سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

نجاست کا یقین

آیا نجاست کے مساٴلہ میں یقین ضروری ہے یا ظنّ و گمان کافی ہے؟

جواب: نجاست کے مساٴلہ میں قطعی اور سو فیصد یقین ضروری ہے اور جب تک ایسا یقین حاصل نہ ہو تو کوئی تکلیف نہیں ہے اور اگرسو فیصدیقین حاصل ہوجائے تو پرہیز ضروری ہے مگر مجبوری کے وقت۔

اعضاء بدن کو ہدیہ (ڈونیٹ) کرنے کی وصیت

اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں یہ وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے جسمانی اعضائ،ضرورتمند بیماروں کو دیدئے جائیں، کیا اس کے وارث اس کام سے روک تھام کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب: وارثوں کے منع کرنے کا اس مسئلہ میں کوئی اثر نہیں ہے اور اگر وہ جسمانی اعضاء بیماروں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہوں، تو اس کے جسم کے مذکورہ اعضائے بدن کو حاصل کرنا جائز ہے اسی طرح اگر کسی کے مہم عضو جیسے آنکھ کو بچانے کے لئے ضروری ہو۔

دسته‌ها: وصیت

امام زمانہ (عج) کے ذریعہ قبلہ کو بدلنے کا امکان

کیایہ بات صحیح ہے کہ جب حضرت جحت ( عج ) ظہور فرمائیں گے ، قبلہ کو امام حسین علیہ السلام کے روضہ اقدس کی جانب ، بدل دیں گے ؟

جواب: یہ روایت قرآن اور ان رویات کے مخالف ہے جو ائمہ معصومین علیہم السلام سے ثابت ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اس روایت کو چھوڑ دیا جائے اوراس سے صرف نظر کیا جائے ۔

دسته‌ها: امام زمانہ (عج)

ریٹائرمینٹ کی سرکاری حیثیت

ریٹائرمینٹ کی شرعی حیثیت اور دونوں فریق کے حقوق کے بارے میں توضیح دیں؟

ریٹائرمینٹ کے مسائل کو بھی دو طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے:الف: پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اصل قرارداد کے ضمن میں ایک نئے عقد کا عنوان دیا جائے، جس میں عقد کی تمام شرطوں کا لحاظ کیا گیا ہو جیسے دونوں فریق بالغ ہوں، عاقل ہوں۔ ریٹارمینٹ کے مسائل کے باب میں جو ابھامات پائے جاتے ہیں جسیے یہ کہ اس عقد میں سفاہت کے حکم نہیں لگ سکتے، اس لیے کہ اس کا عقلی حکم واضح ہے اور یہ بات اس عقد کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے۔ در حقیقت یہ عقد اور قرارداد بیمہ کے عقد اور قرارداد کی طرح ہے جو ایک مستقل عقد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس آیہ کرہمہ (اوفوا بالعقود) کے ضمن میں آتا ہے۔ مذکورہ عقد میں ادا کی جانے والی کل رقم کے واضح نہ ہونے اور اس جیسے پیش آنے والے دوسرے مسائل سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سے ربا کا مسئلہ نہ ہی عقد بیمہ میں جاری ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریٹائرمینٹ کے عقد میں۔ب۔ یہ مسئلہ اپنی تمام خصوصیات اور قوانین و ضوابط کے ساتھ شرط ضمن عقد کی صورت میں قرارداد میں شامل کیا جائے گا اور اس میں جو ابھامات یا شکوک پائے جاتے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کی راہ میں مانع نہیں بنتے۔ جیسا کی اوپر بیان کیا گیا۔

دسته‌ها: آخرت
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت