سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

قاعدہٴ ”درء“ کے شامل ہونے کا دائرہ حدود

قاعدہ ”درء“ کے بارے میں فرمائیں:۱۔ کیا یہ قاعدہ باب حدود سے مخصوص ہے ، یا ابواب قصاص ،دیات، اور تعذیرات کو بھی شامل ہے؟۲۔ حد جاری نہ کرنے کا کیا معیار ہے؟ کیا حلےت میں شک، جواز عمل کا وہم ، فقط اباحہ کا ظن، (چاہے ظن غےر معتبر ہو)یا حرمت کا عدم علم معیار ہے؟۳۔قائدہ درء میں محل عروض شبہ کون ہے؟ قاضی ہے یا مرتکب عمل یا دونوں؟۴۔ آیا شبہات موضوعیہ ، حکمیہ، شبہ عمد وغیر عمد ، اکراہ، اجبار، نسیان وغیرہ کو یہ قاعدہ شامل ہوتا ہے؟۵۔ شبہات حکمیہ کے شامل ہونے کے فرض میں آیا جاہل قاصر اور جاہل مقصّر کے درمیان فرق پایا جاتا ہے؟

جواب: قصاص اور تعذےرات کو بھی شامل ہے۔جواب: ثبوت حد یا قصاص کی دلیل حد اقل حجیّت نہ رکھتی ہوبلکہ حد ےا قصاص کو جاری کرنے کی دلیل ہر چند ظنی ہولیکن محکم دلیل شمار ہونا چاہئے؛ اس طرح کے عرفاً حد یا قصاص کی نسبت شبہ پیدا نہ کرتی ہو۔جواب: معیار تشخیص قاضی ہے۔جواب: قاعدہ درء ان تمام موارد کو شامل ہوتا ہے۔جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔

ایک شخص کا ترک فعل، دوسروں کی موت کا سبب ہوجانا

ایک شخص کافعل دوسرے شخص کی موت کا سبب ہوا کیا اس کو فقط ترک فعل کی بنیاد پر سزا دی جاسکتی ہے؟ ذیل میں دی گئی مثالوں پر توجہ فرمائیں :الف : ایک ماں علم رکھتے ہوئے کہ اس کا بیٹا دودھ کی حاجت رکھتا ہے عمدا دودھ نہیں پلاتی نتیجہ بچہ مرجاتا ہے، کیا یہ قتل عمد ہے یا کوئی اور قتل شمار ہوگا؟ ب : اگر ریلوے ملازم جس کا وظیفہ پروگرام کے مطابق ریل لائن کو جابجا کرنا ہے ، خطرہ کا علم رکھتے ہوئے اس فعل کو انجام نہیںدیتااور اس کا یہ کام نہ کرنا دوریل گاڑیوں کے ٹکرانے اور مسافرین کے مرجانے کا سبب ہوجائے ، کیا قتل عمد شمار کیا جائے گا؟ج : نرس ، جس کا وظیفہ معینہ وقت پر بیمار کو دوا دینا ہے، عمدا اس کام سے خوداری کرے اور بیمار مرجائے ، جب کہ یہ بھی جانتی تھی یا جانتا تھا کہ بیمار کو دوا دینا اس کی زندگی کے مترادف ہے، یہ کس نوع کا قتل شمار ہوگا؟د : ڈوبنے والے کو نجات دینے والا، ڈوبتے ہوئے شخص کو دیکھ کر بھی نجات نہیں دیتا، جبکہ اس کا یہ ہی وظیفہ تھا، اور ڈوبنے والا مرجائے ، کیا یہ قتل عمد ہے؟۔

جواب : الف سے آخر تک : ان موارد میں جہاں قتل کی نسبت ایسے شخص کی طرف دی جائے، ویا بعبارت دےگر سبب مباشر سے اقوی ہو ، جیسے پہلی اور دوسری مثالوں میں، قتل صادق آتاہے اور اسی کے احکام جاری ہوتے ہیں، تیسری اور چوتھی مثال میں موارد مختلف ہیں۔

زکات میں بیج کی قیمت کا معیار

بیج کی قیمت کا معیار جو پیدا وارسے کم کی جائے گی ، کونسا وقت ہے ؟ بیج ڈالنے کا زمانہ یافصل کاٹنے کا وقت؟

جواب:۔ قیمت کا معیار بیج ڈالنے کا دن ہے ، لیکن ہمارے فتوے کے مطابق ، احتیاط واجب کی بناپر زراعت کے لئے جو بیج بویا گیا ہے اس کی قیمت کوپیداوارسے کم نہیں کرنا چاہئیے البتہ اس مسئلہ میں دیگر مجتہد ین کرام کی جانب، رجوع کرسکتے ہیں ۔

دسته‌ها: غلات کی زکات

قتل کے خوف سے ناجائز بچے کا ساقط کرانا

ایک لڑکی زنا سے حاملہ ہوئی ہے ۔ گھر والوں کے مطلع ہوجانے کی صورت میں لڑکی کے قتل کا خطرہ ہے ۔ کیا وہ سقط جنین کرسکتی ہے ؟ اس کی دیت کیا ہے ؟

جواب: جبکہ واقعاً اس کی جان کو خطرہ ہو اور بچہ بھی چار مہینے سے کم کا ہو تو سقط جنین جائز ہے اور اس کی دیت بیت المال کو ادا کرے گی ۔

دسته‌ها: ناجائز اولاد

ایسے کھیل جن میں جوئے کا شائبہ ہو

کون سے کھیل جوے میں شمار ہوتے ہیں ؟ابھی کچھ عرصہ قبل ان علاقوں میں ایک ”رمینو“نامی کھیل جو مشکوک نظر آتا ہے رواج پایا گیا ہے کیا مزکورہ کھیل کھیلا جا سکتا ہے ؟

جواب ۔لوگوں کے درمیان جو بھی کھیل جوے اور قمار کے عنوان سے مشہور ہے وہ حرام ہے اور مشکوک کھیل میں کوئی اشکال نہیں ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کے پیسا یا دوسری چیز کی ہار جیت نہ ہو

دسته‌ها: جوا کهیلنا

اپنے مرجع تقلید کے علاوہ دوسرے مجتہد کو خمس دینا

کیا ہر مجتہد کے مقلدین پر، اپنے مال کا خمس، اپنے مجتہدین کو دینا لازم ہے؟

جواب: مقلد پر اپنے مجتہد کو خمس دینا اس صورت میں واجب ہے ، جب یہ معلوم نہ ہو کہ دیگر مجتہدین کرام خمس کی رقم کو ،انھیں مصارف میں خرچ کرتے ہیں، جنھیں مقلِّد کے مجتہد لازم جانتے ہیںیا حاکم کے عنوان سے اپنے مقلد سے خمس کی رقم کا مطالبہ کرے اور ان دو صورتوں کے علاوہ ، دیگر مجتہدین کے نظریہ کے مطابق ، خرچ کرسکتا ہے۔

دسته‌ها: خمس کا استعمال

جس باپ نے وصیت کی ہے کہ قضا نماز نہیں چاہتا

میں اپنے گھر کا برا بیٹاہوں ، میرے والد نے کافی مدت تک نماز روزہ ادا نہیں کیا اور اپنے وصیت نامہ میں تحریر کیاہے کہ وہ کسی نماز و روزے کی قضا کرانا نہیں چاہتے ، اور یہ کہ ان عبادتوں کی قضا خود ان ہی سے مربوط ہے اس صورت میں میرا کیا وظیفہ ہے ؟

جواب:۔ آپ ان نماز اور روزوں کی قضا ضرور کریں جو آپ کے والد سے کسی عذر کی بناپر ترک ہوئے ہیں ( نیز احتیاط واجب کی بناپر ماں کے روزوں کی قضا کریں )ان کے علاوہ دیگر نما زروزوں کی قضاواجب نہیں ہے ، البتہ احتیاط مستحب ہے ۔

دسته‌ها: جماعت کےاحکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت