قتل عمد میں معاون کو معاف کرنا
کیا قتل عمد میں تعاون کی سزا ، قتل عمد کی ہی طرح حق الناس اور قابل عفو ہے؟ یا حق الله ہے اور عفو فقط فقیہ کے اختیار میں ہے۔
جی ہاں ، حق الناس ہے اور ولی دم کے اختیار میں ہے۔
جی ہاں ، حق الناس ہے اور ولی دم کے اختیار میں ہے۔
مکمل طور پر حد ساقط ہے لیکن تعزیر بعید نہیں ہے اور حلبی کی روایتوں کے اس حصّہ پر پر علماء نے عمل نہیں کیا ہے، فقط بہت کم علماء نے ان کے مطابق فتویٰ دیا ہے لہٰذا اس بناپر ان کے مطابق عمل کرنا مشکل ہے ۔
وہ اپنے حال حیات میں جانی کو معاف کرسکتا ہے اور اپنے مال کے ایک ثلث (۳/۱)دیت میں وصیت کرسکتا ہے لیکن دوسری وصیتیں (اگر ورثہ کے درمیان صغیر نہ ہو) احتیاط یہ ہے کہ وارثین ان پر عمل کریں۔
جواب:۔اگر حرام کام کا باعث نہ ہو تو اشکال نہیں ہے لیکن مناسب یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے ذمّہ دار حضرات، لڑکیوں کے تعلیمی اداروں کو لڑکوں کے تعلیمی اداروں سے، جدا کرنے کا پروگرام ترتیب دیں .
جواب ۔جی ہاں صحیح ہے اور اس (نشہ آور مادے)کی خریدو فروخت کا معاملہ باطل ہے
عقلاء کی نظر میں معتبر تحریریں اور کاغذات، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، شریعت کی رو سے حجت ہیں، لیکن آڈیو کیسٹ فیلم وغیرہ جیسی چیزوں کے معتبر ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے اور قاضی کا علم فقط اس صورت میں حجت اور معتبر ہے کہ جب اسے محسوسات سے جیسے مشاہدہ کرنے یا اسی سے قریب چیز کے ذریعہ، علم حاصل ہوا ہو جیسے غلام اور آقا کے جھگڑے اور (ایک بچہ کے بارے میں) دوخواتین کے اختلاف کے متعلق حضرت علی علیہ السلام کےفیصلہ ، روایات میں بیان ہوئے ہیں، اس سلسلہ میں مزید وضاحت اور تفصیلی گفتگو ہم نے ”علم قاضی“ کے ذیل میں کی ہے ۔
جواب: تقریباً جنین کی لانہ سازی کے تین ہفتے کے بعد جفت تشکیل پاتا ہے ، اس مرحلہ میں جفت کا وظیفہ رحم کی ضخیم شدہ دیوار سے، بند ناف کے ذریعہ ، خوراک اور آکسیجن، حاصل کرنا ہے ۔اسی طرح جنین کی حیاتی فعالیت سے حاصل شدہ ، کاربنک گیس کو ماںکے خون میں منتقل کرتا ہے اور ا س بطن مادر میں موجود جفت کا دوسرا وظیفہ، مادری ماہا رمون یاپرجسترون کو مترشح کرنا ہے ، جس سے ماہواری بند ہوجاتی ہے ۔ د:اگر حاملہ نہ ہوسکے، تورحم کی پر خون اور ضخیم شدہ دیوار گرنا اوربہنا شروع ہوجاتی ہے ، جو ماہواری کے نام سے مشہور ہے ، خون بند ہوجانے کے بعد ، رحم دوبارہ نئے طریقہ سے استقرار حمل کے لئے تیار ہوجاتا ہے یعنی پُرخون اور ضخیم ہونا شروع ہوجاتا ہے لہٰذا جب ایک عورت حاملہ ہو جاتی ہے ، تو ہارمون کے مترشح ہونے کی وجہ سے جس کا تذکرہ گزرچکا ہے، معمولاً اس عورت کو ماہواری نہیں آتی ، ( نہ یہ کہ وہ خون بچہ کی غذا بن جاتا ہے ) یعنی حقیقت میں خونریزی اور ماہواری ہوتی ہی نہیں ہے جو بچہ کی خوراک بن سکے ۔ ھ: یہ تمام مذکورہ مراحل ، مختلف ہارمون کے مترشح ہونے کے ذریعہ کنٹرول ہوتے ہیں لہٰذاان ہارمونس کو کسی خاتون کو خوراک کے طورپر کھلا نے یا انجکشن کے ذریعہ سے دئے جائیں تو بھی وہ خاتون حائض نہیں ہوسکتی یعنی اس طرح سے اسکو ماہواری نہیں آسکتی ، تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خون بچہ کیغذا بن جاتا ہے ۔ ؟جواب: مقصود یہ نہیں ہے کہ رحم سے خونر یزی ہوتی ہے جس کو بچہ نگل لیتا ہے بلکہ مقصود یہ ہے کہ حاملہ ہونے کی صورت میں ، خون ماں (حاملہ) کی رگوں میں ذخیرہ ہوجاتا ہے اور جفت وغیرہ کے ذریعہ،جنین کی طرف منتقل ہوجاتا ہے اور وہ آکسیجن اور خوراک کو بچہ ، اپنی ماں کے اسی خون سے حاصل کرتا ہے ، جیسا کہ بچہ کو دودھ پلانے کے زمانے میں بھی اکثر اوقات ، ماہواری نہیں ہوتی ، اس لئے کہ خون کا کچھ حصہ ، دودھ میں تبدیل ہو کر ، بچہ کی غذا بن جاتا ہے ۔ لہٰذ ااگر ہم کہیں کہ وہ خون ،بچہ کی غذا ہے ، تو مقصود یہ ہے ہم نے بیا ن کیا ہے وہ نہیں جو آپ نے تحریرکیا ہے ۔
جواب : اس صورت میں جب اس نے کچھ آدمیوں کی طرف گولی چلائی تو یہ قتل عمد شمار ہوگا ؛ ہر چند کہ کہے کہ وہ قتل کا قصد نہیں رکھتا تھا۔
ہر وہ عادل مجتہد جو اس علاقہ میں موجود ہے یہ کام انجام دے سکتا ہے اور مجتہد کے نہ ہونے کی صورت میں کوئی عادل عالم جو جامع الشرائط مجتہد کی جانب سے نمائندگی گررہا ہو، حدود الٰہی کو جاری کرسکتا ہے
ظاہرا اس کی روایت جعلی ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں۔
حدود کے باب میں، کسی بھی سزا کے ثابت ہونے کے بعد، اصل قانون وقاعدہ یہ ہے کہ وہ سزا ساقط نہیں ہوگی بلکہ باقی رہے گی، اور یہاں پر اصل قانون وقاعدہ سے مراد، دلیلوں کے اطلاق ہیں جو کہتے ہیں کہ فلاں سزا دی جانی چاہیے، خواہ وہ شخص انکار کرے یا نہ کرے، فرار ہوجائے یا فرار نہ ہو، البتہ قاعدہ استصحاب کا تقاضا بھی سزا کا باقی رہنا ہی ہے، (اگر ہم قاعدہ استصحاب کو شبہہ حکمیہ میں جاری کرنا ، صحیح سمجھتے ہوں) اس بناپر جب تک کوئی دلیل سزا کے ساقط ہونے پر قائم نہ ہوجائے، اس وقت تک سزا کا حکم باقی رہے گااور اس کو سزا ملنا چاہیے، نتیجہ میں ان تمام موقعوں پر جہاں قاضی کا علم حجّت ہوتا ہے، سزا کا حکم جاری ہوناچاہیے، اس لئے کہ امام کے معاف کرنے، یا اقرار کے بعد انکار کرنے یا اقرار کے بعد فرار کرنے کے ذریعہ سزا کے ختم ہونے کی دلیلیں، مقام گفتگو کو شامل نہیں ہیں، مگر یہ کہ حاکم کے علم کا سرچشمہ اور بنیاد، غیر صریح اقرار یا اقرار کے ملزومات جیسی چیزیں رہی ہوں، کہ اس صورت میں انکار یا اقرار یا حاکم کے معاف کرنے کے بعد، سزا کا اجرا کرنا مشکل ہے اور کم سے کم ”تدراٴ الحدود بالشبہات“ میں شامل ہے ۔
جواب:۔ ظاہراً کوئی ممانعت نہیں ہے .
جب زوجہ اور اس کے گھر والے اس طرح ظاہر کریں کہ لڑکی صحیح و سالم ہے تو گویا یہ اس شرط کے دائرہ میں آجاتی ہے جو ہمارے ماحول میں رائج ہے کہ عورت کو صحیح و سالم سمجھا جاتا ہے ، اور پھر بعد از نکاح اس کے خلاف ظاہر ہوجائے ، تو شوہر نکاح کو فسخ کرسکتا ہے اور اگر دخول محقق نہ ہوا ہو تو عورت کو مہر لینے کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر بیماری کی اطلاع سے پہلے دخول ہوگیا ہو تو شوہر پر پورا مہر اد اکرنا لازم ہے ہاں اس کو تدلیس ( دھوکا ) کرنے والے سے وصول کرسکتاہے اور اگر تدلیس کرنے والی خود بیوی ہی ہو تو مہر ساقط ہے ۔
اس مسئلہ کی دلیل یہ ہے کہ جب کھلاڑی کھیل کے میدان میں اترتے ہیں تو عملاً ایک دوسرے سے ان حادثات کی نسبت جو کھیل کی طبیعت میں پوشیدہ ہیں یہان تک کہ اگر قوانین کے مطابق بھی عمل کریں پھر بھی حوادث پیش آہی جاتے ہیں، ضمنی معافی حاصل کرلےتے ہیں، اس معافی کی طرح جس کو طبیب لفظاً یا عملًا مریض سے لیتا ہے اور یہ کام اس کی معافی کا سب ہوتا ہے۔