ماں کا حمل کی حفاظت کرنا
کیا رحم میں بچہ کی حفاظت کرنا واجب ہے؟ یعنی ماں کے لیے بچہ کی حفاظت اور سلامتی کے تمام وسائل کا مہیا اور فراہم کرنا ضروری ہے؟
جواب: جہاں تک اس کے لیے ممکن ہو، اتنا کرنا واجب و ضروری ہے ۔
جواب: جہاں تک اس کے لیے ممکن ہو، اتنا کرنا واجب و ضروری ہے ۔
جواب: جی ہاں، اس کے لئے مہر المثل ہے۔
اس قسم کی رقم لینا جائز نہیں ہے ۔
جی ہاں، اگر وہ غلطی کرے اور احکامات کو قبول نہ کرے تو اس کو اخراج کرنے میں کوئی مانعت نہیں ہے، لیکن اس کے عرفی اور قانونی حقوق کو ادا کرنا ہونگے ۔
یہ اوراق گھڑے ہوئے و بے بنیاد ہیں، اور بہت سالوں سے خفیہ افراد کے ہاتھوں تقسیم ہوتے ہیں ۔
ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
جواب 1: اس لحاظ سے دیت اور ارش میں کوئی فرق نہیں ہے ۔جواب 2: وہ مستقل زخم کہ جن میں سے ہر ایک کی دیت موضحہ زخم سے کم ہو تو اس کو عاقلہ کے حکم شامل نہیں ہونگے ۔جواب 3: اس فرض میں چونکہ جنایت ، جنایت واحدہ ہے لہٰذا عاقلہ شامل ہو جائیں گے ۔
حفص کی عاصم سے مروی قرائت کے علاوہ پڑھنے میں چونکہ یہی قرائت مشہور بھی ہے، اشکال ہے ۔
مسئلہ کے فرض میں اگر اس کا باپ مخالفت کرے تو اس کا اذن ساقط ہے ۔
ایسی جگہوں میں اذان کہنا خلاف شرع ہے ۔
یہ معاملہ باطل تھا اور اُسے مذکورہ رقم کو بینک میں واپس کرنا چاہیے، اب رہی ضمانت تو اگر ضمانت اصل رقم کے بارے میں تھی تب تو اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر منافع کے بارے میں تھی تو معاملہ نہ ہونے کی صورت میں، ضمانت کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اور اس کا کوئی منافع ہوتا ہی نہیں ہے ۔
جواب: جنین کے قتل عمد کے لئے قصاص نہیں ہے، بلکہ فقط دیت ہے ؛ لیکن و ارثین جنین کی دیت لینے کے بعد ایک کامل دیت کی آدھی کو ماں کے قتل کے سبب قتل کرنے والے کے وارثین کو ادا کرکے اس کو قصاص کرسکتے ہیں ۔
سند کے لحاظ سے یہ حدیث معتبر نہیں ہے، اس کے علاوہ قرآن کے مخالف ہے، معاذ الله ائمہ معصومین علیہم السلام نے ان دنوں میں کسی کو گناہ کرنے کی اجازت دی ہو ایسا نہیں ہوسکتا اور اگر فرض کیا جائے کہ حدیث، سند کے لحاظ صحیح ہے تب حدیث کا مطالب یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی لغزش ہوگئی تو خداوندعالم اس کو معاف کردے گا نہ یہ کہ عمداً گناہ کرے ۔
جواب: اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کسی متدیَّن طبیب کی تشخیص کے مطابق اس کے علاوہ کوئی اور علاج کی صورت نہ ہو ۔
جواب: اگر تم نے تحقیق کی ہے اور وقف کا مصرف واضح نہیں ہوا ہے تو اس زمین کے لئے ایک مناسب کرایہ منظور کریں اور اس کرایہ کی رقم کے آدھے حصہ کو امیرالمومنین علیہ السلام کی مجالس میں خرچ کریں اور باقی آدھی رقم کو جن کے لئے وقف ہوا ہے یعنی اولاد کو پہونچادیں، مگر یہ کہ وہ لوگ مسجد کی وجہ سے کرایہ کی رقم سے صرف نظر کرنے پر راضی ہوجائیں اور ان میں کوئی نابالغ بچہ بھی نہ موجودہو۔