خواتین کا چہرے کے کچھ حصہ کا چھپانا
کیا خواتین کے لئے اپنے چہرے کے کچھ حصے کو چھپانا بھی مکمل چہرہ چھپانے کے حکم میں ہے ؟
جواب :۔ چہرے کے کچھ حصہ کو اس طرح چھپا نا کہ اس کو نقاب اور برقعہ نہ کہا جائے تو جائز ہے ۔
جواب :۔ چہرے کے کچھ حصہ کو اس طرح چھپا نا کہ اس کو نقاب اور برقعہ نہ کہا جائے تو جائز ہے ۔
جواب:،۔ اگر وہ جماعت پہلی منزل پر منعقد جماعت کے ساتھ ایک ہی جماعت شما ر ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
ایسے شخص کو تعزیر کیا جائے گا اور تعزیر کی مقدار حاکم شرع کی صواب دید پر ہے ۔
جواب: قصاص اور تعذےرات کو بھی شامل ہے۔جواب: ثبوت حد یا قصاص کی دلیل حد اقل حجیّت نہ رکھتی ہوبلکہ حد ےا قصاص کو جاری کرنے کی دلیل ہر چند ظنی ہولیکن محکم دلیل شمار ہونا چاہئے؛ اس طرح کے عرفاً حد یا قصاص کی نسبت شبہ پیدا نہ کرتی ہو۔جواب: معیار تشخیص قاضی ہے۔جواب: قاعدہ درء ان تمام موارد کو شامل ہوتا ہے۔جواب: کوئی فرق نہیں ہے۔
جواب : الف سے آخر تک : ان موارد میں جہاں قتل کی نسبت ایسے شخص کی طرف دی جائے، ویا بعبارت دےگر سبب مباشر سے اقوی ہو ، جیسے پہلی اور دوسری مثالوں میں، قتل صادق آتاہے اور اسی کے احکام جاری ہوتے ہیں، تیسری اور چوتھی مثال میں موارد مختلف ہیں۔
جواب:۔ قیمت کا معیار بیج ڈالنے کا دن ہے ، لیکن ہمارے فتوے کے مطابق ، احتیاط واجب کی بناپر زراعت کے لئے جو بیج بویا گیا ہے اس کی قیمت کوپیداوارسے کم نہیں کرنا چاہئیے البتہ اس مسئلہ میں دیگر مجتہد ین کرام کی جانب، رجوع کرسکتے ہیں ۔
جواب:۔ اگر منھ میں نہ آئے یا بے اختیار نگل لے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: جبکہ واقعاً اس کی جان کو خطرہ ہو اور بچہ بھی چار مہینے سے کم کا ہو تو سقط جنین جائز ہے اور اس کی دیت بیت المال کو ادا کرے گی ۔
جواب:اگر غائب ہونے والا فرزند، بالغ ہوگیا ہے تو مذکورہ وکالت کاکوئی فائدہ نہیں ہے اوراگر نابالغ تھا تب کافی ہے بلکہ اس کو وکالت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
جواب ۔لوگوں کے درمیان جو بھی کھیل جوے اور قمار کے عنوان سے مشہور ہے وہ حرام ہے اور مشکوک کھیل میں کوئی اشکال نہیں ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کے پیسا یا دوسری چیز کی ہار جیت نہ ہو
جواب۔ اگر دعائیں شرعی اور آئمہ سے منقول ہوتی ہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ،لیکن خرافاتی اور پیشہور (تعویزوغیرہ) لکھنا جائز نہیں ہے
اگر اس میں عقلائی غرض موجود ہو اور حد سے زیادہ آزار واذیّت کا سبب نہ ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے۔
جواب: مقلد پر اپنے مجتہد کو خمس دینا اس صورت میں واجب ہے ، جب یہ معلوم نہ ہو کہ دیگر مجتہدین کرام خمس کی رقم کو ،انھیں مصارف میں خرچ کرتے ہیں، جنھیں مقلِّد کے مجتہد لازم جانتے ہیںیا حاکم کے عنوان سے اپنے مقلد سے خمس کی رقم کا مطالبہ کرے اور ان دو صورتوں کے علاوہ ، دیگر مجتہدین کے نظریہ کے مطابق ، خرچ کرسکتا ہے۔
جواب:۔ آپ ان نماز اور روزوں کی قضا ضرور کریں جو آپ کے والد سے کسی عذر کی بناپر ترک ہوئے ہیں ( نیز احتیاط واجب کی بناپر ماں کے روزوں کی قضا کریں )ان کے علاوہ دیگر نما زروزوں کی قضاواجب نہیں ہے ، البتہ احتیاط مستحب ہے ۔
جواب:۔ مفروضہ مسئلہ میںاحتیاط کے طورپر نماز ظہر بھی پڑھے ۔