سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

حق خیار کے بغیر معاملہ کا فسخ ہو نا

کوئی شخص ایک قرآن دوسرے شخص کو فروخت کر دیتا ہے پھر کچھ عرصہ کے بعد آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ قرآن خطی نسخہ تھا اور مجھے نقصان ہوا ہے کیا خریدار پر قرآن واپس کرنا ضروری ہے ؟

جواب۔ اگر اختیارات جیسے غبن کی صورت میں اختیار ہونا یا عیب نکلنے کی صورت میں اختیار ہونا وغیرہ میں سے کوئی اختیار اس کی شامل حال تھا تو (آکر معاملہ کو )فسخ کر سکتا ہے ورنہ اس صورت کے علاوہ فسخ کرنے کا حق نہیں رکھتا

قتات (قدرتی پانی کی نالی ) چشموں اور کنووں کی حریم (حدود)۔

برائے مہربانی قنات (وہ قدرتی نالی جس سے سینچائی کی جاتی ہے) چشموں اور کنووں کے حریم (حدود) کے بارے میں اپنی مبارک نظر بیان فرمائیں:۱۔ کیا ان حدود کو ان بنجر زمینوں سے مخصوص جانتے ہیں جن کو ابھی قابل کاشت بنایا ہے ، کہ سابق (جس نے پہلے بنجر زمین کو آباد کیا) لاحق (جو اس کے بعد آباد کرے) کی ممانعت کا باعث بنتا ہے ، یا ان کو یہاں تک کہ برابر والی املاک میں بھی لازم جانتے ہیں (یعنی پہلی زمین سے مخصوص نہیں ہے)۲۔ دونوں فرضوں میں، کیا قنات ، چشمے یا پہلے کنویں کے خشک ہوجانے کے بعد پھر بھی یہ حکم باقی ہے؟۳۔ دونوں مذکورہ بالا سوالوں کے فرض میں، ممانعت کا وجود اور حدود کی رعایت کا لزوم معین ہوگیا ہے، اگر کوئی شخص اس کی رعایت نہ کرے اور اپنی ملکیت یا گھر میں چشمہ یا قنات یا کنواں کھودے اور پانی نکالے، کیا وہ اس پانی کا مالک ہوجائے گا اور کیا یہ اس کے لئے مباح ہے؟۴۔ اوپر والے سوال کے فرض میں، اگر اسی مذکورہ پانی سے کچھ اجناس حاصل ہوں جیسے سبزی، میوہ وغیرہ ان کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ اجناس حرام ہیں؟

جواب1: دلیلوں کا ظاہر یہ بتاتا ہے کہ یہ احکام بنجر زمینوں سے مربوط ہیں، لیکن ملکی زمینوں میں بھی ان سے فائدہ حاصل کرناہر ایک مالک کے لئے اس حد تک ہونا چاہیے جتنا عرفِ عقلاء میں معمول ہے، معمول سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا اس حد تک کہ دوسروں کے لئے باعث ضرر بنے، اشکال رکھتا ہے۔جواب2: کنویں کے خشک ہوجانے کی صورت میں جبکہ اس کا مالک اس کو دوبارہ بنوانے سے صرف نظر کرجائے، تب دوسری قنات اور چشمہ کو بنانا کوئی مانع نہیں رکھتا۔جواب3: ممنوعہ موارد میں احتیاط یہ ہے کہ اس پانی پر غصبی پانی کا حکم جاری کریں۔جواب4: جو اجناس اس پانی سے حاصل ہوئی ہیں حرام نہیں ہیں، لیکن احتیاط یہ ہے کہ پانی کے پیسوں کی بہ نسبت اس شخص کے ساتھ جس کو ضرر پہنچا ہے مصالحت کرے۔

جس مدّت تک غصب کیا ہے اس کا کرایہ (اجارہ) ادا کرنا

کیا غاصب ، غصب کئے ہوئے مال کو واپس کرنے کے علاوہ ،اصل مال کی بہ نسبت کوئی اور وظیفہ بھی رکھتاہے ؟

جواب: غاصب کا وظیفہ ہے کہ با خبر حضرات کی رائے کے مطابق ، غصب شدہ مدت کے اعتبار سے ، اس مال کا کرایہ بھی ادا کرے ۔

دسته‌ها: غصب کے احکام
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت