بدن میں لگے ہوئے مصنوعی اعضاء سے استفادہ کرنا
کیا حالت احرام میں ایسے مصنوعی ہاتھ پیر کو جن پر چمڑے کو سلا گیا ہو ، جسم سے باندھنے پرکفارہ ہے ؟
جواب :۔ کوئی اشکال نہیں اور کفارہ بھی نہیں ہے ۔
جواب :۔ کوئی اشکال نہیں اور کفارہ بھی نہیں ہے ۔
علم اصول کی بنیادی اور اہم بحثیں نبی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے ہم تک پہچی ہیں جیسے اصل براءت، احتیاط، استصحاب، ابواب تعادل و تراجیح، عام و خاص، مطلق و مقید وغیرہ اور معصومین علیہم السلام نے اپنے اصحاب کو ان سے روشناس کرایا اور ان مسئلہ میں بہت سے شیعہ علماء پیشگام رہے ہیں، مزید اطلاع کے لیے کتاب تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام مولف مرحوم سید حسن صدر کا مطالعہ کریں، آج بھی شیعہ علما علم اصول میں دوسروں سے کہیں زیادہ محکم اور ٹھوس ہیں۔
جواب : احتیاط یہ ہے کہ اجتناب کیا جائے مگر ان لوگوں کے لئے جو باہر کے سفر میں یا اپنے ماحول میں ان کے محتاج ہوں ۔
جب کبھی کوئی شخص ایک جگہ طولانی مدت مثلاً ایک سال یا زیادہ تک رہنے کا قصد کرے تو وہ جگہ اس کے وطن کے حکم میں ہوگی۔
تالیاں بجانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن مسجد اور امام بارگاہوں میں یہ کام نہیں کرنا چاہیے ۔
اشکال ہے، مگر اُن جگہوں پر جہاں کام بہت ضروری ہو۔
جواب: موت کا حکم فقط اس صورت میں صادر ہوسکتا ہے کہ یا تو غائب شخص کی موت کا علم ہوجائے یا اتنی مدت گذرجائے کہ معمولاً اتنی مدت میں وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
جواب: اس صورت میں جب تعذیر کو مالی تعذیر میں تبدیل کیا جاسکے، کہ جو قصاص کے ساتھ قابل جمع ہے ، اولویت رکھتا ہے اور جب یہ ممکن نہ ہو،چنانچہ اولیاء دم قصاص کی تاخیر پر راضی ہوں ، زندان کی تعزیر مقدم ہے اور اگر اولیاء دم راضی نہ ہوں تو قصاص کو مقدم کیا جائے گا، تازیانے ہر حال میں انجام پانے چاہئے۔
جواب : ان موراد میں جو قصاص کا سبب بنتے ہیں ، اگر شاکی قصاص کا تقاضا کرے تو قصاص جاری ہوگا اور اگر شاکی قصاص کے بدلے جرمانہ پر راضی ہوگیا تھا تو قصاص کا حکم ساقط ہے اور اگر راضی نہیں ہوا تھا تو جرمانے کی رقم کو واپس کرکے قصاص کا تقاضا کرسکتا ہے ۔جواب : حدود والے جرائم میں حد ساقط نہیں ہوگی؛ کیوں کہ ان میں حد کے جاری کرنے کے شرائط نہیں پائے جاتے لہٰذاوہ حد کے قائل نہیں ہیں۔جواب : اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ تعزیر نظر حاکم سے مربوط ہے اگر وہاں پر ان کو تعذیر کردیا گیا تھا ہر چند کہ تعذیر، زندان کی صورت میں تھی تو حاکم شرع یہاں کی تعذیر میں تخفےف دے سکتا ہے، چاہے تعذیر ملامت اور سرزنش کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔
جواب: زمین کو اپنے ملکیت میں لینے کا بینک کو حق نہیں ہے ،بینک کو فقط اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق ہے ہاں اگر قرض لیتے وقت یہ شرط ہوئی تھی کہ اگر قسطیں جمع نہ کی گئیں ، تو زمین بینک کے اختیار میں دینا ہو گی ( تو زمین میںبینک کو تصرف کرنے کاحق ہے ) البتہ توجہ رہے کہ قرض ، شرعی عقد کے مطابق لیا جائے نہ کہ سود والا قرض۔
مقتول کے ولی سب مل کر ایک ساتھ قصاص کا اقدام کریں یا اس کام کے لئے کسی کو وکیل بنالیں اور اگر ان (اولیاء مقتول) میں سے کوئی تنہا اور دوسروں کی اجازت کے بغیر، قصاص کرے، تو اس نے حرام کام کیا ہے اور اس کو دوسروں کا حق (دیت) ادا کرنا چاہیے ۔
اس کے والدین سے معافی مانگنا چاہیے اور جب وہ بالغ ہو جائے احتیاطا اس سے بھی معافی مانگنا چاہیے۔
عُضو کے قصاص میں معاف کرنا جائز ہے، لیکن قتل نفس کے قصاص کےبارے میں، مجتہدین کرام کے نظریات مختلف ہیں، معاف کرنے کا جائز ہونا بعید نہیں ہے اور احتیاط مصالحت کرنے میں ہے ۔
جواب: توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ۱۵۳۵، میں مذکورہ شرائط کے تحت ، اس خزانے کو اپنی ملکیت میں لاکر اس کا خمس ادا کرے۔
جواب: اگر ان امور کا تظاہر نہ کریں، توختم کرنا جائز نہیں ہے۔