سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

نقصان اٹھانے والے کا بڑھتے ہوئے نقصان کو روکنا

کیا علم وقدرت کی صورت میں نقصان اٹھانے والا شخص موظّف ہے کہ بڑھتے ہوئے نقصان کی روک تھام کرے؟ اگر جواب مثبت ہو اور یہ کام نہ کرے، کیا نقصان پہنچانے والا اس نقصان کو بھی پورا کرے گاجس کو نقصان اٹھانے والا روک سکتا تھا؟

اس صورت میں جب کہ نقصان اٹھانے والا نقصان کو بڑھنے سے روک سکتا ہو اور عمداً اس کام کو نہ کرے، نقصان کا زیادہ ہونا خود اس کی ذمہ داری ہے اور وہ شخص جس نے نقصان کو ایجاد کیا ہے، نقصان کے زیادہ ہونے کے مقابل میں ضامن نہیں ہے ہمارے فقہاء نے اس مسئلہ کو کتاب قصاص میں ، اس شخص کے بارے میں جس کو کسی نے دریا میں ڈال دیا ہو اور وہ خود اپنے آپ کو نجات دے سکتا تھا لیکن اقدام نہ کرے، ذکر کیا ہے اور کہا ہے” شخص اول ضامن نہیں ہے“ اور چونکہ اس حکم کو قواعد کی بنیاد پر بیان کیا ہے لہٰذا دوسرے موارد منجملہ اموال میں سرایت دے سکتے ہیں۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب

ارتکاب جرم کے لئے پلان بنانا

اگر کوئی شخص جرم کے ارتکاب کی زمینہ سازی کی وجہ سے نشہ آور دوا یا ایسی ہی کوئی چیز جس سے عقل زائل ہوجاتی ہے کسی کو کھلائے کیا ضامن ہے؟ اگر اس کام سے خود مرجائے کیااس کا خون ہدر(رایگاں)جائے گا؟

اس صورت میں جب اس نے اس کام کو جنایت کے محقق ہوجانے کے قصد سے کیا ہو، یا جانتا ہوکہ غالبا یہ عمل تحقق جنایت کا سبب ہوجائے گا، ہر چند کہ اس کی نیت نہ رکھتا ہو، ضامن ہے اور اپنے مسئلہ میں اس کا خون ہدر جائے گا۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب

خلوت میں حرام کام کے مرتکب ہونے کی اطلاع

ایسے موقعوں پر کہ جب بعض لوگ اپنے گھروں میں، دوسروں کی نگاہوں سے دور ہوکر اور پڑوسیوں کے لئے مزاحمت ایجاد کئے بغیر، حرام کام انجامے دیتے ہیں کیا اذن یا فتہ قاضی کے لئے ان لوگوں کو فعل حرام انجام دینے کی وجہ سے تعزیری سزا دینے کا حق ہے یا ایسا کرنا شریعت کی رو سے جائز نہیں ہے جیسے: الف) ویڈیو پر گندی فلمیں دیکھنا -ب) گندے گانے اور ہیجان انگیز میوزک سنّ-ج) غیر عورتوں کے ہیجان انگیز اور برہنہ فوٹو دیکھن-د) آلات قمار رکھنا اور شخصی طور پر ان سے کھیلن-

چنانچہ قاضی کو اس طرح کے امور میں اجازت اور عام معمولی طریقہ سے اُسے اس طرح کے کاموں اور برائیوں کے بارے میں، معلومات حاصل ہوجائے تو انھیں تعزیر اور اپنی صواب دید کے مطابق سزا دینا لازم ہے لیکن اگر اس طرح کے اقدامات دیگر فساد وگناہ کا باعث ہوجائیں تب اس صورت میں پردہ پوشی ضروری ہے اور اگر انھیں بلاکر، دھمکانے ڈپٹنے، راہنمائی کرنے اور ان لوگوں سے ان کاموں سے باز آنے کا وعدہ لینے سے مقصد حال ہوجائے تو اسی مقدار پر اکتفا کی جائے ۔

دسته‌ها: قضاوت

قاضی کے ذریعہ طلاق

جب کوئی شخص اپنی زوجہ پر سختی کرے اور اس کو طلاق دینے پر بھی راضی نہ ہو تو قاضی کس صورت میں اس خاتون کو طلاق دے سکتا ہے ؟

جواب:۔قاضی کیلئے طلاق دینا اس صورت میں جائز ہے کہ جب مصالحت کا امکان اس حد تک ختم ہو جائے کہ شدید عسر وحرج اور مشقت کا باعث ہو، شوہر بذات خود طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو اور قاضی کی دی ہوئی طلاق رجعی ہوتی ہے، لیکن اگر شوہر، رجوع کرے اور اس کے بعد دوبارہ آپس میں نا اتفاقی کا موضوع باقی رہے ، تو (قاضی) دوبارہ طلاق دے گا، یہاں تک کہ تیسری طلاق بائن ہوجائے گی .

دسته‌ها: طلاق کے احکام

اگر میت کے وارثوں میں، شوہر ، باپ ، ماں اور ایک بیٹی ہو

جناب احمد نے ایک خاتون، فاطمہ سے شادی کی، مہر دس لاکھ تومان معیّن ہوا، جس میں دو لاکھ تومان، نقد ادا کردیا گیا اور باقی آٹھ لاکھ تومان کا چیک، احمد نے فاطمہ کے نام لکھ دیا اور چند شرائط کے تحت، میرے پاس امانت کے طور پر رکھ دیا، جو میرے پاس موجود ہے، وہ خاتون یعنی فاطمہ کچھ عرصہ بعد، دنیا سے گذر جاتی ہے، اس مرحومہ کی پہلے شوہر سے (جو ابھی زندہ ہے) ایک بیٹی ہے جو اپنے نانا کے ساتھ رہتی ہے، مرحومہ کے والد نے تجویز پیش کی ہے جناب احمد کا چیک جو مرحومہ کے نام ہے، وہ انہی کو واپس کردیا جائے، یہ یاددہانی بھی ضرور ی ہے کہ مرحومہ فاطمہ کے والدین باحیات ہیں نیز مرحومہ کے کچھ بہن بھائی بھی موجود ہیں، یہ تمہید مدنظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:الف) اس مرحومہ کے وارث کون ہیں؟ب) مذکورہ چیک کی رقم میں سے، مرحومہ کی بیٹی کا حصّہ کس قدر ہے، جو اپنے نانا کے پاس رہتی ہے؟ج) کیا میں شرعی طور پر مذکورہ چیک کو مرحومہ کے والد کے حوالہ کرسکتا ہوں تاکہ وہ مرحومہ کے شوہر (احمد) کو بخش دیں یا نہیں؟د) شریعت کی رو سے، میرے اختیار میں چیک ہونے اور اس میں ان کے تحریر کردہ شرائط نیز اس سلسلہ میں میرے قاضی ہونے کے متعلق، میرا کیا وظیفہ ہے؟

جواب: الف) اس کے وارث، شوہر، باپ، ماں اور ایک بیٹی ہے (البتہ اگر دوسری کوئی اولاد نہ ہو) اس کے شوہر (احمد) کا حصّہ ایک چوتھائی، والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصّہ اور باقی یعنی چھ حصوں سے، ڈھائی حصّے، بیٹی کے ہیں جو اسے ملیں گے ۔جواب: ب وج) مذکورہ چیک کی رقم تمام وارثوں سے متعلق ہے اور ان کے والد فقط اپنا حصہ بخش سکتے ہیں اور جبکہ آپ کسی خاص شخص (وارث) کے حوالہ، چیک نہیں کرسکتے ہیں لہٰذا سب کے اختیار میں دیدیں ۔جواب: د) آپ کے لئے تمام وارثوں کو اطلاع دینا ضروری ہے تاکہ وہ خود جمع ہوکر چیک کی وضعیت کو روشن کریں ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت