ایسے محارب کی سزا جو قتل نفس اور دوسروں کے زخمی کرنے کا مرتکب ہوا ہو
ایک محارب ، محاربہ کے عمل میں قتل نفس یا نقص عضو کا مرتکب ہوجاتا ہے؛ کیا محاربہ کی سزا کے علاوہ وہ قصاص کا بھی مستحق ہے؟
جواب : پہلے قصاص کیا جائے گا پھر محارب کی حد جاری ہوگی۔
جواب : پہلے قصاص کیا جائے گا پھر محارب کی حد جاری ہوگی۔
جواب: مذکورہ حکم اس طرح کے موارد کو شامل نہیں ہوگا؛ بلکہ اس حکم سے منظور وہ امور ہیں کہ جو بطور طبیعی فقط عورتوں کے ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
ان میں سے ہر ایک کے لئے ارش ہے اور اگر مغز کو نقصان پہنچنا کسی ایک منافع کا سلب ہوجانا، ہوجائے (جیسے قوت گویائی وغیرہ) تو منافع کی دیت جاری ہوگی۔
جواب:اگر لوگ اس بات کو پہلے سے جانتے ہوں ،اور مرضی سے ان کاموں کے لئے قربانی کریں تو کوئی اشکال نہیں ہے اور اگر لوگ کوپہلے سے خبر نہیں ہے تو اس صورت میں ان کا گوشت عزاداروں کے مصرف میں لایا جائے ۔
جواب ۔اگر عام لوگوں کے درمیان تاش ،جوے کے آلات میں سے خارج ہو گیا ہو اور فقط ایک سرگرمی کے عنوان سے اسکا استعمال کیا جاتا ہو تو مال کی ہار جیت کے بغیر اس سے کھیلنے میں کوئی اشکال نہیں ہے
جواب:۔اگر دخول ہوگیا ہے تو عدّت لازم ہے .
دعا کا جلانا مطلقاً جائز نہیں ہے لیکن بعض دعاؤں یا تعویذوں کو دھوکر پلانے یا پانی میں بہانے کا تذکرہ بعض کتابوں میں ہوا ہے ۔
اس فال کو کوئی اعتبار نہیں ہے ۔
اگر مزدوری کے عنوان سے لیتے ہیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
بعض مواقع پر، دوسروں کو گالیاں دینے کی تعزیری سزا ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں اس کی سزا حد قذف (۸۰کوڑے) ہوتی ہے جو حاکم شرع کے ذریعہ دی جاتی ہے ۔
جواب : قصاص نہیں کیا جائے گا، مگر دیت دینا ہوگی ۔
جواب: وقف ایک مہم اور اسلامی سنّت ہے، جو پیغمبر اکرم کے زمانے سے جاری رہی ہے، ائمہ معصومین علیہم السلام کے دور میں توجہات کا مرکز تھی اور اسلامی روایات میں اس کے سلسلے میں، بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے، تاریخ کے طولانی سفر کے دوران، وقف کے ذریعہ بڑے اہم کام انجام دیئے گئے ہیں اور بہت سے تعلیمی ادارے، اسپتال، دینی مدارس اور رفاہ عام کے لئے بہت سے اچھے کام اس (وقف) کے ذریعہ انجام دیئے گئے ہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں نے وقف کی برکتوں سے فائدہ اٹھایا ہے اور ابھی بھی فائدہ حاصل کررہے ہیں، امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں پڑھتے ہیں: کسی نے حضرت(ع) سے دریافت کیا کہ مرنے کے بعد انسان تک کیا چیز پہونچ سکتی ہے؟ حضرت(ع) نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے درمیان نیک سنّت چھوڑجائے، جو شخص بھی اس سنت پر عمل کرے گا اس کا اجر وثواب اس کو بھی حاصل ہوگا،بغیر اس کے کہ اس سنت پر عمل کرنے والوں کے اجر وثواب میں کمی واقع ہو، دوسرے یہ کہ اپنی یادگار کے لئے، صدقہ (وقف) جاریہ، چھوڑجائے کہ جس کی برکتیں اور اثرات باقی رہیں اور یہ صدقہ جاریہ، دوسرے عالم یعنی آخرت میں، اس کے لئے باعث نجات ہوں گے، ٹھیک ہے کہ بعض ناآگاہ اوربے ایمان لوگوں کے وقف سے غلط استفادہ کرنے کی وجہ سے، دوسرے لوگوں کی نظر میں موقوفات کا چہرہ بدل گیا ہے، لیکن ہمیں اجازت نہیں دیناچاہیے کہ اس اسلامی، عظیم اور بابرکت سنت کو، جس کے ہزاروں فائدے اور نتیجہ، تاریخ میں ظاہر ہوئے ہیں، نااہلوں کے غلط استفادہ کی وجہ سے بھُلادیا جائے بلکہ غلط استفادہ کرنے سے روک تھام کرنا چاہیے اور یہ کام بالکل ممکن ہے، بہت سی مسجدیں، درسگاہیں، تعلیمی ادارے اور خصوصاً ائمہ اطہار علیہم السلام کے مقدس روضوں کی تعمیر اور ان کا آباد رہنا، انہی وقف اور موقوفہ چیزوں کی برکت سے ہے، آج کے دور میں اس اسلامی سنت حسنہ کو اور زیادہ اہمیت دی جائے، خصوصاً تعلیمی اور ثقافتی اداروں کے لئے اس سے استفادہ کیا جائے، یقینا جو بھی عالم اور دانشمند اس طرح کے اداروں سے تعلیم حاصل کرنے نکلے گا اور وہ عالم جو بھی خدمات انجام دے گا، اس کا فائدہ دنیا وآخرت دونوں میں وقف کرنے والوں کو پہونچے گا، خداوندعالم اسلام کی سچّی سنتوں کو زندہ کرنے والوں کو کامیاب کرے۔
اُن دعاؤں کے لکھنے میں جو آئمہ علیہم السلام سے کتب معتبرہ میں موجود ہیں، کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن دعا لکھنے کا دھندا کرنا کہ جو پیسہ کمانے والوں میں رائج ہے، صحیح نہیں ہے ۔
ایسے لباس اور ڈاڑھی سے جو انسان کی تضحیک کا سبب ہو، پرہیز کرنا لازمی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی عزت اور وقار کو داغ نہ لگنے سے محفوظ رکھے۔
جواب: وارثوں کے منع کرنے کا اس مسئلہ میں کوئی اثر نہیں ہے اور اگر وہ جسمانی اعضاء بیماروں کی جان بچانے کے لئے ضروری ہوں، تو اس کے جسم کے مذکورہ اعضائے بدن کو حاصل کرنا جائز ہے اسی طرح اگر کسی کے مہم عضو جیسے آنکھ کو بچانے کے لئے ضروری ہو۔