سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

آبادی کھٹانے کے لیے برتھ کنٹرول کا رایج کرنا

ایرانی مسلمانوں کا جمعیت کو کم اور کنٹرول کرنے کے لیے ثقافتی، اقتصادی و سماجی ارتقاء کے عنوان اور اھداف کے پیش نظر، ممبروں سے دینی محافل میں اس امر کی تبلیغ و ترویج کرنا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟ کسی کے کہے بغیر اپنی فردی رای سے کیا ایسا کرنا خلاف شرع ہے؟

جواب: اگر دیندار ماہرین اور جانکار حضرات اس بات کا تعین کریں کہ آبادی کا کنٹرول کرنا ایک سماجی ضرورت ہے تو شرعا وقتی طور پر اس کی موافقت کی جا سکتی ہے اور لازم ہونے کی صورت میں ایک معین پروگرام کے تحت اس کی تبلیغ و ترویج کی جا سکتی ہے، اس ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر ہونی چاہیے کہ نسل کا بڑھانا کسی بھی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے کے نزدیک جزء واجبات نہیں ہے، اس سبب سے اس کا محدود کرنا حرام نہیں ہے ۔ مگر ایسے علاقوں میں جہاں جمعیت کا تناسب مسلمین یا شیعوں کے لیے زیان کا سبب ہو، ایسی جگہوں پر آبادی کے کنٹرول کے مسئلہ پر عمل نہیں ہونا چاہیے ۔ اس ضمن میں جمعیت کنٹرول کے سلسلے میں تعداد بڑھانے سے زیادہ بہتر کیفیت کا بڑھانا ہے، تا کہ زیادہ پڑھے لکھے اور مفید مسلمان اسلامی معاشرہ کے حوالے کئے جا سکیں اور ان سے اسلام و مسلمین کی عزت و عظمت بڑھے، مزید اس بات پر بھی توجہ ہونی چاہیے کہ ان موارد میں جہاں ماہرین اور جانکار حضرات نے آبادی کنٹرول کا تعین کیا ہے وہاں پر اس امر کے لیے حتما جائز وسائل سے استفادہ ہونا چاہیے نہ کہ غیر شرعی وسائل سے جیسے سقط کرانا وغیرہ۔

وزن کے مختلف ہونے کی صورت میں سونے کی خرید و فروخت

کیا وزن میں فرق کے ساتھ سونے کاسونے سے معاملہ کرنے میں اشکال ہے ؟

جواب ۔سونے کا سونے سے معاملہ کرنا دونوں کے وزن میں فرق ہونے کی صورت میں جائز نہیں ہے اگر چہ ان میں سے ایک مرغوب اور دوسرا نا مرغوب ہی کیوں نہ ہو ،معاملہ کے صحیح ہونے کا راستہ یہ ہے کہ بہترین اور مرغوب سونے کو خرید کر پیسے بنا لے اور اس کے بعد دوسرے سونے کو اسی طرح بیچ دے

باکرہ نہ ہونے کی صورت میں، مہر کی مقدار

گر لڑکی کے باکرہ نہ ہونے کی وجہ سے ، لڑکا نکاح کو فسخ کر دے تو کتنا مہر اد اکرنا ہوگا ؟ تدیس ( دھوکے ) کی صورت میں ، نقصان ( مہر کی رقم) کو کس سے لے گا ؟

باکرہ ہونا یا دوسری کوئی شرط کمال یا کوئی نقص نہ ہونے کی شرط کی صورت میں (چاہے عقد میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہو یا عقد سے پہلے ) چنانچہ اس کے خلاف ثابت ہوجائے تو فسخ کرنے کاحق ہے ، اگر دخول محقق نہ ہوا ہو تو مہر بالکل ساقط ہوجائے گا اور اگر دخول محقق ہوگیا ہو تو مہر المسمی ٰ ادا کرنا ہوگا اور مہر کی رقم دینے کے بعد پھر اس رقم کو تدیس ( دھوکا ) کرنے والے سے لیا جائے گا۔

وطن کے سلسلے میں بیوی کا شوہر کے تابع ہونا

پہاڑی علاقہ میں ایک کمپنی نے اپنے کارکنان اور مزدوروں کے آرام کے لئے ایک عمارت بنائی ہے ، دور دراز کے مختلف شہروں سے ، کام کرنے والے اس کمپنی میں کام کرنے آتے ہیں ، اس طرح کہ ۱۴/ دن کام کرتے ہیں اور پھر ۱۴/ دن کے لئے اپنے اپنے شہر وں کی طرف واپس چلے جاتے ہیں ، کام کی ۱۴/دن کی مدت میں ان کے کام کرنے کا طریقہ درج ذیل ہے ، برای مہربانی ، نماز و روزے کے متعلق ، ہرگروہ کا وظیفہ بیان فرمائیں ؟ الف)۔کچھ لوگ ہر روز یااکثر دنوں میں ، مذکورہ آرام گاہ سے شرعی مسافت سے کم فاصلہ پرکام کرنے جاتے ہیں اور رات میں واپس آجاتے ہیں ۔ جواب:۔اگر ان کی آرامگاہ اور کام کرنے کے مقام کا درمیانی فاصلہ تین یا چار کلو میٹر ہے تو دو جگہ رہنے کاقصد صحیح ہے اور ان کا نماز روزہ کا مل ہے اور فاصلہ زیادہ ہے تو دونوں جگہ اقامت کا قصد درست نہیںہے ، ان کی نماز قصر ہے اور روزہ نہیں رکھ سکتے۔ ب) ۔دوسرے گروہ کے کا رکن ایک ہفتہ دن میں کام پر جاتے ہیں اور رات میں واپس آتے ہیں اور ایک ہفتہ رات میں کام کرتے ہیں ، دن میں واپس آتے ہیں ، ان لوگوں کا فاصلہ بھی آرام گاہ سے کام کے مقام تک ، شرعی مسافت سے کم ہے ۔ جواب:۔ ان کا وظیفہ بھی پہلے مسئلہ کے مطابق ہے ۔

جواب:۔ ان کا وظیفہ بھی پہلے مسئلہ کے مطابق ہے ۔ ج)۔تیسرے گروہ کے کام کا مقام آرامگاہ سے شرعی مسافت کا فاصلہ ہے ،یہ لوگ بھی روزانہ یااکثر، کام پرجاتے ہیں اور اپنے کام کی نو عیت کے اعتبار سے ، ظہر سے پہلے یا بعد میں واپس آجاتے ہیں ۔ جواب:۔ یہ لوگ کثیر السفر ہیں ،( زیادہ سفر کرنے والوں کے لئے نماز روزہ قصر نہیں ہے ) د)۔ اسی گروہ کے کچھ لوگ یعنی جن کے کام کے مقام کا فاصلہ ، شرعی مسافت کے برابر ہے ، ایک ہفتہ دن میں کام پرجاتے ہیں ، رات میں واپس آجاتے ہیں اور ایک ہفتہ رات میں کام پر جاتے ہیں دن میں واپس آجاتے ہیں ۔ جواب:۔ ان کاوظیفہ گذشتہ مسئلہ کے مطابق ہے ۔ ھ)۔ کچھ لوگ آرامگاہ پر ہی کام کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی وقتی طور پر ،اتفاق سے شرعی مسافت طے کرتے ہیں اورپھر دوبارہ اپنے مقام یعنی آرامگا ہ پر واپس جاتے ہیں ۔جواب:۔ اگر انہوں نے وہاں آرامگاہ پر دس دن تک رہنے کا قصد نہیں کیا ہے تو ان کی نماز راور روزہ قصر ہے ۔ و)۔ کیا ان لوگوں میں جو زیادہ مدت سے ، اس کام میں مصروف ہیں ،اور ان لوگوں میں جو نئے نئے کام پر آئے ہیں کوئی فرق ہے ؟ جواب:۔ کوئی فرق نہیں ہے

دسته‌ها: وطن
دسته‌ها: مشاغل

ایسا لباس پہننا جس پر اللہ لکھا ہو

آج کل ایسے لباس بازار میں آ گئے ہیں جن پر اسم جلالہ اللہ لکھا ہوا ہے، اس لباس کے پہننے کا کیا حکم ہے؟ اسے پہننے والے کا وظیفہ کیا ہے؟

اگر وہ ایسی جگہ نہ لکھا ہو جہاں لکھنا بے احترامی کا باعث ہو تو کویء حرج نہیں ہے۔ البتہ اسے اس بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ بغیر وضو اس جگہ کو نہ چھوئے اور اسے نجس نہ کرے۔

دسته‌ها: اسماء متبرکه

اگر وارث ، باپ ماں اور زوجہ ہو

مرنے والے شخص کے وارثوں میں، والدین اور ایک زوجہ ہے جس سے زفاف نہیں ہوا تھا یعنی فقط نکاح ہوا تھا رخصتی نہیں، آپ سے گذارش ہے کہ وارثوں کے درمیان مرحوم کی میراث کی تقسیم کا طریقہ بیان فرمائیں؟

جواب: زمین کے علاوہ مرحوم کے مال کا چوتھائی حصہ زوجہ کو ملے گا اور سارے مال کا ایک تہائی حصہ والدہ کو اور باقی سب کچھ باپ کو ملے گا، ہاں البتہ اگر مرنے والے کے دو بھائی یا چار بہنیں یا ایک بھائی اور دو بہنیں ہوں (اور ان سب کے والدین ایک ہوں) تو اس صورت میں چھ حصوں میں سے ایک حصہ ماں کا ہوجائے گا اور باقی جو چھ میں سے ساڑھے تین حصہ ہوتے ہیں، والد کو ملیں گے ۔

دسته‌ها: حق الناس

اگر شہید کے وارث ، اس کے باپ اور بیوی ہو

میرے بھائی، ١٢سال پہلے جنگ میں لاپتہ ہوگئے تھے، اس زمانے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ وہ شہید ہوگئے یا اسیر ہوئے ہیں، لیکن اب بارہ سال کے بعد ان کی شہادت مسلّم طور پر ثابت ہوگئی ہے اس شہید کی ایک بیوہ ہے لیکن بچہ کوئی نہیں ہے، آپ سے التماس ہے کہ مندرجہ ذیل سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں:الف) اس شہید کی تنخواہ، بارہ سال کے عرصہ میں بطور کامل اور یکبارگی، ان کی بیوی کے ذریعہ وصول اور خرچ ہوئی ہے، کیا مذکورہ تنخواہ کی مکمل رقم، شہید کی زوجہ کا حق ہے، یا اس میں سے میراث کے عنوان سے، شہید کے والدین اور بہن بھائیوں کا بھی کچھ حصّہ ہے؟ب) اب جبکہ اُن کی شہادت یقینی طور پر ثابت ہوگئی ہے، ادارے کی جانب سے جس میں وہ کام کرتے تھے، کچھ رقم دی جارہی ہے، یہ رقم کس سے متعلق ہے یعنی یہ رقم کس شخص کی ہوگی؟ج) یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ وہ سن ١٣٦١ شمسی میں شہید ہوئے ہیں اور شہادت کی اطلاع سن ١٣٧٢شمسی میں ملی ہے جبکہ اُن کے والدین ٦٦ میں مرحوم ہوگئے ہیں، کیا شہید اپنے والد کی میراث لیں گے یا والد کو شہید کی میراث ملے گی؟د) شہادت کے ثابت ہونے سے دوسال پہلے ان کی زوجہ نے 'بنیاد شہید'' نامی ادارے سے، طلاق کا تقاضا کیا تھا اور ادارے کے مدیر نے قوانین کے مطابق اس کو شرعی طلاق دے دی تھی، کیا اس صورت میں یہ زوجہ، اس شہید کی میراث لے گی؟ کیا اس رقم میں سے جو ادارے نے، دیت وغیرہ کے عنوان سے دی ہے، زوجہ کو میراث ملے گی یا نہیں؟ اور کیا اس دو سال کی مدّت میں، شہید کی تنخواہ لے کر خرچ کرنے کا حق رکھتی تھی یا نہیں؟

جواب: اس کی تنخواہ اس کی بیوی سے متعلق تھی، یعنی اس کی زوجہ کا حق ہے ۔جواب: تمام وارثوں سے مربوط ہے مگر یہ کہ وہ ادارہ مذکورہ رقم کے لئے کوئی خاص مصرف معین کرے ۔جواب: والد کو ان کے مال سے میراث ملے گی، لیکن حکومت سے جو رقم دی گئی ہے اس میں سے انھیں (والد کو) میراث نہیں ملے گی ۔جواب: چنانچہ حکومت یہ جان کر کہ طلاق ہوگئی ہے، اُسے تنخواہ دیتی تھی تب تو لینا جائز ہے لیکن اگر اس شرط پر تنخواہ دیتی کہ طلاق نہیں ہوئی ہے، تب مذکورہ رقم وصول کرنا اس کے لئے جائز نہیں تھا لیکن بہرحال شہید کے مال سے میراث وصول کرے گی اور اسی طرح اس کی دیت کی رقم سے میراث لے گی ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت