میت کی تقلید کرنا
کیا مردہ مجتہد کی تقلید کر سکتے ہیں؟
جواب:احتیاط یہ ہے کہ تقلید کا آغاز مردہ مجتہد سے نہ کیا جائے لیکن میّت کی تقلید پر ان مسائل میں باقی رہا جا سکتا ہے کہ جن کو پہلے انجام دے چکا ہو یا انجام دینے کے لئے فتویٰ حاصل کرچکا ہو۔
جواب:احتیاط یہ ہے کہ تقلید کا آغاز مردہ مجتہد سے نہ کیا جائے لیکن میّت کی تقلید پر ان مسائل میں باقی رہا جا سکتا ہے کہ جن کو پہلے انجام دے چکا ہو یا انجام دینے کے لئے فتویٰ حاصل کرچکا ہو۔
اگر ڈاکٹر کی بات پر یقین اور اطمینان حاصل ہو جائے تو کافی ہے اور اگر یقین نہ ہو تو کافی نہیں ہے۔
جواب: اگر یہ احتمال دیا جائے کہ یہ غذائیں ، کار خانوں یا آلات یادستانہ کے ذریعہ بنائے گئے ہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ، لیکن جب یقین ہو جائے کہ ان کے ہاتھ یا ان کے جسم کا مرطوب حصہ اس کھانے سے مس ہو گیا ہے تو اس صورت میں احتیاط یہ ہے کہ ضرورت کے موقعوں کے علاوہ اس سے پرہیز کرے لیکن ضرورت کے موقعوں پر جیسے غیر اسلامی ممالک میں سفر کے دوران ،اور سفر میں ان غذائوں سے پرہیز کرنا مشکل ہو تواس صورت میں پرہیز نہ کریں۔
مذکورہ روایت، سَنَد کے اعتبار سے قابل بحث ہے؛ لیکن بہرحال نماز صبح کی جماعت کے لئے رات کی مناجاتوں کو کم کرنا اولیٰ ہے ۔نماز جماعت کو ترک کرنا گناہ نہیں ہے اور نہ ہی مقام عصمت کے منافی ہے؛ بلکہ ایک طرح کا ترک اولیٰ ہے اور اگر اس میں دوسروں کی تعلیم کا پہلو پایا جائے تو ترک اولیٰ بھی شمار نہیں ہوتا ۔جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ ممکن ہے اس کا مقصدعوام کے لئے حکم شرعی کو تعلیم دینا ہو، اس صورت میں آپ کے مقام پر کوئی حرف نہیں آتا ہے ۔ یہ بھی فراموش نہ کریں کہ یہ روایت، سَنَد کے اعتبار سے قابل بحث ہے ۔
جواب:۔ بیوی کا قصد شوہر کی تابعداری ہوتو وطن کے اعتبار سے تابع ہے ۔
جواب: دوسروں کو اذیت پہونچانا جائز نہیں ہے، اور اس صورت میں سگریٹ پینا جب کہ وہ دوسروں کے لئے باعث ضرر ہو، جائز نہیں ہے اور حکو متی اداروں یا پرائویٹ مراکز میں کہ جہاں سگریٹ پینا ممنوع قرار دیا گیا ہے ،یہ کا م حرام ہے یہاں تک کہ اگر وہاں پر کسی کی اذیت کا باعث بھی نہ ہو۔
جواب:۔ نکاح متعہ ایک ہی قسم کا ہوتا ہے اس سے زیادہ نہیں اور یہ سب فوائد اورنتائج اس میں جمع ہیں مگر یہ کہ عقد متعہ کے ضمن میں یہ شرط رکھیں کہ جنسی تعلقات نہیں ہوں گے اور ہر حال میں، باپ کی اجازت کا حکم شرط ہے .
صدقہ محتاجوں اور ضروتمندوں کا حق ہے ۔
ان بارتوں کے لئے ضروری ہے کہ شرعی احکام اور متبرک مقامات کی حرمت کا خیال رکھیں؛ اور ان درگاہوں کے خادمین کوچاہیے کہ ان کی روک تھام کے لئے صحیح طریقہ استعمال کریں، جیسے ممانعت کے بورڈ لگائیں اور چھپے ہوئے پرچے بانٹیں اورباربار تذکر دیں، اور یہ کام اس طرح ہونا چاہیے رنجش اور لڑائی کا سبب نہ ہونے پائے ۔
وہ سچ کہ جو فتنہ پھیلائے یا کوئی مفسدہ ایجاد کرے، اس سے پرہیز کرنا چاہیے؛ چاہے اس کا جھوٹ مصلحت آمیز ہویا بیہودہ اور چونکہ یہ بات اہم اور مہم قاعدہ کے تحت آتی ہے تو جھوٹ کے نقصانات اور فوائد کا آپس میں مقایسہ کرنا چاہیے، قابل ذکر ہے کہ اگر جھوٹ کی جگہ توریہ سے کام لے سکتے ہیں تو توریہ مقدم ہے، توریہ سے مراد وہ بات ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں؛ سننے والا اُس معنی کو سمجھے جو خلاف واقع ہے اور اس پر یقین بھی کرلے اور مصلحت حاصل ہوجائے، لیکن کہنے والا دوسرے معنی کا تصور کرے کہ جو واقع کے مطابق ہے ۔
جواب: ”حارصہ“”دامیہ“ اور سمحاق جیسے زخموں کی دیت گردن میں بھی صادق ہے ۔ لیکن ان کی دیت بدن کی دیت کے مانند ہے ؛ نہ سر و صورت کی دیت کے مانند ، دیت کے علاوہ موار د میں ارش ثابت ہے ۔
جواب:۔ اگر رفت و آمد ہمیشہ جاری ہے تو نماز کامل پڑھے اور روزہ رکھے۔