وصیت کا ذہنی طور سے کمزور بچوں کو شامل ہونا
۱۴/ سال پہلے میرے والد جاں بحق ہوگئے تھے، ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں، مرنے سے کئی سال پہلے سرکاری کاغذات کے دفتر(تحصیل) میں وصیت کی اور انھوں نے اپنی دائمی زوجہ (جواس وقت ۸۸ سال سن رکھتی ہے)اور اس کے بڑے بیٹے سید جواد (یعنی مجھ) کو موصی کی اپنی دیگر چھوٹی اولاد کو ادارہ کرنے کے سلسلے میں ، موصی بھی اپنے مرنے کے بعد ، وصی قرار دیا اور وصیت میں ذکر کیا کہ بڑے ہونے کے بعد دوسرے بھائی وصایت میں شریک رہیں گے ، جس تاریخ میں یہ وصیت نامہ لکھا گیاتھا اس وقت ہماری چھوٹی بہن پیدا بھی نہیں ہوئی تھی اور وہ پیدائشی کم ذہنی کا شکار تھی اور اب بھی ہے ، اب جبکہ وہ اکتالیس (۴۱) سال کی ہے کیا اس کے بھائی اپنی چھوٹی بہن کے لئے اب بھی قیم ہوسکتے ہیں؟ اور کیا اب بھی یہ وصیت نامہ اپنی حالت پر باقی ہے شایان ذکر ہے کہ والد کے مرنے سے اب تک ان چودہ سالوں کی مدت میں اس کے بھائیوں نے اس کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔
جواب: اس صورت میں جب وصیت نامہ مطلق ہو اور اس میں کوئی قید وشرط نہ ہو تو اس اولاد کی قیمومیت کہ جو عقل کافی سے بے بہرہ ہیں ان کے شامل حال ہوگا
نماز طواف کے لئے خواتین کی نیابت
کیا عورت دوسرے کی نیابت میں ، نماز طواف پڑھ سکتی ہے ؟
جواب:۔ کوئی ممانعت نہیں ہے ۔
جس نایب نے عمرہ تمتع کو ذی القعدہ میں انجام دیا ہو اور کسی کام کے لئے حرم سے نکل جائے
اگر حج تمتع پر جانے والے قافلہ کے خدمت گزارماہ ذی قعدہ میں مکہ پہنچ جائیں اور عمرہ تمتع کو بجالائیں اور ماہ ذی الحجہ میں ان سے کہا جائے کہ قافلہ کے کسی کام کو انجام دینے کےلئے حرم سے باہر عرفات یا دوسرے علاقہ میں جائیں تو کیا اس کی نیابت میں اشکال ہے ؟ اور کیا دوبارہ مکہ واپس جائے ؟
اس کی نیابت میں کوئی حرج نہیں ہے اور دوبارہ احرام کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔
چھت والی گاڑی میں سفر کرنا
وہ حاجی حضرات جو ابتداء شب میں مسجد شجرہ یا جمعہ میں محرم ہو کرراتوں رات مکہ مکرمہ میں داخل ہوجاتے ہیں کیا یہ حضرات چھت والی گاڑی میں سوار ہوکر مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں ؟
جواب:۔جائز ہے اور کفارہ نہیں ہے مگر بارانی اور سرد راتوں میں کہ اس صورت میں ایک بھیر بکری ، کفارہ دیں۔
وہ نائب جس نے دوسرے شخص کو اجیر کیاہے
ایک شخص کی چند اولاد ہیں ، اس نے مصالحہ کے عنوان سے اپنی تمام مال و دولت ، اپنی اولاد میں سے دو(۲) اولاد کو دیدی ہے ، لیکن شرط کی ہے کہ اس کے مرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ چار سال کے اندر ، کسی شخص کو اس کی نیابت میں حجة الاسلام ( واجب حج) کرنے کے لئے بھیجدیا جائے ،اس کے بیٹے نے شرط کے مطابق عمل کیا او ر چھوتے سال ، کسی کو اپنے شہر سے حج کرنے کے لئے بھیجدیا ، لیکن یہ نائب دوسرے شہر پہونچا تو خود نہیں گیا بلکہ دوسرے شخص کو میقات سے حج کرنے کے لئے بھیجدیا ، اس نے میقاتی حج انجام دیدیا حالانکہ اس مرحوم کی اولاد واقعہ سے بے خبر ہے ( یاد رہے کہ اس جگہ کے لوگوں کے لئے میقاتی حج غیر معروف ہے اور نیابت سے حج بلدی ( اپنے شہر کے حج حج کرنا ) مراد ہوتا ہے )سوال یہ ہے کہ :الف) کیا نائب کو دوسرے شخص کو نائب بنانے کا حق ہے ؟ب)کیا انجام دیا گیا حج ، میت کی جانب سے صحیح ہے اور مرحوم بری الذمہ ہوگئے ہیں ؟ج)مصالحہ کا کیا حکم ہے ؟د) کیا شرط پر عمل ہو گیا ہے ؟ اس لئے کہ مرحوم کی دوسری اولادیں ، مدعی ہیں کہ شرط پر عمل نہیں ہوا ہے لہٰذا باقی بچا ہوا مال میراث کے عنوان سے وارثوں میں تقسیم ہونا چاہےئے۔
جواب: الف) نائب کو دوسرے شخص کو نائب بنانے کا حق نہیں ہے ۔ب) انجام دیا ہوا حج صحیح ہے اور میت بری الذمہ ہوگئی ہے ۔ج)مصالحہ اپنی جگہ پر باقی ہے ۔د) میت کا فرزند حج کی رقم کو پہلے نائب سے ضرور واپس لے لے اور بہتر یہ ہے کہ وارثوں کے درمیان تقسیم کرے ۔
شادی کے خرچ کے لئے پیسہ جمع کرنا
وہ اشخاص جو اقتصادی اعتبار سے کمزور ہیں، کیا بیٹے کی شادی یا بیٹی کے جہیز کے لئے پیسہ جمع کرسکتے ہیں؟
اس پر خمس ہوگا لیکن اگر وہ زیادہ تنگی میں ہوں تو ہم اس پیسے کے خمس کو ان لوگوں پر معاف کردیں گے
حج کے لئے وصیت کرنے پر مجبور کیا جانا
ایک شخص مستطیع نہیں ہوا تھا لیکن چند سال پہلے ، مرض موت میں، چند لوگ اس کو حج میقاتی کے عنوان سے پانچ ہزار افغانی کی وصیت کرنے پر مجبور کرتے ہیں ، کیا یہ وصیت صحیح ہے اور اگر صحیح ہے تو چونکہ یہ رقم میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس سلسلہ میں کیا وظیفہ ہے ؟
جواب :۔ اگر وصیت کرنے پر واقعاً مجبورکیاتھا تو یہ وصیت نافذ نہیں ہے لیکن اگر لوگوں کے اصرار کرنے سے وہ شخص خود وصیت کرنے پر راضی ہو گیا تھا اور مذکورہ رقم ، میقاتی حج کے لئے کافی نہیں ہے تو اس رقم کو کارخیر میں خرچ کریں ۔
سہم سادات کو ضروریات زندگی میں تبدیل کرنا
خمس کی رقم کو، دیگر اجناس ،جیسے لباس اور زندگی کے دیگر وسائل میں تبدیل کرنااور انھیں سادات کو دینا کیسا ہے خصوصاً اُس صورت میں جبکہ سید، سہم سادات کو قبول کرنے سے ، بہت ہی ناراض ہوتا ہو؟
جواب: احتیاط کی بناپر خمس کی رقم کا دیگر اجناس میں تبدیل کرنا جائز نہیں ہے، مگر جبکہ سادات بذات خود تقاضا کریں اور ضروری نہیں ہے کہ اس رقم کو سہم سادات کے عنوان سے، انھیں دیا جائے کہ وہ ناراض ہوجائیں بلکہ ہدیہ کی شکل میں بھی دے سکتے ہیں۔
حمل کا ایک رحم سے دوسرے رحم میں منتقل کرنا
ڈاکٹر بچے کو اس عورت کے رحم سے نکال سکتے ہیں جس میں حمل مستقر (ٹھر) نہیں رہ پاتا اور اسے کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈال سکتے ہیں جس میں وہ سالم طور پر پرورش پا کر پیدا ہو، اس تمہید کے ضمن میں درج ذیل سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف: اگر ایک مرد کی دو بیویاں ہوں (نطفہ ایک ہی شوہر کا ہونے کی صورت میں) کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ب: اگر عورت اجنبی ہو تو ایسا کرنے کا کیا حکم ہے؟ج: ایسا کرنے میں روح پڑنے یا نہ پڑنے سے کوئی فرق پڑتا ہے؟
جواب: مذکورہ تینوں صورتوں میں (حمل ٹھرنے کے بعد) نطفہ منتقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن چونکہ ایسا کرنا عام طور پر حرام لمس و نظر کا باعث ہوتا ہے لہذا صرف ایسی صورت میں جائز ہے جہاں شدید ضرورت کا تقاضا ہو۔
مدرسہ کے امکانات سے ذاتی فایدہ اٹھانا
مدرسہ کے امکانات سے تحصیلی امور کے لیے پرنسپل کی اجازت سے ذاتی فایدہ اٹھانے کا کیا حکم ہے؟ کسی چیز کا نقصان ہونے کی صورت میں اس کے پیسے ادا کر دینے سے ذمہ بری ہو جائے گا؟
اگر اسکول کا پرنسپل قانون کے مطابق اجازت دے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ کہے کہ یہ قانون کے مطابق ہے تو اس کا یہ کہنا کافی ہے۔
مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرنے والے کا اسلام قبول کرنا
اگر غیر مسلم مرد، مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے اور اجرائے حد کے شرائط بھی فراہم ہوں، لیکن زانی مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے ذیل کے دو فرضوں میں مذکورہ قضیہ کا حکم کیا ہوگا اور اس کی سزا کیا ہے؟الف)اثبات جرم کے بعد مسلمان ہوا ہو؟ب) اثبات جرم سے پہلے مسلمان ہوا ہو؟
جواب: جب بھی گرفتاری سے پہلے مسلمان ہوجائے ، حد ساقط ہوجائے گی اور اگر گرفتاری اور قیام بیّنہ (گواہ) کے بعد اسلام لائے تو حد ساقط نہیں ہوگی اس کی سزا قتل ہے؛ مگر یہ کہ عناوین ثانویہ اس طرح کے موارد میں مانع ہوں۔
جرم واقع ہونے میں سبب اور مباشر کا ایک جگہ جمع ہونا
سبب اور مباشر کے اجتماع کی صورت میں جب کہ دونوں بطور مساوی مقصّر ہوں، کیا دونوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور دونوں ہی کو محکوم کیا جائے گا؟ یا مباشر کے ہوتے ہوئے سبب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور سبب کو اس وقت ذمہ دار ٹھہرا یا جاسکتا ہے جب کہ سبب مباشر سے اقویٰ ہو؟
جواب: سبب اور مباشر کے مسئلے میں اقوائیت معیار ہے، اگر سبب اقوی ہوگا تو اس کی طرف نسبت دی جائے گی اور اگر مباشر اقوی ہوگا تو اس کی طرف نسبت دی جائے گی اور اگر دونوں مساوی ہوں گے تو دونوں ضامن ہیں۔
خمس کو مصرف کرنے کے لئے مجتہد کا اجازہ۔
سہم امام یا سہم سادات، خرچ کرنے کے لئے کیا حاکم شرع کی اجازت کی ضرورت ہے؟
جواب: سہم امام کے لئے ، حاکم شرع کی اجازت واجب ہے اور سہم سادات کے لئے بھی احتیاط واجب کی بناپر حاکم شرع کی اجازت لینا چاہیے۔

