حیوانات کے پالنے کا خرچ
حیوانات کے پالنے میں ہر مہینے ایک معیّن رقم خرچ کرنا پڑتی ہے، جیسے قناری یا طوطے کے لئے دانہ خریدنا، خرگوش کے لئے کاہو اور سبزہ خریدنا، اس طرح کے خرچ کا کیا حکم ہے؟
یہ خرچ اگر اسراف کی حد تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ خرچ اگر اسراف کی حد تک نہ پہنچے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
کسی بھی مسلمان کے رازوں کو فاش نہیں کیا جاسکتا؛ علاوہ اُن جگہوں کے جہاں اہم مصلحت درکار ہو۔
جب اس میں یہ قید لگائیں کہ یہ خبر گمان اور احتمال کی صورت میں ہے اور اس پر کوئی مفسدہ بھی مترتب نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
مسئلہ کے فرض میں، جبراً اور زور زبردستی والے زنا کا حکم جو سزائے موت ہے، عورت کے بارے میں جاری نہیں ہوگا، فقط اس کی حد (سزا) جاری ہوگی (سنگسار یا کوڑے جیسا مورد ہوگا ویسی ہی سزا دی جائے گی
اسے چاہیے کہ توبہ کرے اور نیک کاموں سے اس طرح کے کاموں کا ازالہ کرے۔
اس طرح کے الفاظ اور تعبیرات کا استعمال اھل بیت (ع) کے ماننے والوں کے شایان شان نہیں ہے، ایسے لوگوں کو سمچھایا اور اس طرح کے کاموں سے روکا جائے۔ اھل بیت (ع) کی منزلت بیان کرنے کے اور بھی بہت سے معقول اور مناسب ذرایع موجود ہیں لہذا اس طرح کے باتوں کی ضرورت نہیں ہے۔
مسجد کے متولی کا وظیفہ ہے کہ اگر مسجد کے موقوفات وغیرہ ہوں تو ان کی حفاظت کرے اور ان کو مسجد کے کاموں میں خرچ کرے اور باقی کام نمازیوں سے مربوط ہیں ۔
جواب:۔جب یقین رہا ہو کہ انزال نہیں ہوگا تو بعید نہیں ہے کہ اُن کا بچّہ ، شبہ کے بچّہ (وطی شبہ) کے بچہ کی طرح ہو، اور اگر انزال ہونے کا امکان و احتمال دیا تھا، تو اشکال سے خالی نہیں ہے، رہا مہرِ-- مثل تو اس سلسلے میں اگر عورت اپنی مرضی اور خواہش سے تیار ہوگئی تھی اور اس کو اس بات کا امکان بھی تھا تو مہرِ مثل نہیں رکھتی لیکن اگر اس کی نظر میں اس بات کا امکان نہیں تھا اور تفخیذ (رانوں میں) کرانے کے علاوہ (کسی دوسری چیز پر) راضی نہیں تھی تو اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کو مہر مثل دیا جائے
جائز ہے اور کوئی بھی حرام ہونے کا قائل نہیں ہے ۔
اگر اس کام کو نامحرم انجام نہ دیں تو کوئی مانع نہیں ہے ۔
اہل سنّت کی فقہ میں مصلحت کے ایک معنی ہیں اور اہل بیت علیہ السلام کی فقہ میں مصلحت کے ایک دوسرے معنی ہیں، فقہ شیعہ میں جو مصلحت توجیہ کے قابل ہے وہ تین محوروں میں خلاصہ ہوتی ہے:۱۔ جو احکام فقط نظام اور اسلامی حکومت سے مربوط ہیں ۔۲۔ معاشرے کے نظم ونسق کی حفاظت؛ ان دومصلحتوں کی بنیاد پر بہت سے مستحدثہ (جدید) احکام وجود میںآتے ہیں؛ کیونکہ نظام کی حفاظت اور معاشرے کے نظم کو برقرار رکھنا اسلام کے مہمترین اہداف ہیں اور ان سے انحراف جائز نہیں ہے ۔۳۔ وہ چیز جو اہم ومہم سے مربوط ہے؛ یعنی جب بھی دوایسی مصلحتیں کہ جن کو فقہ اسلام قبول کرتی ہے، ایک دوسرے کے مقابل میں کھڑی ہوجائیں تو وہاں پر اہم مصلحت کو ترجیح دینا چاہیے اور مہم کو اُس پر قربان کردینا چاہیے ۔پہلے حصّے کی مثال میں انتخابات، صدر کے خصوصی شرائط، ممبران اور عوام کو نمونے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ۔دوسرے حصّے کی مثال، بینک کے نظام ، پیسے کا نظام اور حال حاضر کے اقتصادی مسائل کو قرار دیا جاسکتا ہے ۔تیسرے حصّے میں یہ چیزیں جیسے، کچھ معاملات کو محدود کرنا اور ایسے ہی ملک میں ایکسپورٹ اور امپورٹ پر نظارت کہ جو لوگوں کو ان کے اموال پر مسلّط ہونے کو محدود کرتی ہے لیکن حقیقت میں اس کے عوض کچھ اہم مقاصد کو زندہ کرتی ہے، بہترین مثالیں بن سکتی ہیں ۔
حرام نہیں ہے؛ لیکن کوشش کریں کہ ایسا اتفاق نہ ہو۔
اگر یقین ہو کہ وہ آپ کی مزدوری حرام پیسے سے دیتا ہے تو جائز نہیں ہے۔
اگر پیسہ دینے والے اپنی مرضی سے انعام کے طور پر ان کوکچھ دے دیں تو کوئی ممانعت نہیں ہے۔
اگر نیا کام اس کے پہلے کام کے لئے مزاحمت کا سبب نہ ہو اور اس کے معاہدہ کے خلاف بھی نہ ہو تواس کے لئے دونوں تنخواہیں حلال ہیں۔