سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

نامحرم سے خلوت (نامحرم کے ساتھ تنہا ہونا)

آیا، نامحرم عورت کے ساتھ تنہا رہنا، اگر چہ مطمئن ہو کہ گناہ میں مبتلاء نہیں ہوگا جائز ہے ؟ پرائی عورت کے ساتھ تنہارہنے کی حد کیا ہے ؟

جواب:۔ اگر ایسی جگہ پر ہیں کہ جہاں عام طور پر کسی کا گذر نہیں ہوتا تو نامحرم عورت کے ساتھ تنہائی میں شمار ہوتا ہے، اور پرائی عورت کے ساتھ تنہارہنے میں اشکال ہے حتیٰ اگر سوچےکہ حرام میں مبتلا نہیں ہونگے .

اُجراحتوں میں جن کا ارش موضحہ زخم کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، عاقلہ (وارثین) کا ضامن ہونا

چونکہ عاقلہ موضحہ زخم سے بڑے زخم کے ضامن ہوتے ہیں بشرطیکہ خطاء محض ہو، لہذا حضور فرمائیں:۱۔ چنانچہ ایسا زخم لگائے جو ارش کا سبب ہوتا ہے اور ارش بھی موضحہ زخم یا اس سے بڑے زخم کے برابر ہو، کیا عاقلہ ضامن ہیں؟۲۔ متعدد زخموں کی صورت میں کہ جن کی مجموعی دیت موضحہ زخم یا اس سے بڑے زخم کے برابر ہو لیکن فردی طور سے کم ہو (چاہے دیت معیَّن ہو یا نہ ہو ) تو کس طرح ہے ؟۳۔ کچھ زخم ایسے لگائے گئے جس کی دیت موضحہ زخم سے کم ہے لیکن اُنسے حو عیب حاصل ہوا وہ دیت اور اس عیب دونوں کو ملاکہ موضحہ کے برابر یا زیادہ ہوجاتا ہے، کیا اس صورت میں عاقلہ ضامن ہیں ۔

جواب 1: اس لحاظ سے دیت اور ارش میں کوئی فرق نہیں ہے ۔جواب 2: وہ مستقل زخم کہ جن میں سے ہر ایک کی دیت موضحہ زخم سے کم ہو تو اس کو عاقلہ کے حکم شامل نہیں ہونگے ۔جواب 3: اس فرض میں چونکہ جنایت ، جنایت واحدہ ہے لہٰذا عاقلہ شامل ہو جائیں گے ۔

وقف نامہ کے مضمون سے نا آگاہی

چند مالدار نیک لوگوں نے سن ۱۳۴۹ ہجری شمسی (تقریباً سن ۱۳۹۱ھ ق) میں ایک زمین، بیعنامہ کے ساتھ اور مالک کے اس دعوے کے ساتھ کہ یہ زمین، موقوفہ نہیں ہے، مسجد بنانے کے لئے، خریدی تھی کہ اب اس زمین پر مسجد بھی حضرت ابوافضل کے نام سے تعمیر ہوچکی ہے نیز اس سے استفادہ بھی کیا جارہا ہے لیکن لوگوں کے درمیان یہ مشہور ہے کہ اس مسجد کی زمین وقف تھی، لہٰذا وقف کے شرعی مسائل کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسجد کی کمیٹی نے اس مسئلہ کی چھان بین اور جستجو کرنے کے لئے اقدامات کئے،جستجو اور تحقیق کا نتیجہ حضرت عالی کی خدمت میں پیش کرتے ہیں وہ یہ کہ مسلّم طور پر مسجد کی زمین، حاج محمد علی کی وقف کی ہوئی ہے لیکن وقف کی نوعیت، مشخص نہیں ہے، بعض لوگوں کے اظہارکے مطابق حاج محمد علی کا وقف، علی الاولاد ہے جبکہ بعض لوگوں کو اس طرح کے وقف میں شک ہے اور امکان ہے کہ وقفِ شاہ نجف ہو (لیکن قوی امکان اس بات کا ہے کہ حاج محمد علی کا وقف، وقف علی الاولاد ہو) آپ سے درخواست ہے کہ مسجدمیں مذہبی سرگرمیوں کے سلسلہ میں اہل محلہ کا وظیفہ بیان فرمائیں؟

جواب: اگر تم نے تحقیق کی ہے اور وقف کا مصرف واضح نہیں ہوا ہے تو اس زمین کے لئے ایک مناسب کرایہ منظور کریں اور اس کرایہ کی رقم کے آدھے حصہ کو امیرالمومنین علیہ السلام کی مجالس میں خرچ کریں اور باقی آدھی رقم کو جن کے لئے وقف ہوا ہے یعنی اولاد کو پہونچادیں، مگر یہ کہ وہ لوگ مسجد کی وجہ سے کرایہ کی رقم سے صرف نظر کرنے پر راضی ہوجائیں اور ان میں کوئی نابالغ بچہ بھی نہ موجودہو۔

دسته‌ها: وقف کے احکام

قتل عمد میں ماں اور جنین دونوں کے قتل کا قصاص

اگر کوئی شخص ماں اور جنین کے قتل کے قصد سے گولی چلائے اور دونوں ہی قتل ہوجائیں ، کیا جنین کا باپ گولی چلانے والے کی جان کے قصاص کی درخواست کرسکتا ہے، یا یہ کہ جنین کے قتل عمد کے لئے دیت ہے؟

جواب: جنین کے قتل عمد کے لئے قصاص نہیں ہے، بلکہ فقط دیت ہے ؛ لیکن و ارثین جنین کی دیت لینے کے بعد ایک کامل دیت کی آدھی کو ماں کے قتل کے سبب قتل کرنے والے کے وارثین کو ادا کرکے اس کو قصاص کرسکتے ہیں ۔

دسته‌ها: جنین کی دیت

عید زہرا سلام الله علیہا میں گناہ کرنا

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عید زہرا(س) کے پروگرام میں تالیاں بجانا، ناچنا یہاں تک کہ حدیث ”رُفِعَ القلم“ (جس کو ذیل میں بیان کیا جائے گا) سے منسوب کرتے ہوئے ، بعض ایسے امور کو انجام دینا جن کے حرام ہونے کا مجتہدین نے فتویٰ دے رکھا ہے، کیا آپ اس کام کو جائز سمجھتے ہیں؟”وَاٴَمَرْتُ الْکِرَامَ الْکَاتِبِینَ اٴن یَرفَعُوا الْقَلَم عَنِ الْخَلقِ کُلّھم ثَلاثَة اَیَّام مِن ذَالِکَ الْیَوم، وَلَا اٴَکْتُبُ عَلَیہِم شَیئاً مِن خَطَایَاھِم کَرامَةً لَکَ وَلِوَصِیّک“(۱)کیا اس طرح کی حدیثیں سند کے لحاظ سے معتبر ہیں اگر فرض کرلیا جائے کہ معتبر ہیں تو حدیث کا مطلب کیا ہے؟

سند کے لحاظ سے یہ حدیث معتبر نہیں ہے، اس کے علاوہ قرآن کے مخالف ہے، معاذ الله ائمہ معصومین علیہم السلام نے ان دنوں میں کسی کو گناہ کرنے کی اجازت دی ہو ایسا نہیں ہوسکتا اور اگر فرض کیا جائے کہ حدیث، سند کے لحاظ صحیح ہے تب حدیث کا مطالب یہ ہے کہ اگر کسی شخص سے کوئی لغزش ہوگئی تو خداوندعالم اس کو معاف کردے گا نہ یہ کہ عمداً گناہ کرے ۔

دسته‌ها: گناه

اس معاملہ کی ضمانت جس کا سبب وجود میں نہیں آیا

ایک کمپنی بتاریخ ۱۱/۱۱/۱۳۷۵ش ھ، تقریباً۱۹۹۸عیسوی میں ایک سال کی قسط وار خریداری کا بینک سے معاملہ کرلیتی ہے، بغیر سود کے کام کے سلسلہ میں بینک کے قانون کے مطابق، بینک کی جانب سے سہولت فراہم کرنے کے لئے، اسلامی معاملات اور شرعی مقررات کی رعایت کرنا ضروری ہے، معاہدے کے مطابق، کمپنی کو پاپلین کپڑا بنانے کے کچھ کچّے مال کی خریداری کرنا تھی نیز نقد اور ادھار کے معاملات اور شریک ہونے کے معاملہ کی رو سے ان مال سے پاپلین تیار کرکے بازار تک پہنچانا تھا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ معاہدہ واقعی نہیں تھا بلکہ مذکورہ چیزوں کی خریداری کے عنوان سے ایک رسید بنواکر، بینک سے لون (قرض) وصول کیا تھا، رسید بنانے والے شخص نے بھی صاف صاف بتایا کہ معاملہ فسخ ہوگیا تھا اور اسی تاریخ میں مذکورہ رقم واپس دے دی گئی تھی، یعنی حقیقت میں مذکورہ چیزوں میں سے کوئی چیز موجود ہی نہیں تھی۔جنابعالی کی خدمت میں درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں فرمائیں کہ: کیا اس قسم کے معاملہ کی ضمانت کہ جس کا سبب وجود ہی میں نہیں آیا تھا، اپنی جگہ پر باقی ہے ؟

یہ معاملہ باطل تھا اور اُسے مذکورہ رقم کو بینک میں واپس کرنا چاہیے، اب رہی ضمانت تو اگر ضمانت اصل رقم کے بارے میں تھی تب تو اس پر عمل کرنا چاہیے اور اگر منافع کے بارے میں تھی تو معاملہ نہ ہونے کی صورت میں، ضمانت کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اور اس کا کوئی منافع ہوتا ہی نہیں ہے ۔

دسته‌ها: ضمانت کے احکام

بچہ کے ممیز اور غیر ممیز ہونے کا معیار

کیا آپ بچُوں کے ممیز (تمیز دار) اور غیر ممیز ہونے کے لئے، کسی خاص عمر کے قائل ہیں یا اس کی تشخیص کا معیار کچھ اور ہے ؟ نیز کیا ممیز بچوں کے لئے، سزا کے احکام، بالغ اشخاص ہی کی طرح جاری ہوں گے یا اس کے طریقہ میں کوئی فرق ہے ؟

تمیز (اچھے بُرے کی پہچان) کی عمر، معیّن نہیں ہے اور اس بات میں اشخاص مختلف ہوتے ہیں ۔ اس کا معیار یہ ہے کہ وہ اچھے برے میں تشخیص دے سکیں، مختلف امور کے لحاظ سے تمیز بھی مختلف ہوتی ہے اور بالغین کے احکام، ممیز بچوں پر جاری نہیں ہوتے، بلکہ ان کے مخصوص احکام ان پر جاری ہوں گے ۔

دسته‌ها: بالغ

مریض کی ضد پر اس کے لیے مضر دوا تجویز کرنا

اگر ڈاکٹر مریض کے اصرار پر اسے ایسی دوا لکھ دے جو اس کے لیے نقصان دہ ہو اور ایسے کام انجام دے جو مضر ہوں تو کیا وہ قصوروار شمار ہوگا؟

اگر ڈاکٹر نے دوا کے نقصان دہ ہونے کو بیان کر دیا تھا تو نقصان ہونے کی صورت میں اس پر کوئی ذمہ داری نہیں بنتی، لیکن اگر اس نے بیان نہیں کیا تھا تو وہ ذمہ دار اور قصوروار ہے ۔ البتہ ہر صورت میں ڈاکٹر کو نقصان دہ دوا بتانے سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

دسته‌ها: علاج، معالجه
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت