باربار استخارہ کرنا
کیا شادی کے سلسلے میں دوبارہ استخارہ کرنا جائز ہے کس طریقہ سے ؟
جواب:۔کسی بھی مورد میں دوبارہ استخارہ کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کافی عرصہ گذر جائے یا جس کام کیلئے استخارہ کرایا ہے، اس کے حالات و شرائط بدل جائیں
جواب:۔کسی بھی مورد میں دوبارہ استخارہ کرنا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ کافی عرصہ گذر جائے یا جس کام کیلئے استخارہ کرایا ہے، اس کے حالات و شرائط بدل جائیں
اگر یہ معاملہ بولی لگنے کی صورت میں ہوا ہے اور عام لوگوں کے درمیان بولی لگنے کا مطلب، غبن پر توجہ اور غبن کا ساقط کرنا ہے، تب تو بیچنے والے کو غبن کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں ہے؛ لیکن اگربولی لگنے کے علاوہ یہ معاملہ ہوا ہے اور فروخت کرنے والا ثابت کرسکتا ہے کہ معاملہ کے وقت اس کو دھوکہ (غبن) ہوا ہے تب اس کو خیار غبن حاصل ہوگا اور اگر ثابت نہ کرسکے تو اس کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا ۔
اگر تنقید راہ حل کے ساتھ ہو تو یقیناً بہتر ہے؛لیکن اگر تقیدکرنے والا راہ حل نہیں بتا سکتا تو تب بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے باب سے اپنا وظیفہ انجام دے ۔
جواب: جب کوئی شوہر یا زوجہ دنیا سے گذر جائیں اور کوئی دوسرا شخص ان کا وارث نہ ہو، اس صورت میں اگر زوجہ کا انتقال ہوجائے تو اس کا تمام مال، شوہر کا حق ہے اور اگر شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کا ایک چوتھائی مال، زوجہ کا حق ہے اور باقی مال امام علیہ السلام سے متعلق ہے ۔(١)١ جواہر، ج،٣٩؛ وسائل الشیعہ، ج١٧، باب میراث الزواج
جواب : اگر ہمارے ماحول میں بھی اس کا شمار لہو و فساد کی محافل کے مناسب موسیقی میں ہوتا ہے تو حرام ہے
اس صورت میں جبکہ ابھی زندہ ہو تو معاف کرنا سزائے موت سے مانع ہوجائے گا مگر یہ کہ بقیہ اولیاء دم فاضل دیت کو قاتل کے اولیاء کو ادا کریں۔قصاص کرسکتے ہیں؛ لیکن اس پر توجہ رکھتے ہوئے وہ اذیتیں اورجراحتیں جو مجرم کے بدن پر وارد ہوئی ہیں تکرار ہونگی اور ایک عمدی پہلو پیدا کرلیں گی اور قصاص کا احتمال ہوجائے گا لہٰذا احتیاط اس میں یہ ہے کہ مصالحہ کریں۔
تسامح اور مدارا کے مختلف معنی ہیں، اگر اس سے مراد اسلام کے دشمنوں کے ساتھ میل جول کرنا اور دشمن کو دوست کے لئے نقصان ہنچانے کا موقع فراہم کرنا ہے تو ایسی چیز جائز نہیں ہے؛ لیکن اگر صحیح وسالم گروہ یا دیگر مذاہب کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی گذارنا ہو، اس طرح کہ مسلمانوں اور آئین اسلام کو ضرر پہنچانے کا سبب نہ بنے تو جائز ہے ۔
1. مدعی قسم کو مدعیٰ علیہ (ملزم) کی طرف پلٹا سکتا ہے ، اس صورت میں ۵۰/ قسمیں ملزم کے ذمہ ہیں۔2.قاعدہ ”البینة علی المدعی و الیمین علیٰ من انکر“ شاہد لانا مدعی کے اوپر اور قسم کھانا منکر (ملزم) کے ذمہ ہے یہاں پر یہ قاعدہ جاری ہوگا ۔3.اس فرض میں دیت کسی پر بھی نہیں ہے۔
مسئلہ شبہہ کے مورد میں سے ہے ، قاعدہ درء کو شامل ہوتا ہے۔
جواب: بچوں کو ماں باپ کی اور والدین کے بچوں کی میراث ملے گی لیکن میاں بیوی کو ایک دوسرے کی میراث نہیں ملے گی ۔
جواب: اگر آپ اتنا جانتے ہوں کہ اس کا سر زخمی ہوا ہے اس سے زیادہ کا آپ کو یقیین نہیں ہے تو اس کی دیت ایک اونٹ ہے اور زخمی شخص کے نہ ملنے کی صورت میں اس کی دیت اس کی نیت سے فقراء کو دیدیں، مگر یہ کہ آپ کو یقین ہو کہ وہ آپ سے راضی ہوگیا تھا۔
جواب : ان لوگوں کو حاکم شرع کے پاس جانا چاہئے وہاں جا کر اپنے ثبوت اور سندیں پیش کریں اور اگر قسم کھانا لازم ہو جائے تو ان کے حق کے دفاع کی خاطر بچوں کا ولی قسم کھا سکتا ہے
جی ہاں ، حق الناس ہے اور ولی دم کے اختیار میں ہے۔
جواب: الف :”اسلام کے مبانی“ سے مراد دین کے ضروری مسائل ہیں چاہے وہ اعتقادی مسائل ہوں جیسے توحید، معاد، قیامت عصمت انبیاء وآئمہ علیہم السلام اور اسی کے مانند دوسری چیزیں، چاہے فروع دین اور اسلام کے قوانین اور احکام ہوں، اور چاہے اخلاقی اور اجتماعی مسائل ہوں ۔اور ”اخلال“ سے مراد ہر وہ کام ہے جو مذکورہ مبانی کی تضعیف یا ان میں شک وتردید ایجاد کرنے کا سبب ہو، چاہے وہ مقالہ لکھنے کی وجہ سے یا داستان، یا تصویر بنانے کے ذریعہ ہو یا کارٹون یا ان کے علاوہ کسی اور چیز سے ۔جواب:ب : اگر سوال پیدا کرنے سے مراد اس کا جواب حاصل کرنا ہے تو اخلال نہیں ہے، لیکن اگر اس سے مراد افکار عمومی میں شبھہ ایجاد کرنا ہو تو اخلال شمار ہوگا اور جدید چیز نکالنے سے مراد، اگر فقط ایک علمی احتمال کو بیان کرنا ہو تاکہ اس پر تحقیق اور مطالعہ کیا جائے تو اخلال نہیں ہے؛ لیکن اگر قطعی طور سے اس پر تکیہ کیا جائے یا اس کو اس طرح نشر کیا جائے کہ جو اسلام کے ضروریات کے مخالف ہو تو مبانی میں اخلال شمار ہوگا۔جواب: ج : بے شک ان دونوں میں فرق ہے، عمومی نشریات میں نشر کرنا ممکن ہے کہ مبانی اسلام میں اخلال کی صورت اختیار کرلے، لیکن خصوصی نشریات میں یہ صورت پیدا نہیں ہوتی۔