سہم سادات کو ضروریات زندگی میں تبدیل کرنا
خمس کی رقم کو، دیگر اجناس ،جیسے لباس اور زندگی کے دیگر وسائل میں تبدیل کرنااور انھیں سادات کو دینا کیسا ہے خصوصاً اُس صورت میں جبکہ سید، سہم سادات کو قبول کرنے سے ، بہت ہی ناراض ہوتا ہو؟
جواب: احتیاط کی بناپر خمس کی رقم کا دیگر اجناس میں تبدیل کرنا جائز نہیں ہے، مگر جبکہ سادات بذات خود تقاضا کریں اور ضروری نہیں ہے کہ اس رقم کو سہم سادات کے عنوان سے، انھیں دیا جائے کہ وہ ناراض ہوجائیں بلکہ ہدیہ کی شکل میں بھی دے سکتے ہیں۔
تجارت کا ارادہ کئے بغیر، حاصل شدہ منافع میں خمس
کام کو شروع کرتے وقت خواہ درخت ہوں یا مویشی اور جانور، تجارت کرنے کا ارادہ نہیں ہوتا بلکہ خرچ کا قصد ہوتاہے اور کبھی نہ خرچ کا ارادہ ہوتا ہے اور نہ تجارت کا قصد ہوتا ہے بلکہ ایسے ہی پال لیتا ہے لیکن پھل آنے یامویشوں کے پل جانے کے بعد تجارت اور گھریلو خرچ ، دونوں کے لئے استعمال کرتا ہے اس صورت میں خمس کا کیا حکم ہے بیان فرمائیں ؟
جواب:۔ شخصی استعمال اور گھر کے خرچ کے لئے جو مقدار ضروری ہے اس پر خمس نہیں ہے اور ا س کے علاوہ باقی مقدار پرخمس ہے ۔
نماز طواف کے لئے خواتین کی نیابت
کیا عورت دوسرے کی نیابت میں ، نماز طواف پڑھ سکتی ہے ؟
جواب:۔ کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
قربانی بھیجنے کے بعد محصور کی صحتیابی
اس شخص کا کیا وظیفہ ہے جو محصورتھا اور اس نے اپنی قربانی کو منیٰ میں بھی بھیجدیا تھا اس کے بعد اس کی بیماری کی شدت میں کمی آگئی ہے ؟
جواب :۔ اس کے لئے باقی حاجیوں سے ملحق ہونا واجب ہے نیز تمام اعمال انجام دے م قربانی کرے اس صورت میں اس کا حج صحیح ہے ۔
حج کے لئے وصیت کرنے پر مجبور کیا جانا
ایک شخص مستطیع نہیں ہوا تھا لیکن چند سال پہلے ، مرض موت میں، چند لوگ اس کو حج میقاتی کے عنوان سے پانچ ہزار افغانی کی وصیت کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، کیا یہ وصیت صحیح ہے اور اگر صحیح ہے تو چونکہ یہ رقم میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس سلسلہ میں کیا وظیفہ ہے ؟
جواب :۔ اگر وصیت کرنے پر واقعاً مجبورکیاتھا تو یہ وصیت نافذ نہیں ہے لیکن اگر لوگوں کے اصرار کرنے سے وہ شخص خود وصیت کرنے پر راضی ہو گیا تھا اور مذکورہ رقم ، میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس رقم کو کارخیر میں خرچ کریں ۔
جرم واقع ہونے میں سبب اور مباشر کا ایک جگہ جمع ہونا
سبب اور مباشر کے اجتماع کی صورت میں جب کہ دونوں بطور مساوی مقصّر ہوں، کیا دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور دونوں ہی کو محکوم کیا جائے گا؟ یا مباشر کے ہوتے ہوئے سبب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور سبب کو اس وقت ذمہ دار ٹھہرا یا جاسکتا ہے جب کہ سبب مباشر سے اقویٰ ہو؟
جواب: سبب اور مباشر کے مسئلے میں اقوائیت معیار ہے، اگر سبب اقوی ہوگا تو اس کی طرف نسبت دی جائے گی اور اگر مباشر اقوی ہوگا تو اس کی طرف نسبت دی جائے گی اور اگر دونوں مساوی ہوں گے تو دونوں ضامن ہیں۔
ارش کا حساب کرنے کا طریقہ
اعضاء بدن کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ارش کے معین ہونے کے بارے میں فرمائیں:الف) کیا ارش کا حساب نقصان پہنچنے والے عضو کی نسبت سے ہوگا یا انسان کی کامل دیت کی نسبت سے؟ب) انسان کی کامل دیت کی نسبت سے حساب ہونے کی صورت میں ، کیا نقصان پہنچنے والے عضو کی دیت سے زیادہ ارش معین کیا جاسکتا ہے؟
جواب: الف وب: اس صورت میں جبکہ ضرر فقط عضو کو پہنچا ہو تو اسی نسبت سے ارش کا حساب ہوگا اور اگر بالفرض عضو کی کارکردگی کو تو کوئی نقصان نہ پہنچا ہو لیکن ایک کلی نقصان بدن کو پہنچا ہو تو ارش کا حساب کامل دیت کی نسبت سے کرنا چاہیے؛ چاہے عضو کی دیت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوجائے۔
ممنوع التصرف کا حکم صادر ہونے کے بعد مقروض کی آمدنی
کیا ممنوع التصرف کا حکم صادر ہونے کے بعد مقروض کے کاروبار کی آمدنی، قرض خواہوں سے متعلق ہوگی؟
جی ہاں، ممنوع التصرف کا حکم صادر ہونے کے بعد، قرض خواہوں سے مربوط ہے ۔
خمس کو مصرف کرنے کے لئے مجتہد کا اجازہ۔
سہم امام یا سہم سادات، خرچ کرنے کے لئے کیا حاکم شرع کی اجازت کی ضرورت ہے؟
جواب: سہم امام کے لئے ، حاکم شرع کی اجازت واجب ہے اور سہم سادات کے لئے بھی احتیاط واجب کی بناپر حاکم شرع کی اجازت لینا چاہیے۔
خنثی کی نماز میت اور غسل
کوئی انسان اس دنیا سے چل بسا لیکن یہ معلوم نہیں کہ مرد تھا یا عورت ، اس شخص کی نماز میت اور غسل کی کیفیت کیا ہوگی؟
جواب: اگر مقصود خنثیٰ ہے تو لازم ہے کہ ا س کے محرم غسل دیںاور اگر محرم نہ ہوں تو عورت یا مرد دونوں اس کو غسل دے سکتے ہیں ۔ اور نماز میں احتیاط کے مطابق عمل کریں ۔
مدرسہ کے امکانات سے ذاتی فایدہ اٹھانا
مدرسہ کے امکانات سے تحصیلی امور کے لیے پرنسپل کی اجازت سے ذاتی فایدہ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟ کسی چیز کا نقصان ہونے کی صورت میں اس کے پیسے ادا کر دینے سے ذمہ بری ہو جائے گا؟
اگر اسکول کا پرنسپل قانون کے مطابق اجازت دے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ کہے کہ یہ قانون کے مطابق ہے تو اس کا یہ کہنا کافی ہے۔
طبی اور صنعتی الکحل کا شرعی حکم
ٓپ سے درخواست ہے عقیدے کے باطل ہونے پر جو دلیلیں دلالت کرتی ہیں ان دلیلوں کوبیان فرمائیں۔
جواب: عروة الوثقی کے حاشیہ اور اس کی شرح کی طرف رجوع فرمائیں۔
وصیت کا ذہنی طور سے کمزور بچوں کو شامل ہونا
۱۴/ سال پہلے میرے والد جاں بحق ہوگئے تھے، ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں، مرنے سے کئی سال پہلے سرکاری کاغذات کے دفتر(تحصیل) میں وصیت کی اور انھوں نے اپنی دائمی زوجہ (جواس وقت ۸۸ سال سن رکھتی ہے)اور اس کے بڑے بیٹے سید جواد (یعنی مجھ) کو موصی کی اپنی دیگر چھوٹی اولاد کو ادارہ کرنے کے سلسلے میں ، موصی بھی اپنے مرنے کے بعد ، وصی قرار دیا اور وصیت میں ذکر کیا کہ بڑے ہونے کے بعد دوسرے بھائی وصایت میں شریک رہیں گے ، جس تاریخ میں یہ وصیت نامہ لکھا گیاتھا اس وقت ہماری چھوٹی بہن پیدا بھی نہیں ہوئی تھی اور وہ پیدائشی کم ذہنی کا شکار تھی اور اب بھی ہے ، اب جبکہ وہ اکتالیس (۴۱) سال کی ہے کیا اس کے بھائی اپنی چھوٹی بہن کے لئے اب بھی قیم ہوسکتے ہیں؟ اور کیا اب بھی یہ وصیت نامہ اپنی حالت پر باقی ہے شایان ذکر ہے کہ والد کے مرنے سے اب تک ان چودہ سالوں کی مدت میں اس کے بھائیوں نے اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔
جواب: اس صورت میں جب وصیت نامہ مطلق ہو اور اس میں کوئی قید وشرط نہ ہو تو اس اولاد کی قیمومیت کہ جو عقل کافی سے بے بہرہ ہیں ان کے شامل حال ہوگا

