دفتر کے وقت میں پڑھنے اور مطالعہ کا حکم
دفتر کے اوقات میں فراغت اور بیکار ہونے کی صورت میں اس وقت سے پڑھائی کے لیے استفادہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر اس وقت آپ کے ذمہ کوئی ذمہ داری نہ تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اگر اس وقت آپ کے ذمہ کوئی ذمہ داری نہ تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
جواب: اس صورت میں جب کہ وہ لوگ جس جگہ سے روڑپار کررہے تھے وہ روڑ پار کرنے کی جگہ نہ ہو اور ڈرائیور لوگ معمولا ایسی جگہ کسی پیدل پار کرنے والے کی امید بھی نہیں رکھتے ہوں تو وہ لوگ خود بے احتیاطی کے مرتکب ہوئے ہیں ڈرایئور لوگ ذمہ دار نہیں ہیں۔
جواب:۔ بدعت وہ ہے جو دین میں جزء کی حیثیت اور قصد سے انجام دے یا عمل میں ایسے مطلب ( جزء دین ہونے ) کا تعارف کرائے ، لہٰذا اگرمصافحہ مطلق مطلوبیت کی نیت سے جو اس میں پائی جاتی ہے ، انجام دے اور کبھی کبھی اسے ترک کردے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
جواب:یہاں پر سقط جنین کی دیت ماں کے اوپر ہے اور اس کی دیت حاکم شرع کو دی جائے گی اور بیت المال کے اخراحات میں خرچ ہوگئی۔
بیہوشی، وکالت کے معزول ہونے کا باعث نہیں ہے ۔
جن صورتوں میں شریعت کے قوانین میں کوئی دیت معین نہیں ہوئی ہے تو ان میں اس کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اس کا معین ہونا فی صد کے اعتبار سے اہل خبرہ اور مورد اعتماد ماہرین کی تصدیق کے ذریعہ حاصل ہوگا۔
جو نوکر اپنے وظیفہ پر عمل نہ کرے اس کی تنخواہ میں اشکال ہے۔
جہاں تک ممکن ہو اہل خبرہ اور اہل اطلاع کی مدد کے ذریعہ مسجد کے بنانے اور آثار قدیمہ کو باقی رکھنے میں ہماہنگی کی جائے اور اگر یہ ہماہنگی ممکن نہ ہو تو اولویت مسجد کو ہے ۔
جواب: اول فرض کریں گے کہ باپ سب سے پہلے مرا ہے، اس کی میراث منجملہ دیت بھی، ماں اور وونوں بیٹوں کے درمیان تقسیم ہوگی، ان میں سے جو حیات ہیں اپنے حصے کو لے لیں گے، وہ دو نفر جو مرگئے (یعنی زوجہ اور اس کا بیٹا) اس کا حصہ ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا، جن کا ذکر بعد میں کریں گے، پھر ہم فرض کریں گے کہ پہلے بیوی مری ہے، اس کی میراث اور دیت باپ، ماں اور اس کے دو بیٹوں کو پہنچے گی جو ان میں سے زندہ ہیں وہ اپنا حصہ لے لیں گے اور وہ دونوں جو فوت ہوگئے (یعنی شوہر اور پہلا بیٹا) ان کا حصہ ان کے وارثین کو پہنچے گا پھر ہم فرض کریں گے کہ بیٹا سب سے پہلے مرا ہے، اس کی میراث اور دیت فقط اس کے باپ اور ماں کو پہنچے گی اور ان سے گذرکر ان ورثہ کی طرف منتقل ہوجائے گی جن کی طرف پہلے اشارہ ہوچکا ہے، مسئلہ کی پیچیدگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اگر آپ عمل نہ کرپائیں کسی مقامی عالم دین سے پڑھوائیں اور عمل کریں۔
جواب: حد زنا کی طرح ہے، بیٹھے ہوئے اور لباس کے ساتھ۔
اگر مذکورہ افراد پڑھے لکھے اور باتقویٰ لوگ ہوں اور معتبر کتب سے استفادہ کرتے ہوں تو ان کی دعا نویسی صحیح ہے، اس کے علاوہ اُن پر اعتقاد نہیں کیا جاسکتا ۔
جواب۔بعض گذشتہ مجتہدین جو اب حیات نہیں ہےں اور بعض زندہ مجتہدین حرام ہونے کا حکم نہیں دیتے شاید مذکورہ شخص ان کا مقلد ہو .
جواب:۔چہرہ اور گٹّوں تک ہاتھ، پردہ کے حکم سے جدا ہیں اور ان کا چھپانا واجب نہیں ہے .