دوسروں کے اسناد اور بیمہ کارڈ سے استفادہ کرنا
دوسروں کے کاغزات سے ان کی اجازت کے ساتھ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے جیسے معالجہ کی تخفیف کا کارڈ، پاسپورٹ، شناختی کارڈ وغیرہ، جایز نہ ہونے کی صورت میں کیا اس کی مخالفت پر سزا بھی ہے؟
اگر قوانین و ضوابط کے خلاف ہو تو ایسا کرنا جایز نہیں ہے اور اللہ کے یہاں جواب دہ ہوگا۔
نویں اور دسویں محرم میں کی گئی قربانی کا مصرف
ہر سال محرم کے نویں اور دسویں تاریخ کو ''ہل محلہ'' کچھ بھیڑ بکریوں کو نذر کے عنوان سے ماتمی دستہ اور حضرت عباس (علیہ السلام) کے علم کے سامنے ،ذبح کرتے ہیں اور ان کی قیمت کو امام باڑے کی کمیٹی کے زیر نظر ، امام باڑے کی مرمت اور دیگر تعمیرات پر خرچ کیا جاتاہے ،سوال یہ ہے کہ کیا ان قربانی کی بھیڑوں کی قیمت کو حضرت ابوالفضل (علیہ السلام) جامی مسجد پر خرچ کیا جا سکتا ہے کہ جو سڑک کے کنارے عبادت اور مسافروں کے آرام کے لئے بنائی جا رہی ہے ، جبکہ وہ امام باڑہ بھی بہت زیادہ مرمت کا محتاج ہے َ
جواب: احتیاط یہ ہے کہ قربانی کی ان بھیڑ بکریوں کو عزاداروں کو کھانا کھلانے میں استعمال کیا جائے ، مگر یہ کہ قرائن و شواہد سے معلوم ہوجائے کہ نذر کرنے والوں کا کوئی دوسرا مقصد تھا۔
فال حافظ کا عتبار
فال حافظ کے سلسلے میں حضور کی کیا رائے ہے؟
اس فال کو کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
تنہا عورت کی شہادت قبول کرنے کا دائرہ ٴحدود
کہا گیا ہے کہ: ”جن جگہوں پر مردوں کا مطلع ہونا مشکل ہے، وہاں پر تنہا عورتوں کی گواہی قبول ہے“ اس حکم کی حدود کے بارے میں فرمائیں کہ اس کا دائرہ کس حد تک ہے مثلاً زنانہ حمّام میں خصوصاً قتل عمد کے بارے میں عورتوں کی شہادت کس چیز کو ثابت کرتی ہے؟ یا اگر عورتیں شہادت دیں کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بچہ عمداً ساقط کیا ہے اور اسی سے عورت کی موت بھی واقع ہوئی ہے، اس سے کیا چیز ثابت ہوگی؟
جواب: مذکورہ حکم اس طرح کے موارد کو شامل نہیں ہوگا؛ بلکہ اس حکم سے منظور وہ امور ہیں کہ جو بطور طبیعی فقط عورتوں کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
مغز کو نقصان پہنچنے کی دیت
کیا مغز کے لئے حیات بخش عضو ہونے کے سبب دیت ہے یا ارش؟ مغز کے مختلف حصّے اور اس سے مربوط اعضا جیسے سطح نخاعی، تحتانی، قشری وغیرہ کے لئے ارش ہے یا ان کی خاص دیت ہے؟
ان میں سے ہر ایک کے لئے ارش ہے اور اگر مغز کو نقصان پہنچنا کسی ایک منافع کا سلب ہوجانا، ہوجائے (جیسے قوت گویائی وغیرہ) تو منافع کی دیت جاری ہوگی۔
سرکاری ملازم کو ریکارڈ کے مطابق انعام ملنا
مزدور کسی ٹھیکیدار کے تحت کچھ سال کام کرے اور وہ ٹھیکیدار اس کا ہر طرح سے خیال رکھے اس کے تمام حقوق اور سہولتیں اسے فراہم کرتا ہو مگر کچھ سال کے بعد مزدور اپنی مرضی سے اس کام کو چھوڑنا چاہتا ہو اور وہ ٹھیکیدار سے حساب کرنے کو کہے اور دوبارہ پیسا لے تو کیا اس کے لیے یہ پیسا لینا جایز ہے؟
اگر قانون کے تحت وہ اپنا پرانا حق لینا چاہتا ہو اور دونوں فریق نے اس قانون کو قبول مانتے ہوں تو مزدور سے کیے گیے وعدہ کے مطابق ٹھیکیدار کے لیے اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔
ایسے محارب کی سزا جو قتل نفس اور دوسروں کے زخمی کرنے کا مرتکب ہوا ہو
ایک محارب ، محاربہ کے عمل میں قتل نفس یا نقص عضو کا مرتکب ہوجاتا ہے؛ کیا محاربہ کی سزا کے علاوہ وہ قصاص کا بھی مستحق ہے؟
جواب : پہلے قصاص کیا جائے گا پھر محارب کی حد جاری ہوگی۔
وہ عیسائی جو مسلمان کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہیں
بعض ممالک کے کچھ عیسائی یا تو براہ راستمسلمانوں سے جنگ کرنے میں مصروف ہیں یعنی حالت جنگ میں ہیں یا ان کی مالی مدد کررہے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہیں، اس صورت میں کیا ان پر (محارب) حربی ہونے کے احکام جاری ہوں گے نیز اس زمانے میں، محارب کے صادق آنے کے شرائط کیا ہیں؟
وہ لوگ، محارب ہی کا حصہ ہیں، لیکن اگر اُن کے اوپر محارب کے احکام جاری کرنا بغض وکینہ وفساد بڑھنے کا باعث ہو تب اس صورت میں ان کے ساتھ نرم برتاؤ کریں ۔
زنا میں احصان کے مستحق ہونے کے شرائط
کیا زانی ذیل کے موارد میں رجم کا مستحق ہے؟۱۔ احصان سے بچنے کے لئے سفر کیا اور زنا کا مرتکب ہوگیا۔۲۔ ایسے حالات میں زنا کا مرتکب ہوا ہے جبکہ بیوی یا شوہر بیماری کی وجہ سے جماع کی آمادگی نہیں رکھتے تھے، اگرچہ تمام دیگر لذتیں ممکن تھیں۔۳۔ زنا اس وقت واقع ہوا جب شوہر بیوی میں ناراضگی اور گھریلو اختلاف کی وجہ سے مجامعت ممکن نہیں تھی۔۴۔ زنا کا ارتکاب بیوی یا شوہر کے روزے کی حالت میں ہوا۔۵۔ عورت طلاق رجعی کی عدت میں زنا کی مرتکب ہوئی ہے (ملحوظ رہے کہ عورت کو رجوع کرنے کا حق نہیں ہوتا)۶۔ مرد اپنی بیوی کے ایام حیض یا نفاس میں زنا کا مرتکب ہوا ہے۔
جواب: تمام بالا صورتوں میں سے کسی صورت میں بھی زناء محصنہ ثابت نہیں ہے، مگر روزے کے موارد میں ؛ کیونکہ روزہ کی ممنوعہ مقدار احصان پر ضرر انداز نہیں ہوتی، ہرچند کہ فقہاء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں مرد اور عورت کی طرف سے زنا کرنا، زناء محصنہ شمار ہوتا ہے؛ لیکن ان کی دلیل قانع کنندہ نہیں ہے۔
قاتل چور پر محارب کا عنوان صادق نہ آنا
اگر تین شخص کسی کو قتل کرنے اور اس کے مال کو چوری کرنے کے قصد سے اس کی موٹر کار میں سوار ہوں اور راستہ میں اس کو مار کر اس کی موٹر کار چرالےں حالانکہ انہوں نے ایک رسی کے ٹکڑے اور ایک پلاسٹیک کے اسلحہ سے استفادہ کیا ہو (بالفرض قتل رسی کے ذرےعہ دم گھونٹنے سے ثابت ہو اور گاڑی کی چوری بھی ثابت ہوجائے،) کیا مذکورہ اشخاص محارب شمار ہوں گے؟اگر قاتل یہ قصد رکھتا ہو کہ قید سے آزاد ہوتے ہی کسی شخص یا اشخاص کا بغیر کسی وجہ کے قتل کرے گا، کیا مفسد فی الارض شمار ہوگا اور مہدورالدم سمجھا جائے گا؟
جواب: ایسے اشخاص محارب نہےں ہیں ، قاتل یا اسی کے مانند کے احکام رکھتے ہیں ، مگر یہ کہ اس عمل کی تکرار اس طرح کریں کہ ناامنی کا سبب قرار پائیں اور مفسد فی الارض کا عنوان پیدا کرلیں ۔جواب: یہ نیت مفسدفی الارض کا مصداق سبب نہیں ہوگی ؛ لیکن اگر ایسی نےت ثابت ہوجائے تو اس کو اسی طرح زندان میں ڈالے رکھےں تاکہ اس کی اصلاح ہوجائے۔
اعضاء بدن کو ہدیہ (ڈونیٹ) کرنے کی وصیت
اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں یہ وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے جسمانی اعضائ،ضرورتمند بیماروں کو دیدئے جائیں، کیا اس کے وارث اس کام سے روک تھام کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: وارثوں کے منع کرنے کا اس مسئلہ میں کوئی اثر نہیں ہے اور اگر وہ جسمانی اعضاء بیماروں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہوں، تو اس کے جسم کے مذکورہ اعضائے بدن کو حاصل کرنا جائز ہے اسی طرح اگر کسی کے مہم عضو جیسے آنکھ کو بچانے کے لئے ضروری ہو۔
نر حیوان کے مالک کو حمل ٹھرانے کا عوض دینا
بعض علاقوں میں نر حیوان کے مالک، مادہ کو حاملہ کرنے کے عوض میں پیسہ یا سامان لیتے ہیں۔ کیا یہ کام جایز ہے؟
اگر مزدوری کے عنوان سے لیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
ایسا حلیہ بنانا جو تمسخر کا سبب ہو
بعض جوان جو علمی اعتبار سے اعلی رتبہ اور مقام رکھتے ہیں، ایک خاص طرز سے لباس پہننتے ہیں، کافی بڑی ڈاڑھی رکھتے ہیں اتنی بڑی کہ کبھی کبھی وہ ان کی تضحیک کا سبب بنتی ہے ایسی ڈاڑھی کا کیا حکم ہے؟
ایسے لباس اور ڈاڑھی سے جو انسان کی تضحیک کا سبب ہو، پرہیز کرنا لازمی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی عزت اور وقار کو داغ نہ لگنے سے محفوظ رکھے۔
تاش کھیلنا (تاش کا مخصوص کھیل )
کیا ہار جیت کے بغیر تاش کھیلنا جائز ہے
جواب ۔اگر عام لوگوں کے درمیان تاش ،جوے کے آلات میں سے خارج ہو گیا ہو اور فقط ایک سرگرمی کے عنوان سے اسکا استعمال کیا جاتا ہو تو مال کی ہار جیت کے بغیر اس سے کھیلنے میں کوئی اشکال نہیں ہے

