شب عید فطر بے ہوش رہنے والے شخص کا فطرہ
اگر کو ئی شخص عید الفطر کی شب ، غروب کے وقت بیہوش ہوجائے ، کیا اس سے زکات فطرہ ،ساقط ہے ؟
جواب:۔ بیہوش ہونا زکاة فطرہ کے ساقط ہونے کا باعث نہیں ہوتا۔
جواب:۔ بیہوش ہونا زکاة فطرہ کے ساقط ہونے کا باعث نہیں ہوتا۔
اگر ان کی مخالفت ان کی ایذاء کا سبب ہو تو وہ واجب الاطاعة ہیں ۔
ولی فقیہ کی اجازت لازم نہیں ہے، قاضی کا حکم کافی ہے اور اگر قاضی تک دسترسی نہ ہو تو حاکم شرع کے بجائے ، عادل مومنین اجازت دے سکتے ہیں اور اگر حاکم شرع نے اجازت دیدی لیکن مقتول کے وارث اور اولیاء راضی نہ ہوئے تب ان سے اتمام حجّت کیا جائے گا کہ یا تو قصاص کریں یا بھر قاتل کے راضی ہونے کی صورت میں، دیت وصول کرلیں، اور اگر دونوں باتوں میں سے کسی پر بھی راضی نہ ہوئے تب کافی حد تک ضمانت لیکر اس وقت تک کے لئے قاتل کو رہا کیا جاسکتا ہے جب تک کہ اس کی صورت حال واضح ہو۔
وقف نامہ کے شرایط کی رعایت کرنا واجب ہے اور اس کی مخالفت میں طلاب کا اس مدرسہ میں رہنا صحیح نہیں ہے۔
جواب: وہ گاڑی کے کام نہ کرنے کی خسارت کو مرمت میں صرف ہوئے ضروری دنوں کے حساب سے لے سکتے ہیں ۔
جواب: اگر مستقبل قریب میں اس کی دوبارہ تعمیر نہیں ہوتی تب تو اسی شہر یا گاؤں کی دوسری مسجدوں میں لے جاسکتے ہیں اور اگر دوبارہ تعمیر ہوجائے تو ان کی پہلی جگہ پر واپس لوٹا دیں۔
جواب:اگر لوگ اس بات کو پہلے سے جانتے ہوں ،اور مرضی سے ان کاموں کے لئے قربانی کریں تو کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر لوگ کوپہلے سے خبر نہیں ہے تو اس صورت میں ان کا گوشت عزاداروں کے مصرف میں لایا جائے ۔
جواب: جی ہاں، اس کے لئے مہر المثل ہے۔
جواب: الف سے ج تک: ہر حال میں مذکورہ کاری گر مقصِّر ہے، لیکن اگر کام کے قوانین کے اس معاہدہ کے مطابق کہ جو کاری گر کے ساتھ ہوا ہو، کہ جس میں ایسے فرض میں تمام خسارت مالک کے اوپر آتے ہوں، لازم ہے کہ اس معاہدہ کے مطابق عمل کیا جائے۔
جواب: لڑکی کے بالغ ہونے اور راضی ہونے کی صورت میں ارش البکارہ اور مہرالمثل مشروع نہیں ہے، جبر اور عدم بلوغ کی صورت میں مہرالمثل ثابت ہے، مہرالمثل کی موجودگی میں ارش البکارہ کی نوبت نہیں آتی۔
جواب: یہ اعضاء سر و صورت کے مصادیق میں سے ہیں ، ان کو احکام شجاج شامل ہونگے۔
اس سلسلے میں اسلام نے بہت آسان راہ حل بیان کیا ہے یائسگی (خون حیض کا بند ہوجانا ) پیری کی مانند ایک فطری چیز ہے گرچہ اس کو بیماری نہیں سمجھنا چاہیئے اور عورت کا اس کے برے اثرات سے بچنے کے لیے علاج کرانا صحیح ہے لہذا جس عورت کی عمر قمری سال کے مطابق پچاس سال کی ہوگئی ہے اور وہ خون دیکھے تو یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا بشرطیکہ اس میں تمام علامت حیض کے ہوں اور جن عورتوں کے لیے بار بار غسل کرنا ضرریا زیادہ مشقت کا باعث ہورہا ہو تو وہ عورتیں غسل کے بجائے تیمم کرکے اپنی نماز پڑھیں ۔
جائز نہیں ہے ، باقی نماز کو حضور قلب کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کرے ۔
جواب :۔ اس کا حج صحیح ہے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوںطوافو ( اور سعی و تقصیر) کو دوبارہ اعادہ کرے ار اگر قادر نہیں ہے تو کسی کو نائب بنائے ۔
جواب : ان کی نماز صحیح ہے اور اعاد ہ لازم نہیں ہے ۔