جرم کے سبب وجود میں آئی خسارت کو پورا کرنے میں معاون کا حصہ
جرم کا معاون کس حد تک جرم کی خسارت میں حصّے دار ہے؟
جواب:اس صورت میں جب دونوں کی طرف نسبت دی جاس کے، جس قدر نسبت دی جائے اسی قدر ضامن ہے۔
جواب:اس صورت میں جب دونوں کی طرف نسبت دی جاس کے، جس قدر نسبت دی جائے اسی قدر ضامن ہے۔
جواب: جائز نہیں ہے لیکن اس کو غیرمسلم کو بیچا جاسکتا ہے۔
جواب:جب بھی ثابت ہوجائے کہ جانی چند معین اور مشخص افراد میں سے کوئی ایک ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی اقرار نہ کرے، دیت بطور مساوی ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
اس صورت میں جبکہ ہاتاھ کا پیوند بطور کامل انجام پاگیا تھا، اصلی ہاتھ کا حکم رکھتا ہے۔
جواب:۔نکاح باطل ہے ، لیکن ہمیشہ کیلئے حرام نہیں ہوگی، اُسے چاہیےٴ کہ دوسرے شوہر کے لئے وطی شبہ کی وجہ سے، عدّت کامل کرے، اور عدّت کے ختم ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص سے شادی کرسکتی ہے لیکن دوسرے شوہر سے شادی کرنے کے لئے اس کو وطی شبہ کی بناپر، عدّت رکھنے کی ضرورت نہیں ہے .
جواب: دونوں طرف سے دیت ساقط ہوجائے گی ۔
جواب: اگر احکام کے نفوذ پر تعتیات افسران نے حکم کے ابلاغ میں کوتاہی کی ہو تو وہ دیت کی اضافہ مقدار کے ضامن ہیں ۔
جواب: بھانجہ کے ہوتے ہوئے، چچا زاد بھائیوں کو میراث نہیں ملے گی اور اگر دوسرا کوئی وارث نہیں ہے تو تمام مال اسی بھانجہ (یا بھانجی) کو دیا جائے گا ۔
جواب: دیت جانی کے ذمہ ہے، دیت کو قتل کے علاوہ مورد میں بیت المال یا فراری جانی کے اقرباء سے لینے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
الف) بچی کے حصّہ کی دیت ادا کرے اور بظاہر اس کام میں داد اس کے ولی ہیں ۔ ب) اگر ولی قصاص میں مختصر سے عرصہ کے بعد، مالی استطاعت کی امید ہو تو اس کے مستطیع ہونے کا انتظار کرنا چاہیے نیز مجرم سے کافی حد تک ضمانت لے کر اُسے رہا کردیا جائے گا، لیکن اگر اس کے مستطیع ہونے کی امید نہیں ہے تب قاتل پر دیت لازم ہوجائے گی ۔
اگر عمداً گولی چلائی تھی، تو مارنے والا، دیت کی دی گئی رقم کو واپس وصول کرے گا اور قصاص کے لئے تیار ہوجائے گا اور اگر غلطی سے یا شبہ عمد کی صورت ہے تو مزید دیت اس پر لازم نہیں ہے، وہی ایک دیت کافی ہے اور اگر ایک ضرب (ایک بار گولی چلانے) سے موت ہوئی ہے تب تو جائفہ--- کی دیت بھی نہیں ہے ۔
الف) قصاص کا حکم اپنی جگہ پر باقی ہے اور مقتول کے وارث، اس کا مطالبہ کرسکتے ہیں ۔ب و ج) اگر زخم یا کسی عضو میں نقص یا گوئی دوسرا نقص پیدا ہوجائے تب احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی دیت بیت المال سے ادا کی جائے ۔البتہ یہ اس صورت میں ہے کہ جب قاضی اور اس کے ملازموں کے ذریعہ، پھانسی کے حکم پر عمل در آمد کیا جائے اور حکم کو جاری کرنے میں عمداً کوتاہی نہ کی گئی ہو۔د) تمام دیتوں کی طرح ہے ۔
جواب: جی ہاں، اس کو دیت کی ادائیگی پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ چنانچہ اس کا کوئی وارث نہ ہو تو اس کی دیت کو حفاظت سے رکھا جائے گا ، اور نا امیدی کی صورت میں فقراء میں تقسیم کردیا جائے گا ۔
جواب: چنانچہ وصیت، معیّن مال کے بارے میں تھی اور وہ مال ایک سوم (ایک تہائی) سے زیادہ بھی نہیں تھا، تب تو وہ سب مال، اس شخص کا ہے جس کے لئے وصیت کی گئی ہے اور فروخت کردیا گیا ہے تو اس کی مکمل قیمت وصول کرسکتا ہے، اور اگر اس کے مرنے کے بعد اس کے دادا نے اس کو کسی شرعی جواز کے بغیر فروخت کردیا ہے اور اب اس کی قیمت کم ہوگئی ہے تو اس صورت میں، جس قدر قیمت کم ہوئی ہے اس مقدار کو دادا ادا کرے گا ۔
جواب : جی ہاں، مسلمان ہونا اس کے قتل کے لئے مانع ہے اور ہم ظاہر پر مامور ہیں، مگر یہ کہ اس کے جھوٹ پر یقین حاصل ہوجائے۔