میراث میں خنثیٰ مشکلہ کا حکم
کیا خنثیٰ مشکلہ، عورت اور مرد کے علاوہ حقیقت میں کوئی تیسری صنف ہے ، یا اس کا حکم دونوں میں سے کسی ایک کا حکم ہے؟
جواب: خنثیٰ مشکلہ حقیقت میں یا مذکر ہے یامونت۔
جواب: خنثیٰ مشکلہ حقیقت میں یا مذکر ہے یامونت۔
اگر آپ پہلے یہ تصور کرتے تھے کہ آپ کی نماز صحیح ہے تو دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔
عدم النفع کی صورت میں اکراہ صدق نہیں کرتا ۔
جواب: میت کے مطالبات ہرچیز پر مقدم ہیں اور مسئلہ کے فرض میں اولیاء دم (وارثین) کو معاف کرنے کا حق نہیں ہے۔
جواب :۔ اگر تدریجی طور پر صحیح کرسکتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ آہستہ آہستہ قرائت صحیح کرے وگر نہ جس قدر قدرت رکھتا ہے اسی مقدار میں نماز پڑھے اور نائب بنا نا لازم نہیں ہے یا جماعت کے ساتھ بجالائے ۔
اگر موصوف یہ کہتے ہوں کہ ان کے لئے یہ کام جائز تو اس صورت میں تم پر کوئی اشکال نہیں ہے ۔
دونوں کے بارے میں اسلامی آداب کا لحاظ رکھا جائے، اور خیال رہے کسی کی ہتک حرمت اور توہین نہ ہو، مگر وہ اقوام جو مسلمانوں کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں ۔
جواب: اس کام میں جس قدر جس کا حصّہ ہو گا اسی قدر دیت ، اُن کے اوپر ہوگی ۔
جواب: ڈاکٹروں کے مطابق اگر ماں کی جان کو خطرہ کا یقین یا احتمال ہو یا شدید ضرر پہچ رہا ہو تو ایسا کرنا جائز ہے ۔ (البتہ جب تک وہ مکمل انسانی شکل میں نہ آ چکا ہو) اور چونکہ دیت واجب ہو جانے کا احتمال ہو سکتا ہے لہذا احتیاط یہ ہے کہ اس بچے کے ورثاء (ماں باپ کے علاوہ) اپنی مرضی سے اسے (دیت) ترک کر دیں۔
کوئی حرج نہیں ، غسل کرسکتی ہے ، غسل جنابت کرنے سے جنابت سے وہ پاک ہوجائے گی ، نیز مستحبی غسل بھی کرسکتی ہے ۔
ا،اور ۲: وقف کا معیار عرفی ہے؛ چاہے سانس توڑے یا نہ توڑے، اور فقط اس جگہ جائز ہے جہاں جملہ کا رباطہ قطع نہ ہو۔کوئی فرق نہیں ہے ۔وقف بہ حرکت نماز کے ہر جزء میں خلاف احتیاط ہے ۔
جواب: اگر اس کا گناہ اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہو تو اس صورت میں حاکم شرع توبہ کے بعد اس کو معاف کرسکتا ہے۔
آپ ان کے پیسے کو استعمال کرسکتے ہیں بشرطیکہ اس کے خمس کو ادا کریں ۔باپ کا محتاج ہونا کوئی مہم نہیں بات ہے، کوشش کریں کہ اچھے اخلاق اور مودّبانہ طریقے سے اپنے والد کو راہ راست پرلے آئیں ۔کوشش کریں کہ آہستہ آہستہ تواضع، انکساری، بردباری اور خوش زبانی سے ان کے دل میں جگہ بنائیں اور ہرگز مایوس نہ ہوں، دھیان رہے کہ اُن کو خلوت میں تذکر دیں ، نہ کہ سب کے سامنے، اور یہ کام خیراندیشی کی صورت میں ہو نہ کہ تنقید اور دشمنی کی صورت میں ، یہ بھی جان لیں کہ فروع دین پر عمل کرنے میں لاپرواہی کرنا ہمیشہ اصول دین پر عدم ایمان کی دلیل نہیں ہوتا ۔
اگر اسکول کا پرنسپل قانون کے مطابق اجازت دے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر وہ کہے کہ یہ قانون کے مطابق ہے تو اس کا یہ کہنا کافی ہے۔