سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

حج کے تمام ہونے کے بعد، مطلع ہونا کہ وضوء کے لئے مانع موجود تھا

ایسی خاتون جس کے ناخون اور انگلیوں کی پشت پر پالش چسپاں ہے اور اسی حالت میں حج کے اعمال انجام دےتی اور یہ نہیں جانتی کہ یہ رنگ ، وضو اور غسل کے لئے مانع ہوتا ہے کیا اس کے اعمال صحیح ہیں اور اگر حج کے اعمال بجالانے کے بعد متوجہ ہو جائے تو اس کا کیاوظیفہ ہے ؟

جواب:۔ اس کا طواف اور نماز صحیح نہیں ہے لہٰذا ان دو اعمال کو دوبارہ انجام دے اور احتیاط واجب کی بنابر سعی اور تقصیر کو بھی دوبارہ انجام دے ان کے علاوہ اس کے باقی اعمال صحیح ہیں اور اگر خود انجام نہیں دے سکتی تو کسی کو نائب بنالے۔

دسته‌ها: مختلف مسائل

قضا نماز کی تعداد میں شک

جس شخص کو یہ معلوم نہیں کہ اس کی قضا نمازیں کتنی ہیں ، اس کا کیا وظیفہ ہے ؟

جواب:۔ جس قدر معلوم ہے کہ سفر یا حضر میں اس کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ، انہیں بجا لائے اور جس میں شک ہے وہ واجب نہیں ہے، ضمناً معلوم ہو ناچاہئیے کہ قضا نماز میں ترتیب ضروری نہیں ہے مگر اس صورت میں ترتیب ضروری ہے جب کہ ایک ہی دن میں ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا کی نمازیں قضا ہوئی ہوں ۔

دسته‌ها: مختلف نمازیں

عین موقوفہ کو واقف کی ضرورت کے وقت عین موقوفہ کو پلٹانے کے شرائط۔

ایک گھر کے وقف کاصیغہ اس پر مشروط ہوا تھا کہ واقف ضرورت کے وقت عین وقف کو اپنی طرف استرداد (پلٹانے) کا حق رکھتا ہے، واقف نے وقف سے پہلے اس گھر کو تیس (۳۰) سال کی مدت کے لئے کرایہ (اجارہ) پر دے دیا اور اپنے لئے خیار فسخ کا حق محفوظ رکھا، اب تیس سال گذرجانے پر اس گھر کو موقوف علیہ کے سپرد کرنا چاہیے لیکن حال حاضر میں ابھی اس کے کرایہ کی مدت کے ۱۲ سال باقی ہیں، دوسری طرف سے یہ کہ یہ گھر حضرت معصومہ (س) کے حرم کو توسعہ دینے کے پلان میں آگیا ہے اور عنقریب ٹوٹنے والا ہے تو آپ فرمائیے:۱۔ کیا اس پیسہ سے جو شہرداری (میونسپلٹی) اس گھر کے انہدام کی بابت ادا کرے گی دوسرا مکان خریدا جائے اور تیس سال پورے ہوجانے کے بعد موقوف علیہ کے سپرد کردیا جائے؟۲۔ کیا باقی ماندہ مدتِ اجارہ وارث کی طرف منتقل ہوجائے گی؟

جواب: مذکورہ وقف اشکال رکھتا ہے ، وہ مال میّت کے دوسرے اموال کی طرح وارثین میں تقسیم ہوگا اور نیز باقی ماندہ مال الاجارہ میت کے وارثوں سے متعلق ہے۔

دسته‌ها: وقف کے احکام

دوسروں کی میراث کے حصہ سے اعمال حج بجا لانا

اگر بعض وارث دوسرے وارثوں کا حصہ دیئے بغیر ( یعنی پوری میراث ہڑپ کرکے ) حج کرنے جائیں ، ان کا حج کرنا کیسا ہے اوران کے ساتھ صلہ رحم کرنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب:۔جب تک میراث سے بعض وارثوں کاحصہ ادا نہ کیا جائے اور مشاع ( شرکت)کی صورت میں ان کے حصہ کا مال میراث کے باقی مال کے ساتھ ہوتو اس میں تصر ف کرنا حرام ہے اور اگر اسی مال سے حج کرنے جائیں اور احرام کا لباس اور قربانی کو اسی مال سے مھیا کریں ، ان کے حج میں بھی اشکال ہے اور جب تک باقی وارثوں کا حصہ نہیں دیں گے وہ مال غصبی مال کے حکم میں ہے اور اگر ان کے ساتھ صلہ رحم کرنے یا نہ کرنے کا نہی عن المنکر میں کوئی اثر نہ ہو تو صلہ رحم کو ترک نہیں کرنا چاہئیے ۔

دسته‌ها: مختلف مسائل

امور خیریہ میں کمک کی شرط پر قرض دینا

کیا ذیل میں درج، شرط جائز ہے: "میں آپ کو قرض دیتا ہو بشرطیکہ آپ ایک رقم، فلاں خیراتی ادارہ یا امداد کمیٹی کو دیں گے؟

جواب:اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں پر قرض دینے والا اپنے لئے کسی زیادتی کا مطالبہ نہیں کررہا ہے، بلکہ منافع کو خیراتی ادارہ وغیرہ کے لئے طلب کر رہا ہے لہذ اشکال نہیں ہے ۔

دسته‌ها: قرض کے احکام

ظالم اور دوسروں کے حق پر ڈانکہ ڈالنے والوں سے مقابلہ میں مسلمانوں کا قتل ہو جانا

ہندوستان سے، برطانیہ کا قبضہ ختم ہونے اور اس کے مسلمان نشین صوبہ ”جمووکشمیر“ میں تقسیم ہونے کے بعد مسلمانوں کے مطالبہ اور تقسیم کے قانون کے برخلاف لشکر کشی، زورگوئی اور طاقت کے زور پر، یہ علاقہ، ہندوستان کے قبضہ میں آگیا، مسلمانوں نے اپنے مذہب، کلچر اور ناموس کی حفاظت اور آزادی کی خاطر، قبضہ کرنے والوں کے خلاف قیام کیا ہے اور اس جدوجہد میں بدترین مصائب منجملہ قتل عام، ٹارچر، قید، لوٹ مار وغیره میں گرفتار ہوئے ہیں، کیا اس قیام اور جد وجہد کی خاطر، قتل ہونے والے مسلمان، شہید کہلائیںگے، نیز کیا یہ تحریک، جہاد شمار ہوگی؟

جب تک مسلمانوں کی جان، مال، ناموس کی حفاظت اور بقائے اسلام اور مذہب اہل بیت علیہم السلام کے لئے دفاع اور کوشش کررہے ہیں، ان کا یہ عمل ،جہاد ہے اور ان میں سے جو لوگ اس راہ میں قتل ہوئے ہیں، وہ شہید ہیں، لیکن کوشش کریں کہ مجتہد یا اس کے نمائندے سے، حکم، ضرور حاصل کریں ۔

دسته‌ها: شهید

ماز کے دوران تیمم کرنا

جو شخص ایسے مرض میں مبتلا ہے کہ ریح خارج ہونے سے خود کو نہیں روک سکتا ، اور وضوء کرنا بھی اس کے لئے مضر ہے کیا ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ ایسی جگہ ( مثال کے طور پر پتھر ) پر نماز پڑھے کہ اگر ریح خارج ہو جائے تو تیمم کرے اور نماز کو جاری رکھے یعنی اسی نماز کو کامل کرے ؟

جواب: اگر نماز کے درمیان اس کے لئے دوبارہ تیمم کرنا میسر اور آسان ہو ، بغیر اس کے کہ نماز باطل ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے ، البتہ اگر بار بار تیمم کرنا اس کے لئے ضرر و حرج کا باعث ہو تو اس صورت میں واجب نہیں ہے ۔

دسته‌ها: تیمم کے احکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت