سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

مہر کی رقم دینے کیلئے رہائشی مکان بیچنا

ایک شخص اپنی بیوی کے چالیس لاکھ تومان مہر کا مقروض ہے ، شہر میںبہترین جگہ اور محلہ میں ، اس کا رہائیشی مکا ن ہے جس کا اب اس وقت تیس لاکھ تومان کا خریدار موجود ہے،کیا یہ رہائیشی مکان فرض کے مستشنیات کا حصہ ہے ؟

جب بھی ، مذکورہ قرض کا مطالبہ ہو ، اور مکان اس کی شان و منزلت سے بڑھ کر ہو تو اس صورت میں ، اس مکان کو ایسے مکان سے بدل لے کہ جو اس کی شان کے مطابق ہو اور مزید اضافی قیمت کو قرض کی ادائیگی میں خرچ کرے۔

قرائت اور اذکار نماز میں قصد انشاء کرنا

کیا سورہٴ حمد اور نماز کے تمام اذکار میں انشاء کا قصد کرنا جائز ہے؟

اذکار، نماز، اور قرائت حمد وغیرہ کے معنی کا سمجھنا اور قصد انشاء کرنا نہ فقط جائز بلکہ بہت اچّھا ہے اور یہاں پر چند نکتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے:۱۔ کوئی شک نہیں ہے کہ ان الفاظ کا مقصد ان کے معانی ہیں، تسبیح وتحلیل وحمد وتعریف کا ہدف خدا ہے اور یہ مطلب بغیر معنی کے قصد کے الفاظ کے قصد سے حاصل نہیں ہوسکتا ، یہاں تک کہ ہمارے عقیدہ کے مطابق سورہٴ حمد بھی ایسا ہی ہے، آیات اور تعبیرات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ پروردگار کے سامنے بندہ کی زبان سے ہیں اور یہ فکر کہ ان میں قصد انشاء کرنا قصد قراٴنیت کے منافی ہیں، ایک بڑی غلطی ہے کہ جس سے خدا سے پناہ مانگنی چاہیے؛ کیونکہ یہ سورہٴ حمد کے مقصد کو بالکل ختم کردیتا ہے خصوصاً ان روایات کو ملاحظہ کرنے کے بعد جو سورہٴ حمد کے سلسلے میں وارد ہوئی ہیں ۔۲۔ کوئی شک نہیں ہے کہ سورہٴ توحید یا دوسرے وہ سورے جو نماز میں پڑھے جاتے ہیں اس امر سے جدا ہیں اور خداوندعالم کے کلمات کی حکایت، پند ونصیحت اور تعلیم کے لئے ہیں (مثلاً کوئی بھی ”قل ھو الله احد“ میں قصد انشاء نہیں کرتا ہے) ۔۳۔ معنا کا قصد کرنا کہ کبھی تفصیلی ہے (جیسے خواص کا قصد) اور کبھی اجمالی ہے (جیسے وہ قصد جو عوام کرتے ہیں) عوام جانتے ہیں کہ یہ کلمات، حمد وتسبیح وتمجید وثناء ودعا ہیں؛ لیکن ان کی جزئیات کو نہیں جانتے ہیں ۔۴۔ حق یہ ہے کہ اجمالی قصد کافی نہیں ہے اور عوام پر ضروری نہیں ہے کہ نماز کے معانی کو بطور تفصیل سمجھیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں عرب زبانوں کے علاوہ بہت زیادہ قومیں اسلام میں داخل ہوئی ہیں جو عربی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں میں بات کرتی ہیں، اگر قرائت نماز کے اذکار وقرائت کے معانی کا تفصیل کے ساتھ جاننا واجب ہوتا تو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ علیہم السلام کی روایات میں اس کی طرف اشارہ ہوتا ، خصوصاً بہت آئمہ علیہم السلام تو اس کا ذکر کرتے ہی جیسے امام رضا علیہ السلام کہ جنھوں نے ایک مدت ایرانیوں کے ساتھ زندگی گذاری ہے ۔

دسته‌ها: قرائت

حقوقی اور کیفری مدت کا گزر جانا

آپ اپنا نظریہ حقوقی زمانہ (اتنی مدت کا گزر جانا کہ پھر اسکے بعد محکمہ عدالت میں اسکے مقدمہ کی سماعت نہ ہو )کے سلسلے میں اور کیفر ی زمانہ (اتنی مدت گزر جائے کہ پھر مجرم کا تعاقب نہ کیا جائے یا گر تعاقب کیا جارہا تھا تو پھر اسکے بعد تعاقب جاری نہ رہے یا اگر یقینی حکم صادر ہو گیا ہو تو پھر اس پر عمل در آمد نہ ہو سکے متعلق بیان فرمائیں ؟

جواب : ظاہراً اسلام کے فقہی قوانین میں مدت گزرنے کے نام سے کوئی قاعدہ یا قانون نہیں ہے فقط جو بات اس سلسلے میں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ کبھی کبھی مدت کا گزرنا صاحب حق کے اعراض اور اس کے بری ہونے پر یقینی دلیل یا شرعی حجت ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی ممکن ہے کہ عناوین ثانویہ ّ اس طرح کے جرائم یا حقوق کی تحقیق کے لئے مانع ہو جائیں لیکن ان دو صورتوں کے علاوہ ظاہراً کوئی مسئلہ مدت گزر جانے کے نام سے نہیں پایا جاتا ہے

دسته‌ها: قضاوت
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت