اس جگہ پر امام بارگاہ بنانا جس کے موقوفہ ہونے میں شک ہو۔
گاوٴں کے کنارے ، ایک قدیمی مسجد کے دروازے کے قریب کچھ بنجر زمین پڑی ہے جس سے کوئی استفادہ نہیں کیا جاتا تقریبا ً۳۰ سال پہلے ، بچوں کے چند جنازے وہاں پر دفن کر دئے گئے تھے جبکہ اس زمین کے موقوفہ ہونے پرکوئی سند موجود نہیں ہے لہٰذا انجمن” محبان چہادہ معصومین علیہم السلام “ نے بستی والوں کی رضایت سے ، یہ عزم کیا ہے کہ اس زمین کا حصارکر کے وہاں پر امام باڑہ بنائیں اور قدیمی مسجد کی جو تقریباً گرنے والی ہے ، مرمت کرائیں اور اس کو وسعت دیں ، کیا شریعت کی رو سے یہ کام جائز ہے ؟
جواب:۔ اگر اس زمین کے موقوفہ ہونے پر کوئی سند موجود نہیں ہے نیز امام باڑہ بنانا، نبش قبر کا باعث نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
حملہ آور قبیلوں کے مقابلے میں اپنا دفاع کرنا
ایک شیعہ خاندان (یا گروہ) دوسرے شیعہ خاندان (یا گروہ) پر مسلحانہ حملہ کرے، جس میں بعض مومنین کو اپنی جان، مال اور عزت وآبرو کا خطرہ ہو، کیا اس صورت میں دوسرے خاندان پر دفاع واجب ہے؟
ان کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے لیکن ان کو نہایت کوشش کرنا چاہیے کہ اس طرح کے جھگڑوں سے روک تھام کریں تاکہ بات، قتل وخونریزی تک نہ پہنچے ۔
بیوی پر دست درازی کرنے والے کا قتل
ایک مسلمان مرد آدھی رات کو اپنی مسکونی منزل میں داخل ہوتا ہے اور بغیر ارادہ کے اور اس لاعلمی کے ساتھ کہ ایک اجنبی اس کے گھر میں موجود ہے، ایسے شخص کے روبرو ہوتا ہے کہ جو دوبار اس کی ناموس کی ابرو ریزی کا سبب بنا تھا اور عدالت سے سزا پاچکا تھا ، وہ گھر کی موجودہ حالت اور اس شخص کی جسمانی وضعیت اور دیگر معقول قرائن سے علم حاصل کرلےتا ہے کہ وہ شخص اس کی ناموس پر تجاوز کرنے کے ارادہ سے اس کے گھر میں داخل ہوا تھا،لہٰذا وہ اس سے گتھم گھتا ہونے لگتا ہے، ایک خاض وضیعت اور بحرانی وغافلگیر کیفیت میں کہ جس میں وقت کے فوت ہوجانے اور متجاوز شخص کے غالب ہوجانے کا خوف شامل تھا، نہ پولیس کو بلانے کا امکان تھا اور نہ ہی متجاوز کو آسان طریقے سے دور کرسکتا تھا ، ناچار بورچی خانہ کے چاقو سے اپنی ناموس کی دفاع کی خاطر اس کی جان کے پیچھے لگ جاتاہے ، آخر اس کو قتل کرڈالتا ہے ، پھر خود پولیس میں جاکر اپنے کو قانون کے حوالے کردیتا ہے، کیا شخص زانی کی دیت اس کے اولیاء دم کو دینا پڑے گی؟
جواب: جبکہ دفاع، اجنبی شخص کے قتل سے کم ، ممکن نہ تھا، تو اس کا خون ہدر (رائگان) ہے اور اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
شوہر کا مستحب اعمال بجالانے سے منع کردینا
اگر زیارہ مستحب کام انجام دینے کی وجہ سے کوئی خاتون اس قدر تھک کر چور ہو جائے کہ شوہر، ضروری لذّت اس سے حاصل نہ کرسکے، کیا شوہر اسکو ایسے مستحب اعمال کرنے پر عمل کرنے سے منع کر سکتا ہے، اور آیا اِن جگہوں پر شوہر کی اطاعت کرنا واجب ہے ؟
جواب:۔شوہر اس کو روک نہیں سکتا مگر یہ کہ کلی طور پر لذّت حاصل کرنا ، ختم ہوجائے، اس صورت میں چونکہ شوہر کے حق سے ٹکراؤ ہوگیا ہے لہذا زوجہ شوہر کی اجازت کے بغیر (مستحب) عمل نہیں کرسکتی .
بیٹے اور بیٹیوں کے درمیان میراث کو برابر تقسیم کرنے کی وصیت
دوسال پہلے میری والدہ محترمہ کا انتقال ہوگیا تھا، جبکہ ان کی اولاد میں سے ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں، مرحومہ کی میراث میں ایک جگہ ہے جس کی قیمت تقریباً ایک کروڑ تومان ہے ، ہم لوگوں کا ارادہ تھا کہ اس کو فروخت کرکے، سب بہن بھائی اپنا اپنا حصہ لے لیں، لیکن ہماری بہنیں مرحومہ والدہ کی اس مضمون کی تحریر پیش کرتی ہیں کہ میراث تقسیم کرتے وقت میرے بچے، بیٹی اور بیٹے کے حصہ میں کوئی فرق نہ رکھیں اور سب برابر طور پر حصہ وصول کریں ، اب جبکہ ہم سب اپنی ماں کی تحریر کے صحیح ہونے یعنی یہ کہ وہ تحریر ہماری والدہ کی ہے، یقین رکھتے ہیں، لیکن ممکن ہے کہ ہمارے بعض بھائی تہہ دل سے اس بات پر راضی نہ ہوں لہٰذا آپ فرمائیں کہ ہمارا شرعی وظیفہ کیا ہے؟
جواب: اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ ماں کو اپنے مال کے ایک تہائی حصہ میں تصرف کرنے کا حق حاصل تھا، لہٰذا جو کچھ انھوں نے تمھاری بہنوں کے حصّوں کے بارے میں لکھا ہے، اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، اس لئے کہ مذکورہ فرق ایک تہائی حصّہ سے کم ہے، لہٰذا اس بناپر ماں کی وصیت کے مطابق عمل کریں ۔
وارثوں کی طرف میراث کے حق کا منتقل ہونا
جن لوگوں کا حق مسلّم طور پر ثابت ہے، حیسے بہن، پھوپی وغیرہ (منقول یا غیر منقول مال میں) لیکن یہ لوگ اپنے حق کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں، کیا ان کے انتقال کے بعد ان کے وارث ان کے حق کا مطالبہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: مطالبہ کرنے کا حق ہے مگر یہ کہ صراحت کے ساتھ انہوں نے اپنا حق بخش دیا ہوتو اس صورت میں مطالبہ نہیں کرسکتے ۔
ایسے مرحوم کے سوم میں شرکت جس کا وارث صغیر ہو
اگر کسی نے وصیت نہ کی ہو اور اس کی اولاد میں بچے بھی ہوں تو اس کے مرنے کے بعد، تعزیت میں آنے والوں کا ایسے فرش اور قالین پر بیٹھنے کا کیا حکم ہے جس کی میراث میں وہ بچے بھی شریک ہیں؟ اسی طرح سے اس گھر میں نماز پڑھنے کا، جو تمام اولاد کی میراث ہے، کیا حکم ہے؟
اس طرح کی صورتوں میں بچوں کو اس مقدار میں پیسا دے دیا جائے کہ جس سے وہ بھی میراث اور معاملات میں شریک ہو جائیں تو اس کے بعد اس طرح کے تصرفات جایز ہو جائیں گے۔
دیوار کو توڑنے اور اس کو دوبارہ بنانے پڑوسی کو مجبور کرنا
ہمسایہ کی دیوار کافی حد تک بوسیدہ ہے جس کے گرنے سے دوسرے پڑوسی کو نقصان ہوگا، چنانچہ ہمسایہ کی عمارت کا جائے وقت ایسا ہو کہ اس کے ضرر کو دفع کرنا اس کی دیوار کے بغیر گرائے ممکن نہ ہو، یا اس کے خود گرنے سے پڑوسی کو غیر قابل تحمل ضرر ہوتا ہو تو کیا ہمسایہ کو دیوار گرانے اور دوبارہ بنانے پر مجبور کرسکتے ہیں؟
اگر ایک ہمسایہ کی دیوار کے گرنے سے دوسرے ہمسایہ کو ضرر ہوتا ہو تو دیوار کے مالک پر ضروری ہے کہ کوئی ایسا کام کرے کہ جس سے اُس کا نقصان رُک جائے، اور اگر دیوار کو گرانے اور دوبارہ بنانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہ ہو تو اس کو اس کام پر مجبور کیا جاسکتا ہے؟
ایسے بینک میں کام کرنا جس کے معاملات فرضی ہوں
میں جنابعالی کا مقلِّد ہوں اور ایک بینک میں کام کرتا ہوں ، افسوس کہ سن ۱۳۷۳ ھ ش کے بعد بینکوں کے سود لینے اور کھاتے میں باقی ماندہ رقم کی بنیاد پر سہولیتیں فراہم کرنے سیایت سبب ہوئی کہ عقود اسلامی پر نظارت نہ ہو ۔ لہذا بہت سے معاملات عمداً یا سہواً با اطلاع یا بغیر اطلاع خانہ پُری کے عنوان سے انجام پاتےہیں ، اور اس کا وضعی اثر ہماری زندگی میں نمایاں ہے ۔ اب اس وقت کہ جب میں جنابعالی کو خط لکھ رہا ہوں مجھے یقین ہے بینکوں کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہے اور ہماری تنخواہ بھی انھیں سہولتوں سے دی جاتی ہے ۔ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ میرے نزدیک کوئی بھی چیز رضائے پروردگار سے مہم نہیں ہے ، یہاں تک کہ میں اس تخواہ لینے سے بھی کراہت رکھتا ہوں اور ملازمت کو باقی رکھنے پر آمادہ نہیں ہوں ، لہٰذا میرے دوسوالوں کے جواب عنایت فرمائیں۔۱۔ کیا یہ صحیح ہے کہ میں ان حالات میں اپنی ملازمت کو باقی رکھوں ؟۲۔ ان سوسائٹیوں میں کام کرنے کا کیا حکم ہے جو بینکوں کی نظارت میں ہیں اور ان کا خرچ کسی دوسری جگہ مہیّا ہوتا ہے ؟
جواب: بینک کے اس شعبے میں کام کرنا کہ جو عقود کی خانہ پری کے عنوان سے سود لیتے ہیں ، جائز نہیں ہے ؛ لیکن دوسرے شعبوں میں کام کرنے میں اشکال نہیں ہے اور آپ کی تنخواہ اگر حلال کام کے عوض میں ہے اور آپ کو اس کے عیناً حرام ہونے بھی یقین نہ ہے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
کافروں کے ہاتھوں سے لی ہوئی غذائیں
کافروں کے ہاتھوں سے حاصل کی گئی غذا (کھانے) کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اگر یہ احتمال دیا جائے کہ یہ غذائیں ، کار خانوں یا آلات یادستانہ کے ذریعہ بنائے گئے ہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ، لیکن جب یقین ہو جائے کہ ان کے ہاتھ یا ان کے جسم کا مرطوب حصہ اس کھانے سے مس ہو گیا ہے تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ ضرورت کے موقعوں کے علاوہ اس سے پرہیز کرے لیکن ضرورت کے موقعوں پر جیسے غیر اسلامی ممالک میں سفر کے دوران ،اور سفر میں ان غذائوں سے پرہیز کرنا مشکل ہو تواس صورت میں پرہیز نہ کریں۔
بچوں اور شیرخواروں کا طواف
اگر طواف یا سعی کے دوران چھوٹے بچے سوجائیں یا طواف کے دوران نوزاد بچہ اپنے کپڑوں میں پیشاب کرلے تو اس کا کیاحکم ہے ؟
جواب :۔ دونوں صورتوں میں صحیح ہے انشاء اللہ ۔
داماد سے دودھ پلانے (شیر بہا) کی قیمت وصول کرنا
کیا ماں شیربہا(دودھ پلانے کی قیمت) لے سکتی ہے ؟
جواب:۔ماں اس صورت میں شیر بہا لے سکتی ہے کہ جب نکاح میں شرط رکھے اور عقد پڑھتے وقت اس شرط کو بیان کیا جائے .
ضرورت کے وقت نبش قبر کا جائز ہونا
ایک مومن کی قبر کے پاس ، بیت الخلاء بنادیئے ہیں جس کی وجہ سے ، قرآن کا ایک سورہ بھی وہاں پر پڑھنا ،ممکن نہیں رہاہے ، مربوطہ عہدہداران اور ذمہ داران سے بیت الخلاء دوسری جگہ منتقل کرنے کے سلسلے میں رجوع کیا گیا جو موٴثر واقع نہیں ہوا ، کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ کہ قبر کو کھول کر میت کو دوسری جگہ منتقل کردیں ؟
ان پر زور ڈالئے کہ بیت الخلاء کو دوسری جگہ منتقل کریں اور ان ذمہ داران و عہدہ داران کو بتائیے کہ یہ کام شرعاً جائز نہیں ہے ، اسلئے کہ یہ موٴمن کی قبر کی توہین ہے اور اگر اس حالت کا باقی رہنا میت کی بے حرمتی کا باعث ہوتو اس کو دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے ۔

