے اور اللہ کے یہاں جواب دہ ہوگا۔
ان لوگوں کے لئے جنھیں وکالت کی اجازت نہیں ہے، مذکورہ حکم تعزیری سزا کا پہلو رکھتا ہے، البتہ وکالت میں اجازت کی قید لگانا، عنوان ثانوی کی بناپر ہے، اس لئے کہ موجودہ حالات میں وکالت کو آزاد قرار دینا، سوء استفادہ اور عظیم نقصانات کا باعث ہوگا لہٰذا یہاں بیان شدہ مطلب کی بناپر مذکورہ بند کا جائزہونا، بعید نظر نہیں آتا ۔
اگر قانون کے تحت وہ اپنا پرانا حق لینا چاہتا ہو اور دونوں فریق نے اس قانون کو قبول مانتے ہوں تو مزدور سے کیے گیے وعدہ کے مطابق ٹھیکیدار کے لیے اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔
جی ہاں اجازت کی ضرورت ہے ، اور چنانچہ مذکورہ زمین ، متروکہ رہی ہو ، تو ہم اس میںعمارت بنانے کی اجازت دیتے ہیں ، اور انھیں کرایہ پر دینا اس صورت میں جائز ہے جب مذکورہ عمارت ( دکانیں ) مسجد اور امام زادہ کے کاموں کیلئے ضروری نہ ہوں ، اور کرایہ کی رقم امام زادہ اور مسجد میں خرچ کی جائے۔