سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

تقلید کے واجب ہونے کی دلیل

مہربانی فرماکر بتائیے کہ تقلید کیوں واجب ہے ؟

جواب : عقلی دلیل اور دنیا کے تمام عقلاء کی بنا پر کہ جاہل کو ہر مساٴلہ میں عالم کی طرف رجوع کرنا چاہئے کیا آپ جب مریض ہوتے ہیں تو کیا ڈاکٹر کے حکم پر عمل نہیں کرتے لہذا دین کے احکام کو بھی اس کے ماہرین سے حاصل کرنا چاہئے۔

دسته‌ها: تقلید کے معنی

ایسی بات کہنا جس کے جھوٹ کا احتمال ہو

چھوٹ گناہان کبیرہ میں سے ایک ہے اس سے کیا مراد ہے؟ اگر انسان کو کسی بات کے صحیح ہونے کا زیادہ احتمال ہو تو کیا وہ اسے بیان کر سکتا ہے مثلا ۵۰ فی صد سے زیادہ، خاص طور پر ان موارد میں آپ کی بات پکڑنے والے حاضر ہوں مثلا استاد شاگرد سے کوئی سوال پوچھے اور شاگرد ۵۰ فی صد سے زیادہ احتمال دے تو کیا وہ یقین سے بیان کر سکتا ہے؟

جب تک انسان کو کسی بات کا یقین نہ ہو اسے قطعیت کے ساتھ بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے احتمال کے ساتھ بیان کرنا چاہیے مگر یہ کہ اس کی بات پر قرینہ موجود ہو جو اس کے احتمال پر دلالت رکھتا ہو اور امتحان میں جس جواب کے صحیح ہونے کا قوی احتمال دے اسے لکھ سکتا ہے۔

دسته‌ها: جهوٹ بولنا

عدالت کی جانب سے وکیل قبول کرنا

فریقین کی جانب سے وکیل قبول کرنے کی صورت میں محکمہ عدالت کا کیا وظیفہ ہے ؟

ہمارے زمانے میں چونکہ قوانین پیچیدہ ہوگئے ہیں اور بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں معلومات نہیں ہوتی جو اپنا دفاع کرسکیں، لہٰذا محکمہ عدالت کا وظیفہ ہے کہ فریقین کے وکیل کو قبول کرے ۔

دسته‌ها: وکالت

قانون وکالت کے بند نمبر ۵۵ کی شرعی حقیقت

درج ذیل صورت میں قانون وکالت کے خصوصاً بند نمبر ۵۵ کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں اپنا مبارک نظریہ بیان فرمائیں: ”وہ وکیل جس کی وکالت کسی چیز پر موقوف ہے یا وہ اشخاص جنھیں وکالت کرنے کی اجازت نہیں یا کلی طور پر ہر وہ شخص جس کے پاس وکالت کی سند نہیں ہے، اس کے لئے وکالت کے کام میں کسی طرح کی بھی دخل اندازی کرنا منع ہے ۔ خواہ وہ کوئی جعلی پیشہ جیسے غیر قانونی مشیر وغیرہ اختیار کرے یا یہ کہ عقد شرکت یا عقود اسلامی میں سے کسی بھی عقد کی بنیاد پر اقتصادی سوسائیٹیوں میں اپنے آپ کو اصلی دعوے دار ظاہر کرے ۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ایک سے چھ مہینہ تک کی سزائے قید دی جائے گی“

ان لوگوں کے لئے جنھیں وکالت کی اجازت نہیں ہے، مذکورہ حکم تعزیری سزا کا پہلو رکھتا ہے، البتہ وکالت میں اجازت کی قید لگانا، عنوان ثانوی کی بناپر ہے، اس لئے کہ موجودہ حالات میں وکالت کو آزاد قرار دینا، سوء استفادہ اور عظیم نقصانات کا باعث ہوگا لہٰذا یہاں بیان شدہ مطلب کی بناپر مذکورہ بند کا جائزہونا، بعید نظر نہیں آتا ۔

امام زادہ (وقف) کی زمین پر دکانیں بنوانا اور ان کا کرایہ

دو مومن آدمی جو جہرم کے مقام پر واقع مسجد کے روزانہ کے کام انجام دیتے ہیں اور امام زادہ اسماعیل کے مرقد کے انتظامات دیکھتے ہیں ، امامزادہ اسماعیل کے مرقد کے متروکہ قبرستان کے ایک گوشہ وکنارے پر اپنے پیسہ سے دو دکانیں بنواتے ہیں ، اس کے بعد ان دونوں دکانوں کو ، سستے دام پر بیچنے والی کمپنی کے ذمہ داروں کو کرایہ پر دیدیتے ہیں ، انھوں نے کرایہ کی رقم کو مسجد اور امام زادہ کے مرقد کے اخراجات کے لئے منظور کیا ہے ، اب اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ مسجد اور امام زادہ کے مرقد کا متولی ، شرعی نہیں ہے اور ان کا وقف نامہ بھی موجود نہیں ہے ، مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات عنایت فرمائیں :الف ) کیا دکانیں بنوانا اور خصوصاً ان کو کرایہ پر دینے کے لئے ، مجتہد جامع الشرائط سے اجازت لینا ضروری ہے ؟

جی ہاں اجازت کی ضرورت ہے ، اور چنانچہ مذکورہ زمین ، متروکہ رہی ہو ، تو ہم اس میںعمارت بنانے کی اجازت دیتے ہیں ، اور انھیں کرایہ پر دینا اس صورت میں جائز ہے جب مذکورہ عمارت ( دکانیں ) مسجد اور امام زادہ کے کاموں کیلئے ضروری نہ ہوں ، اور کرایہ کی رقم امام زادہ اور مسجد میں خرچ کی جائے۔