مسجدوں میں (جائز)فلم کی نمائش
کیا مسجدوں میں ( جائز ) فلم ،دکھانا جائز ہے ؟
جواب: یہ کام مسجد کی شان کے مناسب نہیں ہے ، بلکہ اس کام کے لئے دوسری جگہ کو نظر میں رکھا جائے ۔
جواب: یہ کام مسجد کی شان کے مناسب نہیں ہے ، بلکہ اس کام کے لئے دوسری جگہ کو نظر میں رکھا جائے ۔
جواب : ان موراد میں باپ یا دادا دیت ادا کریں اور آپ جانتے ہیں کہ دیت بہت زیادہ سنگین ہوتی اور ایک مہم سزا شمار ہوسکتی ہے ، اگر حاکم شرع تشخیص دے کہ معاشرہ میں یہ کام بہت زیادہ ہوگیا ہے تو اس کے علاوہ سخت تعذیر بھی کرسکتا ہے البتہ اگر ابھی بچہ شکم مادر میں ہو تو کسی بھی حال میں قصاص نہیں ہے فقط دیت ہے۔
جائز ہے اور کوئی بھی حرام ہونے کا قائل نہیں ہے ۔
جواب: اگر حکم کی دلیل تنہا اقرار تھا تو مجرم کو دوبارہ نہیں پلٹایا جائے گااور اگر دلیل قاضی کا علم تھا (وہ کسی بھی راستے سے حاصل ہوا ہو) پلٹانا بعید نہیں ہے ، لیکن مسئلہ چونکہ” تدرء الحدود بالشبہات“ (شبہات کی وجہ سے شرعی سزائیں دور ہوجاتی ہیں)کے مصادیق میں سے ہے لہٰذا احتیاط واجب کی بناپر اس کو ترک کیا جائے۔
جواب: جی ہاں دیت ، عاقلہ پر ہے ، لیکن مجنون یا صغیر کو اس میں سے کچھ نہ ملے گا۔
جواب:الف) اگر اس نے اسلام کا اظہار کیا ہے تو اس پر اسلام کے احکام جاری ہوں گے اگرچہ عبادت اور دینی وظیفوں کے انجام دینے میں کوتاہی کی ہے ۔ب) بظاہر صحیح تھا ۔ج) مذکورہ بچے جائز ہیں ان کو میراث ملے گی ۔د) مفروضہ مسئلہ میں کہ ابھی تک ترکہ تقسیم نہیں کیا گیا اور آپ لوگ مسلمان ہوگئے ہیں تو میراث کے بارے میں اسلامی قانون کے مطابق آپ لوگوں کو بھی میراث ملے گی ۔
متواتر روایات کے مطابق حجامت مستحب ہے، لیکن ایسا اس وقت ہے جب کسی کو اس سے کوئی نقصان نہ پہچتا ہو ۔
ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ جتنا انہوں نے آلودگی پھیلانے کی راہ میں کوشش کی تھی اتنی ہی اسے صاف اور پاک کرنے میں کوشش کریں۔
اگر اس کے منحرف ہونے کا خوف نہ ہو تو اس صور ت میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن اگر عقیدہ میں منحرف ہونے کا امکان ہو تو جائز نہیں ہے ۔
مورخین کا اتفاق ہے کہ تمدن کا گہوارہ وسطی ایشاء میں پھیلایا گیا، اس زمانے میں نہ یونان میں کوئی تمدن تھا اور نہ کہیں اور، اس وجہ سے کہ دین کی پیدائش اس علاقہ میں وسعت کا سبب ہوگی لہٰذا خدا نے پیغمبروں کو اس علاقے میں مبعوث کیا تاکہ وہاں یے اُن کا دین دنیا سب کے سب علاقوں میں پہنچ جائے ۔
جواب: اسلام کے کچھ ایسے قانون اور قواعد عام ہیں جن سے ہر زمانے کی مشکلات حل کی جاسکتی ہےں یہی وجہ ہے جب بھی ہم سے کوئی نئے مسائل کے بارے کوئی سوال کیا جاتا ہے تو بفضل الہی ہم ان ہی قواعد اور قانون سے جواب دیتے ہیںاور کسی بھی مسئلے میں لاجواب نہیںرہتے ہیں ۔
جواب: چنانچہ ثابت ہو جائے کہ مذکورہ چیز کو موٹر سا ئکل سوار وہاں پر پھینک کر گیا تھا اور اس کے ملنے کی کوئی امید نہ ہو تو بچے کی دیت بیت المال سے ادا کی جائیگی ۔ لیکن اگر بچے نے اس چیز کو گھر کے اندر سے اٹھایا تھا تو بیت المال پر دیت نہیں ہے ۔
جواب :۔ چنانچہ مرد، مجامعت کا اقرار کرتا ہے تو وہ بچّہ اسی کا ہے اور اس کے قسم کھانے سے، بچّہ اس سے جدا نہیں ہو سکتا .
جواب :۔ اس کی نیابت صحیح ہے اور ا س کو راتوں میں رمی جمرہ انجام دینا چاہئیے ۔
جواب: انسان کا قتل کسی بھی بہانہ سے جائز نہیں ہے، یہاں تک کہ ترس کھا کر اور ہمدردی میں بھی نہیں، اور اگر مریض خود بھی ایسا کرنے کو کہے تب بھی نہیں، اسی طرح سے اس کا معالجہ ترک کد دینا تا کہ وہ جلدی مر جائے، جایز نہیں ہے ۔ اس مسئلہ کی دلیل آیات و روایات میں قتل کا حرام ہونا مطلقا بیان ہونا ہے اور اسی طرح ان دلائل سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے جن میں جان کا بچانا واجب قرار دیا گیا ہے اور ممکن ہے کہ اس کا فلسفہ یہ ہو کہ اس بات کی اجازت دینا بہت سے سوء استفادہ کا سبب بن جائے گا اور اس طرح کے بے تکے اور بے بنیاد بہانوں کے تحت ترس اور ہمدردی میں قتل ہونے لگیں گے یا بہت سے افراد اس قصد سے خودکشی کی راہ اختیار کرنے لگیں گے ۔ ویسے بھی طبی مسائل غالبا یقین آور نہیں ہیں اور بہت سے افراد جن کی زندگی سے مایوسی ہو چکی ہے، عجیب و غریب طریقہ سے موت کا شکار ہونے لگ جائیں۔