سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

خود آسودگی (استمناء) کے نقصاتات

کہا جاتا ہے”استمناء کا خود کوئی ضرر نہیں ہے، بلکہ لوگوں کو خوف دلانے کی وجہ سے ضرر کا باعث ہوجاتا ہے“ کیا یہ بات صحیح ہے؟

جواب: اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ استمناء غیر طبیعی آسودگی کی ایک قسم ہے، اس کا نقصان دہ ہونا ایک واضح امر ہے اس کے علاوہ بہت سے افراد نے ہماری طرف مراجعہ کیا اور کہا ہے:”ہم نے یہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ استمناء ضرر رکھتا ہوگا، لیکن اچانک اپنے کو اس کے برے آثار کا شکار پایا“ اور یہ بہترین دلیل ہے کہ خوف ان نقصانات کا اصلی عامل نہیں ہے ؛ البتہ خوف ان نقصانات کو شدت بخشتا ہے․ یہ نکتہ بھی اہمےت کا حامل ہے کہ استمناء کے نقصانات خصوصاً جوانوں میں اس کے ترک کرنے کے بعد تدرےجا ختم ہوجاتے ہےں ، مہم یہ ہے کہ جلد بیدار ہوجائیں اور اس کو ترک کردیں۔

دسته‌ها: استمناء

دیت کے علاوہ عدم نفع کی خسارت کا لینا

عدم نقع کی خسارت کے سلسلہ میں چاہے نفع قریب الحصول یا متوقع الحصول ، معظَّم لہ کی نظر کیا ہے ؟ مہربانی فرماکر ذیل میں دیے گئے مصادیق کا حکم بیان فرمائیں :الف۔ ایک ڈرائیور اپنی گاڑی سے روزی کماتا تھا ۔ ایکسیڈینٹ اور نقصان کی وجہ سے چار مہینے کام نہ کرسکا ، ماہر ین کی نظر کے مطابق گاڑی کی مرمَّت ہونے میں چار مہینے کا وقت درکار تھا ۔ کیاگاڑی کا ڈرائیور گاڑی کی مرمَّت کے خرچ کے علاوہ ان چار مہینوں میں ہوا نقصان کا خرچ بھی حادثہ کے مقصِّر سے طلب کرسکتا ہے ؟ب۔ جب کبھی ایسا شخص جسکا پیشہ طبابت ، جرّاحی یا کوئی اور پیشہ ہو عمدی یا غیر عمدی بدنی نقصان کے سبب کام کرنے سے عاجز ہوجائے اور ماہرین کی نظر کے مطابق یہ شخص آخری عمر تک کام کرنے سے عاجز ہو گیا ہو، کیا یہ شخص دیت کے علاوہ ماہانہ آمدنی کو حادثہ کے مقصَّر سے طلب کرسکتا ہے ؟ج۔ ایک شخص نے اغوا جیسے جرائم، عدالت میں بلاوجہ کا مقدمہ قائم کرکے جیل کرانا ،عدالت میں جعلی کاغذات داخل کرکے عمارت بنانے پر کام کے رکوانے کا مجوِّز ( stay)لے لینا اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بغیر اس کے کہ مد مقابل کو کوئی بدنی نقصان پہنچائے، اس کے حصول معاش میں اور کام میں رکاوٹ کھڑی کردی ہے اور اس کے نقصان کا سامان مہیَّا کردیا ہے اور اس رکاوٹ کا نقصان بھی بڑی رقم اور قابل توجہ تھا ۔ کیا نقصان اٹھانے والا شخص اپنی قید کی مدّت کا نقصان یا عمارت بنانے میں تا خیر کی وجہ سے اس نقصان کی خاطر جو کرایہ پر چڑھنے کی بابت ہوا ہے ، نقصان پہنچانے والے سے طلب کرسکتا ہے ؟د۔ کیا مقتول کے واجب النفقہ وارثین کہ جو قتل کے بعد نفقہ سے محروم ہوگئے، دیت کے علاوہ اس مدت کا نفقہ کہ جس میں وہ بطور معمول نفقہ کے مستحق ہیں قاتل سے مطالبہ کرسکتے ہیں مثلاً مقتول کی بیوی جب تک وہ دوسری شادی نہ کرے یا مقتول کے نابالغ بچّے جب تک وہ بالغ اور کام کرنے کے لائق نہ ہو جائیں اپنے اس نقصان کا مطالبہ کرسکتے ہیں ؟

جواب: جن موار میں دیت لی جاتی ہے ، دوسرے نقصانات کا دینا ضروری نہیں ہے ، لیکن گاڑی کے نقصان، کاری گر کا کام سے رک جانا، یا وہ عمارت جس کا کام بلاوجہ روک دیا گیا ہو ان تمام موارد میں اجرت المثل ادا کرنا ہوگا ۔

زد و کوب کئے ہوئے شخص کا علاج میں بے توجہی کی وجہ سے مرجانا

لڑائی جھگڑے کے دوران ایک آدمی نے دوسرے شخص کو زخمی کردیا، زخم ایسا تھا جو عام طور پر مرنے کا باعث نہیں ہوتا اور ڈاکٹرسے علاج کراکر صحیح ہوجاتا ہے، (مثال کے طور پر اس کی انگلی کا ایک حصّہ کاٹ دیا) لیکن زخمی شخص علاج کرانے کے لئے عمداً ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا ۔(اب یاتو غربت اور علاج کیلئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے یا بے توجہی اور لاپرواہی کی بناپر یا پھر لجاجت کی وجہ سے علاج نہیں کراتا) بہر حال زخم بڑھ جاتا ہے، سیپٹک ہوجاتا ہے جو بدن کے دوسرے حصوں تک سرایت کرجاتا ہے اور آخر کار اس کے مرنے کا باعث ہوجاتا ہے، مسئلہ کے فرض میں کیا مارنے والا، قتل عمد کا مرتکب ہوا ہے اور اس کا قصاص ہونا چاہیے یا یہ کہ چونکہ قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا، قتل شبہ عمد ہے، یا اصل میں قتل اس سے منسوب ہی نہیں ہے یعنی وہ قاتل ہے ہی نہیں بلکہ فقط زخم لگانے کی وجہ سے اس کے اوپر قصاص یا دیت دینے کا حکم جاری ہوگا؟

مسئلہ کے فرض میں، مارنے والا شخص عمد کی صورت میں قصاص اور غیر عمد کی صورت میں، اس عضو کی دیت سے زیادہ کس دوسری چیز کا ضامن نہیں ہے ۔

دسته‌ها: قصاص کے احکام

تملیک کے ساتھ وقف کے عنوان میں اختلاف

جو چیزیں مسجد میں دی جاتی ہیں ممکن ہے کبھی وہ وقف کے عنوان سے دی جائیں اور کبھی تملیک یعنی مسجد کی ملکیت کے عنوان سے ، کیا ان دونوں عنوانوں کے شرعی احکام جدا جدا ہیں؟

جواب: جی ہاں مختلف ہیں، جہاں پر تملیک کے عنوان سے ہے وہاں پر کام آسان ہے اور مسجد کی مصلحت کے مطابق اس کو تبدیل کیا جاسکتا ہے، لیکن اگر وقف ہے تو جب تک اس موقوفہ چیز کا استعمال ختم ہونے کی حد تک نہ پہونچ جائے اس وقت تک اس کو تبدیل کرنا جائز ہے۔

دسته‌ها: مسجد کا وقف

دفاع کا دعویٰ کرنے والے کے ذریعہ چور یا جانی کے قتل کا حکم

سوال ۹۰۶ -- جنایت کرنے والے یا چور سے مقابلہ کے جائز نہ ہونے کی صورت میں ، دفاع کے مدّعی کے ذریعہ جانی یا چور کے قتل کا کیا حکم ہے؟

جواب: یہ ثابت ہونا چاہیے کہ دفاع کے مدّعی کے ذریعہ ، واقعاً چور کو مقام دفاع میں قتل کیا ہے اور اس کے سوا اپنی جان یا مال کی حفاظت کے لئے کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

حق المارۃ (راستہ کے درخت سے کھانا) جایز ہے

کیا حق المارہ (راستہ میں پڑنے والے پیڑ سے کھا لینا) جایز ہے؟

ہاں، راستہ میں پڑنے والے درختوں سے ضرورت بھر پھل یا میوہ توڑ کر کھانا جایز ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ اسی کام کی غرض سے گھر سے نہ نکلا ہو اور اپنے کھانے کے ساتھ اپنے ساتھ نہ لے جائے اور اس کا پھل کھانا کسی لڑائی چھگڑے کا سبب بہ بنتا یو اور احتیاط واجب یہ ہے کہ اگر یقین ہو کہ اس کا مالک راضی نہیں ہوگا تو پرھیز کرنا چاہیے۔

دسته‌ها: راه گیر کا حق
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت