حق الناس سے رہائی کا راستہ
حق الناس سے گردن خلاصی کی کیا راہ ہے؟
اگر اس کے مالک کو پہچانتے ہیں تو اس کا حق ادا کریں، یا اس سے حلیت طلب کریں، اور اگر نہیں پہچانتے ہیں تو اس کے برابر اس کے مالک کی طرف سے ضرورتمند کو دے دیں ۔
اگر اس کے مالک کو پہچانتے ہیں تو اس کا حق ادا کریں، یا اس سے حلیت طلب کریں، اور اگر نہیں پہچانتے ہیں تو اس کے برابر اس کے مالک کی طرف سے ضرورتمند کو دے دیں ۔
اس کے والدین سے معافی مانگنا چاہیے اور جب وہ بالغ ہو جائے احتیاطا اس سے بھی معافی مانگنا چاہیے۔
جواب: اقرار واجب نہیں ہے ، لیکن کسی صورت سے حق الناس کو ادا کیا جائے۔
مسئلہ کے فرض میں، کہ بیٹا اپنے والد کی اجازت کے بغیر اور مستقبل ہوکر کاروبار کرتا تھا اس کے کام کے نتائج کے بارے میں اس کے والد کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔
پہلے بند میں فقط اس موقع پر اجرة المثل کا مطالبہ کرسکتے ہیں کہ جب مال کے مالک یا کشتی اور جہاز کے مالک کی جانب سے درخواست کی گئی ہو، یا کشتی کے مالکان اور ڈوبتے کو نجات دینے والوں کے درمیان ایک عام معاہدہ ہوا ہو اور اس فرض میں کہ ڈوبتے کو نجات دلانے کی درخواست کی گئی ہے، تب اپنی اجرة المثل وصول کرسکتا ہے، اگرچہ اس کی اجرة المثل نجات پانے والی چیز سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اور یہ (بند) عقد اجارہ اور عقد جعالہ کے تحت درج ہوتا ہے، البتہ دوسرے بند کے سلسلے میں، انسانوں کو نجات دینے کے عوض اجرت لینا لازم نہیں ہے اس لئے کہ یہ کام واجب ہے، مگر یہ کہ حکومت نے کچھ لوگوں کو اس کام کے لئے ملازم رکھا ہو جو ہمیشہ اس کام پر نگران وناظر ہوں، اس صورت میں ان لوگوں کو اپنی تنخواہ لینے کا حق ہے، لیکن کشتی اور سامان کو غرق ہونے سے بچانے کی اجرت میں سے کچھ حصّہ انسانوں کو نجات کے لئے قرار دینے پر شرعی دلیل نہیں ہے بہرحال بطور کلی ان دونوں بند کا فقہی قوانین پر تطبیق دینا متعدد مشکلات کا حامل ہے ۔
اگر امانت میں خنایت عین مال کے تلف ہونے یا منفعت کے ختم ہونے کا سبب ہوتی ہو تو حق الناس ہے اور اس کی خسارت کو اس کے مالک کو ادا کیا جائے گا ۔
اگر دونوں طرف کی مرضی اور رضایت سے ایسا ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح سے اگر وہ پیسا جو دیا جا رہا ہے وہ نقصان کی تلافی کے لیے ہو تو اس کا لینا صحیح ہے چاہے دینے والا راضی ہو یا راضی نہ ہو۔
اگر آپ نے انہیں خریدا ہے تو آپ کو اختیار ہے لیکن اگر آپ کو ہدیہ کیا گیا ہے تو آپ لیے ان کے نام بدلنا صحیح نہیں ہے۔
اگر اس کے مالک کو پہچانتے ہیں تو اس کا حق ادا کریں، یا اس سے حلیت طلب کریں، اور اگر نہیں پہچانتے ہیں تو اس کے برابر اس کے مالک کی طرف سے ضرورتمند کو دے دیں ۔
یقیناً فحشا اور فساد کے آلات کو نابود کیا جاسکتا ہے اور یہ کام ضمان کا سبب بھی نہیں ہےن لیکن لوگوں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے یہ کام کریں؛ کیونکہ اس صورت میں ہرج ومرج لازم آئے گا، بلکہ منصوبہ بندی اور قوانین کے تحت، اور حاکم شرع اور مربوطہ حکّام کی ریز نگرانی انجام دیا جائے ۔