باپ کا اپنے غیر شرعی بیٹے کو قذف کرنا
اگر باپ اپنے غیر شرعی بیٹے کو قذف کرے، کیا حد قذف اس پر جاری ہوگی؟
جواب: حد قذف جاری نہیں ہوگی۔
جواب: حد قذف جاری نہیں ہوگی۔
اگر نہیں عن المنکر کا فقط ایک ہی راستہ ہو تو جائز ہے ۔
قدر مسلّم یہ ہے کہ یہ ہستیاں معصوم ہیں، لیکن دوسروں کے سلسلے میں مسلّم نہیں ہے، اگرچہ ان میں سے بعض کے مرتبے بہت زیادہ بالا اور والاہیں
جواب : جب بھی بعض وارثین قصاص کرنا چاہیں (مثلاً ایک مقتولہ کے اولیاء دم فاضل دیت کو ادا کرکے قصاص کریں) تو بقیہ مقتول عورتوں کی دیت قاتل کے اموال سے ادا ہوگی۔
جواب:۔ دوسرے طریقہ کو تورک کہتے ہیں اور اس کو مستحبات میں شمار کیا گیا ہے ۔
جواب: گھر یا گائوں کی حدودمیںواقع، گرام کی زمین، گھر کے مالک یا گائوں والوں سے متعلق ہے اور کسی کے لئے اس زمین پر عمارت بنانا جائز نہیں ہے مگر ان لوگوں کی اجازت سے ۔
جواب: اگر حرام لمس و نظر کا سبب نہ ہو تو اس سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر یہ کہ اس میں فرد یا سماج کی مصلحت پائی جاتی ہو۔
عرب لوگ معمولاً فتحہ ماقبل واوٴ کو تھوڑا ضمّہ کی شبیہ اور فتحہ ماقبل یا کو تھوڑا کسرہ کی شبیہ سے ادا کرتے ہیں ۔
جواب:۔نفقہ نہیں رکھتی .
جی ہاں ، حق الناس ہے اور ولی دم کے اختیار میں ہے۔
جواب: حد سرقت فقط ان پر جاری ہوگی کہ جو حرز کو توڑیں اور مال کو حرز سے باہر نکالیں۔
جواب: بچوں کو ماں باپ کی اور والدین کے بچوں کی میراث ملے گی لیکن میاں بیوی کو ایک دوسرے کی میراث نہیں ملے گی ۔
جواب: قاتل کے نہ پہچانے جانے کی صورت میں ، دیت کو بیت المال سے ادا کرنا چاہیے اور ضروری نہیں ہے کہ یہ مسئلہ برملا کیا جائے تاکہ دوسروں کے بیجا استعمال کا سبب بنے ۔ یہ ہی حکم ہے اس صورت میں جب قاتل تنگدست ہو اور آیندہ میں بھی اس کی توانائی کی کوئی امید نہ ہو ۔
جواب: احتیاط واجب یہ ہے کہ مسلمانوں کے برابر ادا کی جائے۔