لواط کرنے والے کا لواط کئے جانے والے کے ہاتھوں قتل
دوافراد نے ایک سولہ (۱۶) سالہ جوان کے ہاتھ پیر باندھ کر اس سے منھ کالا کیا، متجاوزین اس گھناؤنے فعل کے بعد سوجاتے ہیں، اس جوان نے ان کی اس غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان میں سے ایک کو لوہے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگاکر اور دوسرے کو ایک تیز دھار والے آلے (چاقو) سے قتل کردیا، اس بات کو کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ ملزم نے یہ کام اپنے دفاع اور اس تصور سے انجام دیا ہے کہ مقتولین مہدور الدم ہیں، کیا اس صورت میں ملزم کو قصاص کیا جائے گا؟
جواب: چنانچہ ثابت ہوجائے کہ قاتل نے یہ کام اپنے دفاع کے عنوان سے اور اس خوف کی بنیاد پر کہ مبادا اس پر دوبارہ تجاوز کیا جائے ، انجام دیا ہے تواس صورت میں نہ قصاص ہے اور نہ دیت؛ لیکن اگر ثابت ہوجائے کہ اس کا تصور یہ تھا کہ وہ مہدور الدم ہےں اور وہ حکم خدا کو ان کے اوپر جاری کررہا ہے تو اس صورت میں قصاص نہیں ہے لیکن دیت ہے۔
ضلع کے قصبوں اور شہروں میں طلاب کا سفر
میں شہرساری کا رہنے والا ایک طالب علم ہوں ، اپنے کام کی موقعیت کے اعتبار سے کچھ مدت سے رشت، شہر میں ، خدمت( دین ) میں مصروف ہوں ، لیکن اپنے مشغلہ کے وظائف کے لحاظ سے اور کبھی خطابت کے لئے ضلع گیلان کے قصبوں اور دیہاتوں کی طرف ، پے در پے ، ضروری سفر کرتا ہوں ، اور اپنی اقامتگاہ پر دس دن رکنے کا بہت ہی کم اتفاق ہوتا ہے لہٰذا دس دن ٹہر نا میسر نہیں ہے ، اس صورت میں میرے نماز روزے کی کیا کیفیت ہو گی؟
جواب:۔ آپ کا وظیفہ کامل نماز اور روزہ رکھنا ہے ، اور اگر کبھی دس دن ٹھہرے تو پہلے سفر میں ، قصر ہے ۔
عقد نکاح میں دونوں (شوہر و بیوی) کے وکیلوں کا علےحدہ علےحدہ ہونا
مرد ایسے مجتہد کا مقلد ہے جو مرد اور عورت کے وکیل کے متعدد(جدا جدا) ہونے کو شرط قرار دیتے ہیں اور عورت ایسے مجتہد کی مقلدہ ہے کہ جو دونوں کی جانب سے ایک ہی وکیل کو کافی سمجھتے ہیں اس صورت میں کس مجتہد کے نظریہ کے مطابق عمل کرنا چاہئے
ایسے موقعوں پر احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے مجتہد کے فتوے کے مطابق عمل کرنا چاہئے جو متعدد(جدا جدا ) ہونے کو شرط جانتے ہیں۔
نائب کا اضطراری حالت میں حرام سے نکلنا اور پھر چھت دار گاڑی سے واپس آجانا
چند سال قبل میں کسی کی طرف سے نائب تھا اور قافلہ سالار تھا ، مکہ کے ہوٹل میں داخل ہونے کے بعد ایک ضروری کام کی وجہ سے حرم سے باہر چلا گیا ، جب میں واپس پلٹ رہا تھا تو سورج نکل رہا تھا ، میں نے بغیر چھت کی گاڑی تلاش کی لیکن راستہ میں مکہ پہنچنے سے پہلے پولیس نے وانٹ کے پیچھے بیٹھنے نہیں دیا ، مجبورا چونکہ میرے پاس پاسپورٹ نہیں تھا اور محرم تھا لہذا میں ڈرائیور کے پاس بیٹھ گیا اور سایہ سے بچنے کیلئے اپنے سر کو باہر نکالے رکھا ، پھر بعد میں ایران میں قربانی بھی کی ، اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا دوبارہ حج تمتع کو انجام دینے کی ضرورت ہے یا وہی عمل کافی ہے ۔
دوبارہ حج کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
جو شخص قرعہ ڈالنے پر قادر نہیں ہے
اگر بد فعلی کرنے والا شخص بعض مسائل کی وجہ سے جیسے فقر و تنگ دستی ، آبرو ریزی کا خوف، یا بھیڑوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ، قرعہ ڈالنے پر قادر نہ ہونے وغیرہ کی وجہ سے قرعہ کشی نہ کر سکے ،تو کیا کوئی دوسرا راستہ ہے ؟ اور دوسرے یہ کہ اگر یہ شخص یہ کام نہ کرے اور باقی اعمال میں پرہیز کرے تو کیا حکم ہے ؟
جواب: قرعہ کشی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اسکو اپنے وظیفہ پر عمل ضرور کرنا چاہیے ، ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ عادل نہیں ہو سکتا ، مگر یہ کہ ایسا کرنے سے فساد وجود میں آ جائے ۔
نجاست کا یقین
آیا نجاست کے مساٴلہ میں یقین ضروری ہے یا ظنّ و گمان کافی ہے؟
جواب: نجاست کے مساٴلہ میں قطعی اور سو فیصد یقین ضروری ہے اور جب تک ایسا یقین حاصل نہ ہو تو کوئی تکلیف نہیں ہے اور اگرسو فیصدیقین حاصل ہوجائے تو پرہیز ضروری ہے مگر مجبوری کے وقت۔
غسل میں معمول سے زیادہ پانی استعمال کرنا
کیا پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا غسل کے لئے نقصان دہ ہے؟ اور اگر کسی شخص کو زیادہ پسینہ آتا ہو اور پسینے کو دھونے سے پہلے غسل کرلے تو کیا اس کا غسل صحیح ہے؟
جواب: پانی کا زیادہ مقدار میں استعمال کرنا غسل کو نقصان نہیں پہنچاتا لیکن اگر پانی کا اصراف ہو تو اصراف کی مقدار حرام ہے، اگر پسینا پانی کو مضاف نہ کرے تو غسل صحیح ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ پہلے پسینے کو دھوئے، اس کے بعد غسل کرلے۔
حق الناس سے رہائی کا راستہ
حق الناس سے گردن خلاصی کی کیا راہ ہے؟
اگر اس کے مالک کو پہچانتے ہیں تو اس کا حق ادا کریں، یا اس سے حلیت طلب کریں، اور اگر نہیں پہچانتے ہیں تو اس کے برابر اس کے مالک کی طرف سے ضرورتمند کو دے دیں ۔
ریٹائرمینٹ کی سرکاری حیثیت
ریٹائرمینٹ کی شرعی حیثیت اور دونوں فریق کے حقوق کے بارے میں توضیح دیں؟
ریٹائرمینٹ کے مسائل کو بھی دو طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے:الف: پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اصل قرارداد کے ضمن میں ایک نئے عقد کا عنوان دیا جائے، جس میں عقد کی تمام شرطوں کا لحاظ کیا گیا ہو جیسے دونوں فریق بالغ ہوں، عاقل ہوں۔ ریٹارمینٹ کے مسائل کے باب میں جو ابھامات پائے جاتے ہیں جسیے یہ کہ اس عقد میں سفاہت کے حکم نہیں لگ سکتے، اس لیے کہ اس کا عقلی حکم واضح ہے اور یہ بات اس عقد کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے۔ در حقیقت یہ عقد اور قرارداد بیمہ کے عقد اور قرارداد کی طرح ہے جو ایک مستقل عقد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس آیہ کرہمہ (اوفوا بالعقود) کے ضمن میں آتا ہے۔ مذکورہ عقد میں ادا کی جانے والی کل رقم کے واضح نہ ہونے اور اس جیسے پیش آنے والے دوسرے مسائل سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سے ربا کا مسئلہ نہ ہی عقد بیمہ میں جاری ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریٹائرمینٹ کے عقد میں۔ب۔ یہ مسئلہ اپنی تمام خصوصیات اور قوانین و ضوابط کے ساتھ شرط ضمن عقد کی صورت میں قرارداد میں شامل کیا جائے گا اور اس میں جو ابھامات یا شکوک پائے جاتے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کی راہ میں مانع نہیں بنتے۔ جیسا کی اوپر بیان کیا گیا۔
امام زمانہ (عج) کے ذریعہ قبلہ کو بدلنے کا امکان
کیایہ بات صحیح ہے کہ جب حضرت جحت ( عج ) ظہور فرمائیں گے ، قبلہ کو امام حسین علیہ السلام کے روضہ اقدس کی جانب ، بدل دیں گے ؟
جواب: یہ روایت قرآن اور ان رویات کے مخالف ہے جو ائمہ معصومین علیہم السلام سے ثابت ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ اس روایت کو چھوڑ دیا جائے اوراس سے صرف نظر کیا جائے ۔
ناچ دیکھنا
کیا ناچ دیکھنا جائز ہے ؟
جواب : ناچ دیکھنے کا وہی حکم ہے جو خود ناچ اور رقص کرنے کا ہے
لوگوں کا قانون کو جاری کرنا
اگر مثلاً ایک دور دراز کے علاقے میں اسلام کے اوامر و نواہی کامل طور سے جاری نہ ہوتے ہوں، اور بے نوا و غریبوں کے حقوق اور مالی مسائل پائمال ہوتے ہوں، اور وہاں کوئی مذہبی نظم ونسق موجود نہ ہو ، کیا ایسی جگہ پر ایک کمیٹی بنائی جاسکتی ہے تاکہ وہ کچھ قوانین و ضوابط بنا کر نظم میں خلل انداز افراد سے جرمانہ لے اور اس کو عمومی نظم میں صرف کرے اور بوقت ضرورت خلل اندازوں سے مقابلہ کرے ۔
اس طرح کے امور مجتہد جامع الشرائط کے زیر نظریا ایسے شخص کے زیر نظر انجام پانا چاہیے جو اس کی طرف سے ماٴذون ہو ۔
اس شخص کو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا جو لوگوں کے آزار واذیت کا سبب بنے
اگر عمومی جگہوں پر چلنا یا بات کرنا دوسروں کی آ زار واذیت کا سبب بنے تو اس کا کیا حکم ہے؟ بالفرض اگر حرام ہو، کیا نہی عن المنکر کرنا چاہیے؟
جواب: اس نے برا کام کیا ہے، لازم ہے کہ اس کو خوش زبانی کے ساتھ نہیں عن المنکر کیا جائے۔

