سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

عدالت میں اعتراف کرنے کے لئے زانی کو حاضر کرنا

برای مہربانی درج ذیل سوالات کے جواب عنایت فرمائیں:الف) کیا زناکے ملزم کو، اعتراف کرنے کے لئے، عدالت میں لانا جائز ہے؟ب) جائز ہونے کی صورت میں کیا قاضی کو اجازت ہے کہ ملزم کو یہ سمجھائے کہ اس کا جرم کیا ہے؟ج) دوسرے سوال کے جائز ہونے اور ملزم کے قبول کرنے کی صورت میں، کیا سمجھانے کے ذریعہ قبول جرم کرنا، اقرار کی حیثیت رکھتا ہو، یا یہ کہ اقرار کرے اور اس عمل (بد) کی صراحت بیانی، کو موضوعیت حاصل ہے، نیز ایک بار اقرار کی صورت میں، کیا متعدد بار اور متعدد نشستوں میں، سوال کو دہرانا، لازم یا جائز ہے؟د) کیا ملزم کی خاموشی سے اس کا انکار، ظاہر ہوتا ہے؟

جواب: الف) زنا کے ملزم کو عدالت میں حاضر نہیں کیا جاسکتا مگر یہ کہ عدالت میں جاکر پہلے گواہ ، گواہی دیدں، یا یہ کہ جبراً اور زور زبردستی زنا کیا گیا ہو اور وہ عورت جس سے زنا کیا گیا ہے، عدالت میں شکایت کرے یا ملزم کچھ دوسرے جرائم کا مرتکب ہوا ہو جیسے پرائی عورت کے ساتھ خلوت، کہ اس طرح کے جرم کی وجہ سے عدالت میں حاضر کیا جائے ۔جواب: ب) گذشتہ جواب سے اس کا جواب بھی معلوم ہوگیا ہے ۔جواب: ج) اقرار صاف وشفاف ہونا چاہیے اور اقرار کے لئے، قاضی کے اصرار کرنے کی کوئی وجہ اورحیثیت نہیں ہے ۔جواب: د) خاموشی سے کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی اور اس طرح کے موقعہ پر، انکار لازم نہیں ہے بلکہ اقرار ہونا چاہیے ۔

مولف یا ورثاء کی اجازت کے بغیر کتاب چھاپنا

اگر کوئی ناشر کسی شاعر کا دیوان یا کسی دانشمند کی تالیف و تصنیف کو اس کی یا مرحوم ہونے صورت میں اس کے ورثاء کی اجازت کے بغیر چھابے اور بیچے اور اس سے خود ذاتی فایدہ اٹھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

حق تالیف ایک عقلایی حق ہے جسے ساری دینا کے عقلاء مانتے ہیں اور جس کی رعایت کی جاتی ہے، اس کی رعایت نہ کرنا ظلم اور ممنوع ہے، کسی مولف کی کتاب یا کسی شاعر کا دیوان اس کی اجازت کے بغیر چھاپبا نایز نہیں ہے۔ اس بات کی طرف توجہ ہونی چاہیے کہ ہمیشہ مصداق عرف سے لیے جاتے ہیں اور احکام شرع سے۔ لہذا اس میں کوئی ممنوعیت نہیں ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ عقلاء کے نزدیک نئے نئے حقوق وجود مین آئیں اور اسلام انہیں اپنے کلی احکام میں شامل کر لے۔

دسته‌ها: طباعت کے حقوق

بلاد کبیرہ کا حکم (جواب کے شروع کی یہ عبادت

بلاد کبیرہ سے کیامراد ہے ؟ ایران میں کتنے شہر بلاد کبیرہ ہیں اور بلاد کبیرہ میں شہر کے آخر سے مسافت کا حساب کرنا چاہئیے یامحلہ کے آخر سے ؟

جواب:۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے کہ بڑے یاچھوٹے شہر میںکوئی فرق نہیں ، بلکہ بلاد کبیرہ و صغیرہ ، مسافر کے احکام میں برابر ہیں ، مگر یہ کہ شہر اس قدر بزرگ اور وسیع ہو کہ اس کا ہرمحلہ ایک الگ اور مستقل شہر شمار ہوتا ہو جیسے شمیر ان اور شہر رَی کہ تہران سے ملے ہونے کے باوجود، مستقل شہر کا درجہ رکھتے ہیں ، لیکن دیگر محلہ ، تہران کا حصہ شمار ہوتے ہیں اور ان محلوں میں جو مستقل شہر کا درجہ رکھتے ہیں اگر ان کا در میانی فاصلہ ،قصر ہونے کی حد تک ہو تو نماز قصر ہے ، ورنہ نماز کا مل ہے اور مسافت کا معیار شہر کے آخری گھر ہیں ۔

دسته‌ها: وطن

شکی کا وظیفہ(زیادہ شک کرنے والے نمازی کا وظیفہ)

جو شخص زیادہ ہی بھول اور فراموشی کا شکار ہے ، مثال کے طور پر اکثر نمازوں میں بھول جاتا ہے کہ دو رکعت پڑھی ہے یا تین یاچار رکعت پڑھی ہے ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟

جواب:۔ کثیر الشک یعنی زیادہ شک کرنے والے کا وظیفہ یہ ہے کہ جو اس کی حالت کے لئے بہتر ہو اسی پر بنا رکھے، ( یعنی اگر اس کی حالت کے لئے ،کم پر بنا رکھنا بہتر ہے تو کم پر بنا رکھے اور اگر زیادہ پر بہترہوتو زیادہ پربنا رکھے )

دسته‌ها: نذر کے احکام

بہترین اور مطلوبہ عزاداری کا طریقہ

بہترین کیفیت میں امام حسین (ع) کی عزاداری کرنے کے طریقےکے متعلق اپنا با برکت نظریہ بیان فرمائیں ؟

جواب ۔عزاداری کا بہترین شیوہ باشکوہ مجلسیں کرنا امام حسین(ع) کے مقدس مقاصد کا بیان اور کربلا کا تاریخی خاکہ اور اس کے بعض حصوں کی تحلیل کرنا اور سوگواری کے پروگرام (مصائب وغیرہ)اور اسی طرح باشکوہ عزاداری کے ماتمی دستہ اور اسکے ساتھ بیدار کرنے والے اور انسان ساز نوحہ و نعرے بہترن مضامین کے پوسٹر وغیرہ تقسیم کرنا بینر وغیرہ لگانا اور امام حسین کے مقاصد کو واضح کرنے والے جذاب اور جالب توجہ نوحہ اور نعرے اسی طرح کی دوسری چیزیں.

دسته‌ها: عزاداری

ڈوبتے کو نجات دینے کے لئے اجرت کے احکام

اسلامی جمہوریہ ایران کے دریائی قانون کے بند ۱۷۴، و۱۸۱ کے بارے میں کچھ سوالات پیش خدمت ہیں، برائے مہربانی ان کے جواب عنایت فرمائیں:بند نمبر ۱۷۴ میں ایسے آیا ہے: ”ہر قسم کی امداد اور نجات جو مفید نتیجہ کی حامل ہو، اس پر منصفانہ اجرت دی جائے گی، لیکن اگر امداد یا نجات دینے کا کام مفید نتیجہ نہ رکھتا ہو تو اس پر کسی قسم کی اجرت نہیں دی جائے گی، نیز کسی مرتبہ بھی نجات حاصل کرنے والی چیز کی قیمت سے زیادہ رقم ادا نہیں کی جائے گی“۔اور بند ۱۸۱ میں آیا ہے: ”وہ لوگ جن کی جان بچائی گئی ہے ان کوکسی طرح کی اجرت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا (یعنی ان کے اوپر کسی طرح کی اُجرت ادا کرنا لازم نہیں ہے) نجات دینے والے حضرات جنھوںنے ایک حادثہ سے مربوط نجات یا امداد کے امور میںلوگوں کو نجات دینے کے لئے خدات انجام دی ہیں، وہ لوگ اس اجرت میں سے مناسب حصّہ وصول کرنے کے حقدار ہیں جو اجرت کشتی، جہاز، سامان اور اس سے مربوط دیگر چیزوں کے نجات دینے والوں کودی جاتی ہے“۔۱۔ یہ دو بند، اسلامی عقود میں کس عقد (معاہدہ) کے تحت قرار پاتے ہیں؟ اور فقہی قواعد میں سے کس قاعدہ کو شامل ہیں؟

پہلے بند میں فقط اس موقع پر اجرة المثل کا مطالبہ کرسکتے ہیں کہ جب مال کے مالک یا کشتی اور جہاز کے مالک کی جانب سے درخواست کی گئی ہو، یا کشتی کے مالکان اور ڈوبتے کو نجات دینے والوں کے درمیان ایک عام معاہدہ ہوا ہو اور اس فرض میں کہ ڈوبتے کو نجات دلانے کی درخواست کی گئی ہے، تب اپنی اجرة المثل وصول کرسکتا ہے، اگرچہ اس کی اجرة المثل نجات پانے والی چیز سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو، اور یہ (بند) عقد اجارہ اور عقد جعالہ کے تحت درج ہوتا ہے، البتہ دوسرے بند کے سلسلے میں، انسانوں کو نجات دینے کے عوض اجرت لینا لازم نہیں ہے اس لئے کہ یہ کام واجب ہے، مگر یہ کہ حکومت نے کچھ لوگوں کو اس کام کے لئے ملازم رکھا ہو جو ہمیشہ اس کام پر نگران وناظر ہوں، اس صورت میں ان لوگوں کو اپنی تنخواہ لینے کا حق ہے، لیکن کشتی اور سامان کو غرق ہونے سے بچانے کی اجرت میں سے کچھ حصّہ انسانوں کو نجات کے لئے قرار دینے پر شرعی دلیل نہیں ہے بہرحال بطور کلی ان دونوں بند کا فقہی قوانین پر تطبیق دینا متعدد مشکلات کا حامل ہے ۔

دسته‌ها: حق الناس

قذف (زنا کی تہمت والزام) کے موارد

جو شخص، دوسرے پر کفر والحاد کی تہمت لگاتا ہے اور حاکم شرع کے سامنے اس الزام کو ثابت نہیں کرسکتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟الف) کیا اس طرح کے مورد کو قذف کا مصداق سمجھا جاسکتا ہے؟ب) جواب کے منفی ہونے کی صورت میں، اس کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرنا چاہیے؟ج) چنانچہ وہ شخص، جس پر تہمت لگائی گئی ہے، اپنے حق سے صرف نظر اور درگذر کرے تو کیا اس طرح کا الزام لگانے والے شخص سے، سزا (حد) یا تعزیر ساقط ہوجائے گی؟

الف و ب) قذف فقط دو صورت میں ہوتا ہے: زنا کی تہمت لگانا یا لواط کا الزام لگانا، باقی دوسرے ناجائز الزامات لگانے پر تعزیر (غیر معین سزا) ہے ۔جواب: ج) ظاہر یہی ہے کہ حقدار کے اپنے حق سے درگذر کرنے سے، تعزیر کا حکم جاری نہیں ہوگا، مگر یہ کہ حاکم شرع تشخیص دے کہ اس طرح کے موارد میں، تعزیر ی سزا کو ترک کرنا، معاشرے میں گناہ وفساد کا سبب بنے گا، تب عنوان ثانوی کے اعتبار سے اس کو تعزیر کیا جائے گا ۔

طالب علموں اور اساتید کے نماز اور روزوں کے احکام

محترم طالب علموں، اُستادوں اور معلّموں کے نماز وروزہ کا حکم مختلف صورتوں اور فرضوں میں بیان فرمائیں ۔

۱ ۔ اگر پڑھنے کی جگہ یا تدریس کا مقام قابل ملاحظہ ایک مدت مثلاً ایک سال یا ایک سال سے زیادہ کے لئے ہو تو وطن کا حکم اختیار کرلیتا ہے اور وہاں پر نماز اور روزہ قصر نہیں ہے اور وہاں پر لگاتار دس دن روز رہنا بھی شرط نہیں ہے ۔۲۔ وہ اشخاص جو اپنے وطن سے ہفتے میں تین دن یا زیادہ پڑھائی کے لئے دوسری جگہ جاتے ہوں اور ان کا کام قابل ملاحظہ مدت مثلاً ایک سال یا زیادہ تک چلتا رہے تو وہ جگہ ان کے وطن کے حکم میں ہے ۔۳۔ وہ اشخاص جو ایک یا دودن تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہوں اور پلٹ جاتے ہوں تو ان کی نماز اور روزہ قصر ہے ۔۴۔ جب کبھی تعطیل کے ایّام میں پڑھائی کی جگہ پر کسی دوسرے کام کے لئے جاتے ہوں تو ان کے لئے وہی مذکورہ بالا حکم جاری ہوںگے ۔۵۔ وہ اشخاص جو روزانہ یا ہفتے میں تین روز تدریس کے لئے یا تعلیم حاصل کرنے کے لئے جاتے ہوں، یعنی وہاں پر صبح جاتے ہوں اور شام کو پلٹ آتے ہوں اور ایک مدت تک یہ سلسلہ جاری رہے تووہ کثیر السفر شمار ہوںگے اور اس جگہ جاتے اور آتے وقت ان کی نماز اور روزہ قصر نہیں ہے ۔۶۔ وہ افراد جو ایک مہینے یا اس سے زیادہ روزانہ کسی جگہ شرعی مسافت تک جاتے ہوں اور پلٹے ہوں تو وہ کثیر السفر کے حکم میں ہیں ۔۷۔ فرض شمارہ ایک اور دو کے مشمول طالب علم یا معلمین حضرات اگر چاہیں کہ ان کے اس دن کا روزہ کہ جب وہ تعلیم یا تدریس کی جگہ سفر کرنا چاہیں، صحیح ہو تو یا تو وہ اس طرح جائیں کہ ظہر سے پہلے تدریس یا تعلیم کی جگہ پہنچ جائیں اور نیت کریں، یا اپنے وطن سے ظہر کے بعد چلیں تاکہ ان کے روزہ میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔۸۔ تدریس یا تعلیم اور ان سے مربوط کام، جیسے امتحان، تھیسوغیرہ سے فراغت کے بعد اگر پھر اس جگہ جائیں تو وہ جگہ ان کے وطن کے حکم میں نہیں رہے گی، مگر یہ کہ ان کا یہ قصد ہو کہ اس جگہ مستمر طور سے پرسکونت اختیار کرے گا ۔

دسته‌ها: مسافر کی نماز
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت