ماہ حرام اور خانہٴ کعبہ کی حدود میں قتل کی دیت
اگر ماہ حرام اور خانہٴ خدا کی حریم میں قتل ہو، کیا دیت کے اوپر ایک تہائی ۳/۱ کے علاوہ کوئی اور چیز اضافہ ہوگی ؟
جواب: جی ہاں دونوں عنوانوں سے دیت تغلیظ اور تشدید ہوگی ۔
جواب: جی ہاں دونوں عنوانوں سے دیت تغلیظ اور تشدید ہوگی ۔
جواب: اس صورت میں جبکہ بدن کو ایک جگہ جلایا ہو تو اس کی دیت فقط ایک سو ۱۰۰ دینار ہے ؛ لیکن اگر اس کو چند مرحلوں میں جلایا ہو تو اعضاء کی دیت اضافہ ہوگی اور اگر کسی عضو کی دیت معین نہ ہو تو اس کا ارش دینا ہو گا ۔
اگر چیک یا یة ایک معتبر شخص کی جانب سے ہو تو اس کو وثیقہ کے عنوان سے قبول کیا جا سکتا ہے۔
اگر اس کے بالغ ہونے میں زیادہ وقت ہو تو کافی حد تک ضمانت لے کر قاتل کو قید سے رہا کردیا جائے گا ۔
جواب: اگر تقسیم کرلی گئی ہے اور اس پر سب راضی ہیں تو اسی تقسیم کے مطابق عمل کریں اور ہر شخص کا حصّہ وہاں پر رائج اور مشہور کے مطابق ہے ۔
جواب: والد کی میراث میں سے (ان کے ساتھ میں مرنے والے) بچوں کا حصہ لیکر ان کے وارثوں کو دیا جائے گا اور باقی حصہ دوسرے وارثوں کو دیا جائے گا ۔
اگر علاج انہیں دواوں پر منحصر تھا تو انہیں تجویز کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ البتہ مریض کو ساری باتیں بتا دینی چاہیے اور اس کی رضایت حاصل کر لینی چاہیے ۔
جواب:۔ دو شہر وںکے درمیانی فاصلہ کا معیار، جس شہر یا جگہ سے سفر کا آغاز ہواہے اس کا آخری گھر ، اور جہاں جانا ہے ، اس کا پہلا گھر ہے ۔
اگر صحیح عربی صادق آتی ہے تو اشکال نہیں ہے؛ اگرچہ قواعد وتجوید کے موافق نہ ہو۔
اگر زوجہ کے ساتھ ملاعبہ کرنے کے ذریعہ استمناء کیا ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے لیکن اگر خود سے استمناء کرے تو حرام ہے خواہ زوجہ کی مرضی سے کرے یا بغیر مرضی کے ۔
اگر وہاں پر جانے سے، اس کے دین، عقیدے اور اخلاق کو چوٹ لگتی ہے تب اس کے لئے مخالفت کرنا جائز ہے ۔
اگر توریہ کے ذریعہ گردن خلاصی کا امکان ہو تو احتیاط یہ ہے کہ اس راہ کو استعمال کرے ۔
اگر کوئی شخص کہ جس کو مصالحت کے طور پر مال دیا گیا ہے، مقررہ شرائط پر عمل نہیں کرتا، تو وہ خاتون مصالحت کے معاملہ کو فسخ کرسکتی ہے اور اگر وہ خاتون دنیا سے گذرجائے اور وہ شخص طے شدہ شرائط کے مطابق اخراجات ادا نہ کرے تب وارثوں کو مصالحت کے معاملہ کو فسخ کرنے کا حق ہے، وہ لوگ فسخ کرسکتے ہیں ۔
جواب : کچھوا اور خرچنگ حرام گوشت ہیں لیکن جھینگا حلال ہے۔