سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

ایشیاء وسطیٰ میں اکثر پیغمبروں کے مبعوث ہونے کی وجہ

کیوں تمام انبیاء بین النہرین اور ایشیا وسطیٰ (Midyame) کے علاقے میں ہی مبعوث ہوئے؟ اگرچہ ان کا تمدّن توکیوں بڑے تمدنوں جیسے یونان اور سرچنوست (Redlindian)سیاہ فاموں کے بڑے تمدنوں میں کوئی پیغمبر نہیں اُترا؟ (یہ بھی فراموش نہ کریں کہ حضرت عیسیٰ (علیه السلام) بھی ایشاء وسطیٰ میں پیدا ہوئے)کیا کنفیسوس کو (چین میں) بودھ کو (ہندوسان میں) زردشت اور کوروش کو (ایران میں) بقراط اور سقراط کو یونان میں الٰہی پیغمبروں میں شمار کرسکتے ہیں؟جیسا کہ ہمارے روائی منابع میں آیا ہے کہ ”ہم نے ہر دو شخص کے لئے ایک پیغمبر بھیجا ہے“ لہٰذا ضروری ہے کہ ”اسکیمووں“ اور تمام اقوام کے لئے پیغمبر آئے ہوں اور اگر جواب منفی میں تو اس نظریہ کی تقویت ہوتی ہے کہ پیغمبروں نے تمدن اور خدا پرستی کی ترقی اورلوگوں کی فکروں کو شکوفائی کے ساتھ تکامل کی راہیں طے کی ہیں! کیونکہ پہلے انسان آفتاب پرست، چاند پرست وغیرہ وغیرہ تھے، پھر انھوں نے عقل کے شکوفہ ہونے کے بعد، حقیقی خدا کا انتخاب کیا ، حضور کی رائے ہے؟

مورخین کا اتفاق ہے کہ تمدن کا گہوارہ وسطی ایشاء میں پھیلایا گیا، اس زمانے میں نہ یونان میں کوئی تمدن تھا اور نہ کہیں اور، اس وجہ سے کہ دین کی پیدائش اس علاقہ میں وسعت کا سبب ہوگی لہٰذا خدا نے پیغمبروں کو اس علاقے میں مبعوث کیا تاکہ وہاں یے اُن کا دین دنیا سب کے سب علاقوں میں پہنچ جائے ۔

دسته‌ها: نبوت

کینسر کے مریضوں کا علاج ترک کرنا

ایک شخص کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہے، ڈاکٹر نا امید ہو چکے ہیں، اب اگر کوئی ڈاکٹر اس پر ترس کھا کر ہمدردی دکھاتے ہوئے اس کا علاج نہ کرے تا کہ وہ جلدی مر جائے اور مرض کی صعوبت سے نجات پا جائے اور مریض قبل از وقت مر جائے تو وہ ڈاکٹر شرعی لحاظ سے مجرم ہے؟ مہربانی کر کے اجمالی طور پر دلیل بھی بیان فرمائیں؟

جواب: انسان کا قتل کسی بھی بہانہ سے جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ ترس کھا کر اور ہمدردی میں بھی نہیں، اور اگر مریض خود بھی ایسا کرنے کو کہے تب بھی نہیں، اسی طرح سے اس کا معالجہ ترک کد دینا تا کہ وہ جلدی مر جائے، جایز نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کی دلیل آیات و روایات میں قتل کا حرام ہونا مطلقا بیان ہونا ہے اور اسی طرح ان دلائل سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے جن میں جان کا بچانا واجب قرار دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس کا فلسفہ یہ ہو کہ اس بات کی اجازت دینا بہت سے سوء استفادہ کا سبب بن جائے گا اور اس طرح کے بے تکے اور بے بنیاد بہانوں کے تحت ترس اور ہمدردی میں قتل ہونے لگیں گے یا بہت سے افراد اس قصد سے خودکشی کی راہ اختیار کرنے لگیں گے ۔ ویسے بھی طبی مسائل غالبا یقین آور نہیں ہیں اور بہت سے افراد جن کی زندگی سے مایوسی ہو چکی ہے، عجیب و غریب طریقہ سے موت کا شکار ہونے لگ جائیں۔

دسته‌ها: علاج، معالجه

گواہوں کی گواہی سے پہلے زنا بالجبر کرنے والے کا توبہ کرنا

اسلامی تعزیرات کے قانون میں آیا ہے کہ: ”اگر زانی اور زانیہ شہود کے گواہی دینے سے پہلے، توبہ کرلیں، ان پر حد جاری نہیں ہوگی، کیا یہ تخفیف زناء عنف (بالجبر) کو بھی شامل ہوگی؟

جواب: حد، جو الله کا حق ہے، گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کے ذریعہ ساقط ہوجاتی ہے؛ لیکن حق الناس ، جیسے زناء عنف کے بدلے مہرالمثل کا ادا کرنا، توبہ سے ساقط نہیں ہوتا۔

دسته‌ها: زنا کی حد

ضمانت شدہ اضافی قیمت کا وصول کرنا

کمپنی کے ادارے کمپنی بناتے وقت اور لوگوں میں اس کے شیئرز خریدنے کے لئے، ذوق وشوق اور رغبت پیدا کرنے کی غرض سے، شیئرز خریدنے والوں کے لئے درج ذیل خاص امیتاز مدنظر رکھتے ہیں، ”اگر شیئرز خریدنے والا شخص اپنے شیئرز فروخت کرنے کا خواہشمند ہو تو اس صورت میں شیئرز خریدنے والے ادارے کمپنی بننے کے چھ مہینے کے بعد اس کے شیئرز کے ضامن ہوں گے اور دوسالانہ شیئرز کی اصل قیمت کے علاوہ بیس فیصد % شیئرز کی قیمت بڑھی ہوئی قیمت کے عنوان سے اس شخص کو ادا کریں گے“۔شیئرز خریدنے والے بعض حضرات اس قسم کا خاص امتیاز ہونے کی وجہ سے، مدنظر کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں، اب اس بات پر توجہ رکھتے ہوئے کہ بعض اداروں کے بارے میں شرعی حیثیت سے شک وشبہ (بیس فیصد بڑھی ہوئی قیمت کی ضمانت) پایا جاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ درج ذیل سوالوں کے بارے میں اپنا مبارک نظریہ بیان فرمائیں:۱۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ کمپنی کے اداروں نے مدنظر منافع کو بڑھتی ہوئی قیمت کے عنوان سے بیس فیصد بیان کیا ہے، یہ بات ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس سلسلہ میں یہ رقم ادا کرتے وقت کہ شیئرز کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ ہوگیا ہے یا نہیں؟ کوئی تحقیق یا جستجو نہیں کی جاتی (کہ واقعاً قیمت بڑھی ہے یا نہیں) اور اگر فرض کرلیا جائے کہ تحقیق کی جائے تو دوسرا نتیجہ برآمد ہوگا (اور وہ یہ کہ شیئرز کی واقعی قیمت اصل قیمت اور بیس فیصد دونوں سے کم ہے)اس صورت میں شرعی حیثیت سے مذکورہ وعدے کا کیا حکم ہے؟۲۔ ضمانت شدہ بڑھتی ہوئی قیمت کو ادا کرنے یا وصول کرنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے، جبکہ کسی ایسے معاملہ پر مبنی نہیں ہے کہ اس کا واقعی منافع شمار ہوسکے؟

جواب 1: اس وعدے میں کوئی اشکال نہیں ہے اور وعدے کو وفا کرنا لازم ہے ۔جواب 2: اگر انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ شیئرز کو اسی قیمت پر خرید لیں گے تو انھیں اپنے وعدے کے مطابق عمل کرنا چاہیے ۔

دسته‌ها: بورس

گاؤں کی حدود کے ایندھن کا استعمال

ایک جگہ پر مرسوم ہے کہ ہر شخص اپنے مویشیوں کے لئے، پہاڑ کے ایک معیّن حصّہ کا گھاس، جمع کرتا ہے، اس طرح کہ وہی شخص اس جگہ کے ایندھن کا مالک سمجھا جاتا ہے، اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ شخص اس جگہ کے گھا س کا مالک ہے، کیا وہ شخص اس جگہ کے ایندھن کا بھی مالک ہوجائے گا؟

جواب: چنانچہ وہ علاقہ کسی معیّن آبادی اور گائوں کی مشترکہ حدود (یعنی گرام پنچائت کی) زمین میں شامل ہوتا ہے، تب تو وہاں کے رہنے والے اس علاقہ کی زمین کو آپس میں تقسیم کرنے کا حق رکھتے ہیں اور تقسیم کرنے کے بعد، ہر شخص کو گھاس کاٹنے کے لئے یا ایندھن جمع کرنے کا حق ہے لیکن اگر وہ علاقہ گائوں کی مشترکہ حدود میں شامل نہ ہو تو فقط اس صورت میں انھیں وہاں پر گھاس کاٹنے یا ایندھن جمع کرنے کا حق ہوگا کہ جب انھوں نے اس جگہ کو آباد، یا اس کے چاروں طرف نشان اور اس کو گھیر لیا ۔

قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت