جس میت نے وصیت نہ کی ہو
اگر کسی میت نے وصیت نہ کی ہو تو کیا اصل مال میں اسکا کوئی حق ہوتا ہے؟
جواب: میت کے ضروری خرج جیسے کفن و دفن کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ہے ۔
جواب: میت کے ضروری خرج جیسے کفن و دفن کے علاوہ اور کوئی حق نہیں ہے ۔
جواب:۔ بلاد کبیرہ ( بڑے شہر ) اور غیر بلاد کبیرہ کا حکم ایک ہے مگر اس صورت میں کہ جب شہر کا ہر محلہ ایک مستقل شہر شمار ہوتا ہو۔
ایسے موقعوں پر احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے مجتہد کے فتوے کے مطابق عمل کرنا چاہئے جو متعدد(جدا جدا ) ہونے کو شرط جانتے ہیں۔
روزہ کے کفارہ کو فقراء اور مسکین دونوں کو دیا جاسکتا ہے ۔
جواب : ناچ دیکھنے کا وہی حکم ہے جو خود ناچ اور رقص کرنے کا ہے
جواب: تما م وارثوں کو جنھیں میراث ملتی ہے، قصاص کا حق ہے، مگر شوہر اور زوجہ کہ انھیں قصاص کا حق نہیں ہے البتہ دیت کی رقم میں حصّہ دار ہیں ۔
جب اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہو اور خبر کی ضرورت بھی ہو تو کوئی ممانعت نہیں ہے اور اس کو رشوت کا نام نہیں دیا جاسکتا۔
تقیہ، عقیدہ پوشیدہ رکھنے کا نام ہے اس جگہ پر جہاں اس کے ظاہر کرنے سے خطرہ یا نقصان ہو۔ یہ مسئلہ قرآن مجید، اسلامی روایات اور اصحاب کے حالات میں بیان ہوا ہے اور مشرکوں سے بچنے کے لیے بیان ہوا ہے۔
ریٹائرمینٹ کے مسائل کو بھی دو طریقوں سے حل کیا جا سکتا ہے:الف: پہلی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ اسے اصل قرارداد کے ضمن میں ایک نئے عقد کا عنوان دیا جائے، جس میں عقد کی تمام شرطوں کا لحاظ کیا گیا ہو جیسے دونوں فریق بالغ ہوں، عاقل ہوں۔ ریٹارمینٹ کے مسائل کے باب میں جو ابھامات پائے جاتے ہیں جسیے یہ کہ اس عقد میں سفاہت کے حکم نہیں لگ سکتے، اس لیے کہ اس کا عقلی حکم واضح ہے اور یہ بات اس عقد کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے۔ در حقیقت یہ عقد اور قرارداد بیمہ کے عقد اور قرارداد کی طرح ہے جو ایک مستقل عقد کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اس آیہ کرہمہ (اوفوا بالعقود) کے ضمن میں آتا ہے۔ مذکورہ عقد میں ادا کی جانے والی کل رقم کے واضح نہ ہونے اور اس جیسے پیش آنے والے دوسرے مسائل سے اصل عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح سے ربا کا مسئلہ نہ ہی عقد بیمہ میں جاری ہو سکتا ہے اور نہ ہی ریٹائرمینٹ کے عقد میں۔ب۔ یہ مسئلہ اپنی تمام خصوصیات اور قوانین و ضوابط کے ساتھ شرط ضمن عقد کی صورت میں قرارداد میں شامل کیا جائے گا اور اس میں جو ابھامات یا شکوک پائے جاتے ہیں وہ اس کے صحیح ہونے کی راہ میں مانع نہیں بنتے۔ جیسا کی اوپر بیان کیا گیا۔
جواب: قرعہ کشی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور اسکو اپنے وظیفہ پر عمل ضرور کرنا چاہیے ، ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ عادل نہیں ہو سکتا ، مگر یہ کہ ایسا کرنے سے فساد وجود میں آ جائے ۔
جواب:۔ آپ کا وظیفہ کامل نماز اور روزہ رکھنا ہے ، اور اگر کبھی دس دن ٹھہرے تو پہلے سفر میں ، قصر ہے ۔
جواب: نجاست کے مساٴلہ میں قطعی اور سو فیصد یقین ضروری ہے اور جب تک ایسا یقین حاصل نہ ہو تو کوئی تکلیف نہیں ہے اور اگرسو فیصدیقین حاصل ہوجائے تو پرہیز ضروری ہے مگر مجبوری کے وقت۔
جواب : جو کچھ پہلے سوال کے جواب میں بیان کیاگیا اس سے حکومت کے وجود کا فلسفہ بھی روشن ہوجاتا ہے اور مرجعیت کا بھی۔
جواب: دینی مدارس اور ان باتقویٰ اشخاص پر، خرچ کریں، جو ان مدارس میں تعلیم دینے، تمام خلائق کو تبلیغ اور راہنمائی کرنے نیز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فریضوں میں مصروف ہیں، اس لئے کہ حدیث میں وارد ہوا ہے: ''وما اعمال البر کلّہا والجہاد فی سبیل اﷲ، عند الامر بالمعروف والنہی عن المنکر، الّا کنفثہ فی بحر لجّی؛تمام نیک اعمال یہاں تک کہ راہ خدا میں جہاد کرنا، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے مقابلہ میں ایسا ہے، جیسے دریا کے مقالہ میں منھ کا پانی
اگر اس کے مالک کو پہچانتے ہیں تو اس کا حق ادا کریں، یا اس سے حلیت طلب کریں، اور اگر نہیں پہچانتے ہیں تو اس کے برابر اس کے مالک کی طرف سے ضرورتمند کو دے دیں ۔