سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

اسلامی تعذیرات کی دفعہ ۵۹ کے تیسرے بند کی فقہی دلیل

اسلامی تعذیرات کی دفعہ ۵۹ کے تیسرے بند کی فقہی دلیل کے سلسلے میں نیچے دیئے گئے قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی نظر مبارک بیان فرمائیں : ”وہ حادثات جو کھیل کود کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں بشرطیکہ ان حوادث کا سبب کھیل کے قوانین کا نہ توڑنا ہو اور نہ ہی قوانین شریعت کے مخالف ہوں تو جرم شمار نہیں ہوتے“ایسے حادثات کو جرم تسلیم نہیں کیا گیا ہے (یعنی ان حالات کے تحت ایک فعل، جرمی حالت ہونے سے خارج ہوجاتا ہے) مثلاً فٹبال کے کھیل میں ایک کھلاڑی گیند میں لات مارتا ہے اور گیند دوسرے کھلاڑی کے منہ پر پڑتی ہے جو اس کے زخمی ہونے یا ہڈی ٹوٹنے کا سبب بن جاتی ہے؛ لیکن اس میں کھیل کے قوانین وضوابط کی رعایت کی گئی ہے، نتیجةً اس کا یہ فعل مذکورہ قانون کے مطابق جرم شمار نہیں ہوتا ہے ؟

اس مسئلہ کی دلیل یہ ہے کہ جب کھلاڑی کھیل کے میدان میں اترتے ہیں تو عملاً ایک دوسرے سے ان حادثات کی نسبت جو کھیل کی طبیعت میں پوشیدہ ہیں یہان تک کہ اگر قوانین کے مطابق بھی عمل کریں پھر بھی حوادث پیش آہی جاتے ہیں، ضمنی معافی حاصل کرلےتے ہیں، اس معافی کی طرح جس کو طبیب لفظاً یا عملًا مریض سے لیتا ہے اور یہ کام اس کی معافی کا سب ہوتا ہے۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب

فحش فلموں اور معاشرے کو خراب کرنے والے آلات کو نابود کرنا

ہمارے زمانے کے مہم مسائل میں سے ایک مسئلہ اخلاقی فساد کا مسئلہ ہے کہ جس نے ہمارے جوانوں کو بگاڑ دیا ہے اور ان کو ہلاک کرنے کے درپے ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں ان میں سے سب سے واضح پہلو ویڈیو فلمیں اور کیسٹیںہیں کہ جن کا معاشرے کی تہذیب کو خراب کرنے اور جوانوں کو منحرف کرنے میں بہت بڑا حصّہ ہے، اور افسوس کہ انتظامیہ اور عدلیہ اس سلسلے میںبہت سست عمل کرتے ہیں، کیا ایسی چیزوں کو اس دلیل سے کہ یہ اسلامی تہذیب کو ختم کررہی ہیں، نابود کرسکتے ہیں؟ کیا ان جیسی چیزوں کو جیسے ڈش انٹینا وغیرہ کہ جس کا کردار فحش ویڈیو فلموں جیسا یا اس سے شدید ہے، نابود کیا جاسکتا ہے؟

یقیناً فحشا اور فساد کے آلات کو نابود کیا جاسکتا ہے اور یہ کام ضمان کا سبب بھی نہیں ہےن لیکن لوگوں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی مرضی سے یہ کام کریں؛ کیونکہ اس صورت میں ہرج ومرج لازم آئے گا، بلکہ منصوبہ بندی اور قوانین کے تحت، اور حاکم شرع اور مربوطہ حکّام کی ریز نگرانی انجام دیا جائے ۔

دسته‌ها: ضمانت کے اسباب

حکومتی ادارات وغیرہ سے چوری

تقریباً تین سال پہلے (جہالت اور برے ساتھیوں کی صحبت کے نتیجہ میں) میں نے میونسپلٹی کی ملکیت چند کیبل (بجلی کے تار) چرا کر فروخت کردیئے اب اگر میں ان کی قیمت ادا کرنا چاہوں تو:الف) کس شخص یا کس محکمہ کو ادا کروں جو کہ لازم ہو؟ب) اس مورد میں کہ جب میرے سامنے، میونسپلٹی یا کسی شخص سے (ان چیزوں کو اپنے لئے) حلال کرانے یا کسی خاص آدمی کو راضی کرنا ضروری ہے؟ج) اس زمانے میں، ایک کیلو کیبل (تار) کی قیمت چالیس تومان تھی جبکہ اس وقت اس کی قیمت ۱۲۰ تومان ہے، اس صورت میں اب میں کونسی قیمت ادا کروں؟د) ہم تین آدمی تھے (البتہ رقم ہم دولوگوں کے درمیان تقسیم ہوئی) اب میں تمام تاروں کی قیمت ادا کروں یا یہ کہ ان سب کا وزن جوڑکر اس کے آدھے وزن کی قیمت ادا کروں؟ھ) ان کیبلوں (تاروں) کا صحیح وزن مجھے یاد نہیں رہا ہے، اس صورت میں ان کی قیمت کیسے ادا کروں؟

تم اس رقم کو میونسپلٹی کی آمدنی سے متعلق بینک کے کھاتہ میں ڈال سکتے ہو، اور اس کی موجودہ قیمت دینا ضروری ہے اور اگر دوسرے اپنا حصہ ادا نہ کریں تو تمام رقم کے ضامن اور ذمہ دار تم ہو، ہاں یہ کام انجام دینے کے بعد پھر کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، تمھیں بارگاہ الٰہی میں توبہ کرنی چاہیے اور قیمت کی مقدار میں شک ہونے کی صورت میں، اسی مقدار کے لحاظ سے، احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔

مسجد کی کمیٹی کی اجازت کے بغیر وہاں قرآن کا درس رکھنا

اگر مسجد کے متولی حضرات یا امام باڑے کی کمیٹی والے کہیں کہ ہم راضی نہیں ہیں کہ مسجد یا امام باڑے میں قرآن کی کلاس ہو، تو کیا ان کی بات کی رعایت کرنا ضروری ہے؟

اس طرح کے کاموں میں ان کی رضایت ضروری نہیں ہے، البتہ بہتر ہے کہ ان سے مل کر پروگرام طے کریں اور اس بات کا خیال رہے کہ نمازیوں کے لیے کسی رکاوٹ کا باعث نہ ہو۔

دسته‌ها: مسجد

طرح طرح کی فیلم بنانے میں اسلام کا نظریہ

فیلموں کے سلسلے میں ذیل میں دیئے گئے سوالوں کے جواب مرحمت فرمائیں:۱۔ خیالی، ڈراؤنی، خشونت آمیز، کمیڈی اور سیکسی فیلم بنانے کا اسلام کا کیا حکم ہے؟۲۔ فیلم میں نامحرم مرد اور عورت کے احساسات کو بیان کرنا کیساہے؟۳۔ اگر کوئی دوسرے کی بیوی یا شوہر کا کردار ادا کرے، جبکہ ان کے درمیان کوئی محرمیت بھی نہ ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟۴۔ کیا فیلم میں مصنوعی بالوں کی وگ کا مردوں سے چھپانا واجب ہے اور اس کا حکم طبیعی بالوںکا حکم ہے؟۵۔ اہل کتاب اور کافر عورتوں کو دیکھنے میں کیا فرق ہے؟۶۔ کمیڈی(ہنسنے ہنسانے والی فیلم) کو دیکھنے کا کیا حکم ہے کہ جس میں فقط ہنسانے کا ہی پہلو ہوتا ہے؟۷۔ فیلموں میں آواز کی تقلید کرنے کا کیا حکم ہے، جیسے کوئی مرد کسی عورت کو آواز کی تقلید کرے یا اس کے برعکس؟

بد آموز اور ضرر پہنچانے والی فلمیں جیسے سیکسی اور ڈراؤنی فلمیں وغیرہ حرام ہیں، لیکن درس دینے والی فلمیں یا کم از کم بغیر مفسدہ کے سرگرم کرنے والی فلمیں نہ یہ کہ ان کے دیکھنے میںاشکال ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی یہ مفید اور موٴثر اور اسلامی مقاصد کی ترقی کا سبب بھی ہوتی ہیں اور کسی مرد کا بغیر محرمیت کے کسی عورت کے شوہر کے کردار کو ادا کرنا اس صورت میں کہ جب اس میں شریعت کے خلاف کوئی چیز نہ ہو تو اس میں ذاتاً کوئی اشکال نہیں ہے، اور مخالف جنس کی آواز کی تقلید کرنے کا بھی یہی حکم ہے ۔

دسته‌ها: ٹیلی ویژن

وہ بھیڑ بکری جس نے سور یا کتیا کا دودھ پیا ہو

اگر ایک بھیڑ،کتے کا دودھ پئے تو کیا اس کا گوشت نجس اور حرام ہوجاتا ہے؟

جواب : کتے کے دودھ کے حرام ہونے کے بارے میں کوئی دلیل ہمارے پاس نہیں ہے اگر چہ بھیڑ اس کا دودھ اتنا زیادہ پیئے کہ اس کی ہڈیاں بھی مضبوط ہوجائیں ، لیکن اگر خنزیر کا دودھ مذکورہ مقدار تک پئے تو خود اس بھیڑ کا گوشت بھی حرام ہے اور اس کی آنے والی نسلوں کا گوشت بھی ۔ لیکن اگر اس مقدار سے کم پیا ہو تو اس کا گوشت مکروہ ہے اور بہتر یہ ہے کہ سات دن تک اس کو باندھ کر رکھیں اور پاک کھانا دیں ۔

تمکین نہ کرنے والی عورت (بیوی) کی طلاق

میری زوجہ اسلامی احکام کے سلسلے میں، بے توجہ ہے تمکین نہیں کرتی اور ابھی غیر مدخولہ (یعنی اس کے دخول نہیں ہوا) ہے کیا اس کو طلاق دےسکتا ہوں ؟ اس کی طلاق کس نوعیت کی ہے اور مہر کا کیا حکم ہے ؟

جواب:۔مناسب ہے کہ اس کے ساتھ کچھ عرصہ تک، نرم برتاؤ اور اچھا سلوک کرو، اس کو نصیحت کرو ، اور اس کے ساتھ محبت سے پیش آؤ ، شاید آہستہ آہستہ بدل جائے اور طلاق کی نوبت نہ آئے اور حرام اور غیر واجب چیزوں کے علاوہ ، اس کے ساتھ سختی سے پیش نہ آؤ، اگر اس کا بھی کوئی نتےجہ سامنے نہ آئے تو اس سے جدا ہوسکتے ہو، لیکن جو آپ نے تحریر کیا ہے اس کے مطابق آپ کی زوجہ ، ناشزہ (نافرمان) اور غیر مدخولہ ہے لہذا اس کو نفقہ کا حق نہیں ہے، اور اگر وہ طلاق لینا چاہئے تو اس کی طلاق ، طلاق، خلع ہے ، اورمہر کو بذل (بخش دینے) یا اس کے مثل کوئی اور چیز بذل (بخشے) کے بغیر نیز شوہر کی رضایت کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ ممکن نہیں ہے .

دسته‌ها: طلاق خلع
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت