شادی کرتے وقت باپ کی اجازت کا ساقط ہونا
اگر کوئی لڑکی شرعا ً اور اپنے ماحول کے اعتبار سے اپنی شان کے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہو تو کیا باپ کی اجازت ساقط ہے ؟
مسئلہ کے فرض میں اگر اس کا باپ مخالفت کرے تو اس کا اذن ساقط ہے ۔
مسئلہ کے فرض میں اگر اس کا باپ مخالفت کرے تو اس کا اذن ساقط ہے ۔
حفص کی عاصم سے مروی قرائت کے علاوہ پڑھنے میں چونکہ یہی قرائت مشہور بھی ہے، اشکال ہے ۔
جواب: جی ہاں، اس کے لئے مہر المثل ہے۔
جواب: جہاں تک اس کے لیے ممکن ہو، اتنا کرنا واجب و ضروری ہے ۔
جواب:۔ اگر ایسی جگہ پر ہیں کہ جہاں عام طور پر کسی کا گذر نہیں ہوتا تو نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی میں شمار ہوتا ہے، اور پرائی عورت کے ساتھ تنہارہنے میں اشکال ہے حتیٰ اگر سوچےکہ حرام میں مبتلا نہیں ہونگے .
جواب 1: اس لحاظ سے دیت اور ارش میں کوئی فرق نہیں ہے ۔جواب 2: وہ مستقل زخم کہ جن میں سے ہر ایک کی دیت موضحہ زخم سے کم ہو تو اس کو عاقلہ کے حکم شامل نہیں ہونگے ۔جواب 3: اس فرض میں چونکہ جنایت ، جنایت واحدہ ہے لہٰذا عاقلہ شامل ہو جائیں گے ۔
جواب: اگر تم نے تحقیق کی ہے اور وقف کا مصرف واضح نہیں ہوا ہے تو اس زمین کے لئے ایک مناسب کرایہ منظور کریں اور اس کرایہ کی رقم کے آدھے حصہ کو امیرالمومنین علیہ السلام کی مجالس میں خرچ کریں اور باقی آدھی رقم کو جن کے لئے وقف ہوا ہے یعنی اولاد کو پہونچادیں، مگر یہ کہ وہ لوگ مسجد کی وجہ سے کرایہ کی رقم سے صرف نظر کرنے پر راضی ہوجائیں اور ان میں کوئی نابالغ بچہ بھی نہ موجودہو۔
جواب: جنین کے قتل عمد کے لئے قصاص نہیں ہے، بلکہ فقط دیت ہے ؛ لیکن و ارثین جنین کی دیت لینے کے بعد ایک کامل دیت کی آدھی کو ماں کے قتل کے سبب قتل کرنے والے کے وارثین کو ادا کرکے اس کو قصاص کرسکتے ہیں ۔
ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب: اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کسی متدیَّن طبیب کی تشخیص کے مطابق اس کے علاوہ کوئی اور علاج کی صورت نہ ہو ۔
سند کے لحاظ سے یہ حدیث معتبر نہیں ہے، اس کے علاوہ قرآن کے مخالف ہے، معاذ الله ائمہ معصومین علیہم السلام نے ان دنوں میں کسی کو گناہ کرنے کی اجازت دی ہو ایسا نہیں ہوسکتا اور اگر فرض کیا جائے کہ حدیث، سند کے لحاظ صحیح ہے تب حدیث کا مطالب یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی لغزش ہوگئی تو خداوندعالم اس کو معاف کردے گا نہ یہ کہ عمداً گناہ کرے ۔
یہ معاملہ باطل تھا اور اُسے مذکورہ رقم کو بینک میں واپس کرنا چاہیے، اب رہی ضمانت تو اگر ضمانت اصل رقم کے بارے میں تھی تب تو اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر منافع کے بارے میں تھی تو معاملہ نہ ہونے کی صورت میں، ضمانت کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اور اس کا کوئی منافع ہوتا ہی نہیں ہے ۔
تمیز (اچھے بُرے کی پہچان) کی عمر، معیّن نہیں ہے اور اس بات میں اشخاص مختلف ہوتے ہیں ۔ اس کا معیار یہ ہے کہ وہ اچھے برے میں تشخیص دے سکیں، مختلف امور کے لحاظ سے تمیز بھی مختلف ہوتی ہے اور بالغین کے احکام، ممیز بچوں پر جاری نہیں ہوتے، بلکہ ان کے مخصوص احکام ان پر جاری ہوں گے ۔
اگر ڈاکٹر نے دوا کے نقصان دہ ہونے کو بیان کر دیا تھا تو نقصان ہونے کی صورت میں اس پر کوئی ذمہ داری نہیں بنتی، لیکن اگر اس نے بیان نہیں کیا تھا تو وہ ذمہ دار اور قصوروار ہے ۔ البتہ ہر صورت میں ڈاکٹر کو نقصان دہ دوا بتانے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔
جواب: اگر یہ شرط تمام قرض لینے والوں کے فائدے میں ہو تو کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن اگر قرض دینے والوں کے فائدہ میں ہو تو جائز نہیں ہے۔