فلزی چیزوں سے جانور کا ذبیحہ
جانور کے ذبح کرنے کے لئے کیا آلہ کا لوہے کا ہونا لازم ہے یا ہر کاٹنے والی دھات کا فی ہے ؟
جواب : ہر تیز دھار والی دھات سے جائز ہے ۔
جواب : ہر تیز دھار والی دھات سے جائز ہے ۔
عمد کی صورتا میں اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے، اور اکثر اوقات جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ مرتد ہوجاتے ہیں، اور ان کو توبہ کرنا چاہیے اور اپنے اس بُرے کام کی آئندہ میں نیک کاموں سے تلافی کرنا چاہیے، لیکن سہو کی صورت میں اس نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے، لیکن دونوں ہی صورتوں میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے اور اس کا کفارہ نہیں ہے ۔
حکومت کسی شخص کی ذاتی اور خصوصی زندگی میں ضرورت کے بغیر دخالت نہیں کرتی ۔
یہ قرض اور یہ معاملہ باطل ہے۔
جواب : ضروری ہے کہ وہی شخص خدا کا نام لے جس نے مشین چلائی ہے اور یا اللہ کہنا بھی کافی ہے اور ذبح کرنے کے مقام پر حاضر ہونا بھی لازم نہیں ہے ۔
اگر اسے اس با ت کی اطلاع نہیں تھی تو اس صورت میں فسخ کرسکتی ہے مگر یہ کہ اطلاع ہونے کے بعد راضی ہوگئی ہو اور اس کے ساتھ زندگی بسرکی ہو۔
کامل طور سے اس کا امکان ہے؛ بشرطیکہ اس کے مضمون میں زیادہ دقّت سے کام لیا جائے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین اور اس کے احکام میں بہت سی بدعتیں شامل ہو چکی ہوں گی اور ہہت سی باتوں میں تحریف ہو چکی ہوگی لہذا جب امام (ع) کا ظہور ہوگا تو آپ ان بدعتوں اور تحریفات سے مقابلہ کریں گے، یہاں تک کہ بہت سے لوگ یہ گمان کرنے لگیں گے کہ آپ نئے دین کو پیش کر رہے ہیں۔
جواب: اگر زیادہ اہم نقصان کا باعث نہ ہو تو واجب ہے ۔
اگر قطع تعلق ان کے بیدار ہونے کا باعث ہوتو واجب ہے اور اگراس کا منفی اثر پڑے تب ایسا نہ کریں ۔
جواب: بسم اللہ کا فی ہے اور خود ذبح کرنے والے شخص ہی کو کہنا چاہیے ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلا شراب جب تک شراب ہے نجس اور حرام ہے مگر جب وہ سرکہ بن گئی تو پاک اور حلال ہو گئی۔ اسی طرح سے دوسرے تمام شرعی احکام ان کے موضوعات کے تابع ہوتے ہیں، موضوعات کے بدلنے کے ساتھ ہی ممکن ہے احکام بدل جائیں۔
جواب: یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ یہ شرط، کاملاً مبہم اور غیر واضح ہے، اشکال سے خالی نہیں ہے ۔
یہ چیز اسلامی تواریخ اور پیغمبر اکرم صلی الله علیہ والہ وسلم اور معصومین علیہم السلام کی سیرت میں، دیکھنے میں آئی ہے ۔