نفقہ نہ دینے کی صورت میں طلاق
جب کوئی شوہر کسی عذر شرعی کے بغیر ، نفقہ (زوجہ کا خرچ) دینا چھوڑ دے توکیا زوجہ کی طلاق جائز ہے ؟
جواب:حاکم شرع ، شوہر کے مال سے ، نفقہ ادا کرے اور اگر میسر نہ ہو اسے طلاق دینے کے لئے کہے اور اگر وہ طلاق نہ دے تو خود طلاق دیدے
عقد اور شادی کے بعد مرگی کی بیماری سے آگاہی
میں نے ایک لڑکی سے اپنے بیٹے کی ( نکاح دائم ) شادی کی اور رخصتی بھی ہوگئی ، اب معلوم ہوا ہے کہ لڑکی مدتوں سے ، دورے کی بیماری میں مبتلا ہے ، اس کی تصدیق خود لڑکی اور اس کے ڈاکٹر نے بھی کر دی ہے ، لیکن ماں باپ نے اس بیماری کو ہم سے چھپایا تھا ، یہاں تک کہ لڑکی کہتی ہے ، میں تو بتا نا چاہتی تھی لیکن میرے ماں باپ نے اجازت نہیں دی ، اس عقد نکاح اور مہر کے بارے میں کیا وظیفہ ہے ؟
دونوں کی بیماری، عقد نکاح کے فسخ ہونے کا باعث نہیں ہے ،اگر طلاق دینا ہی مقصود ہے تو طلاق دینے کی صورت میں پورا مہر ادا کرنا ہو گا ۔
شوہر کی نشہ کرنے کی عادت سے مطلع ہونا
اگر کسی عورت کو عقد نکاح کے بعد پتہ چلے کہ اس کت شوہرنشے کا عادی ہے کیاوہ عقد نکاح کو فسخ کرسکتی ہے ، مہر کے سلسلے میں کیا حکم ہے ؟
اگر عقد نکاح کے وقت عورت شرط رکھے کہ اگر شوہر سفر کرنے یا نشہ آور چیزوں کا عادی ہوجائے یا اس کو خرچ نہ دے ، تو اس ( عورت ) کو طلاق کا اختیار ہونا چاہئے ،تو یہ شرط باطل ہے لیکن جب یہ شرط رکھے کہ وہ شوہر کی جانب سے وکیل ہوگی کہ جب بھی یہ کام انجام دے تو بیوی خود کو طلاق دیدے یہ وکالت صحیح ہے اور اس طرح کے موارد میں اس کو حق حاصل ہوگا کہ خود کو طلاق دیدے ۔
قرآن کی توہین کرنے کی سزا
کیا قرآن کی توہین اور (نعوذ بالله) اس کے ساتھ نازیبا سلوک کرنا، مرتد ہونے کا باعث ہوتا ہے، ان لوگوں کا کیا وظیفہ ہے جو اس مسئلہ کے گواہ اور ان کے مشاہدے میں ایسا کیا جاتا ہے؟
اگر جان بوجھ کر اور معلوم ہوتے ہوئے ایسا ہوا ہو تو مرتد ہوجائے گا اور دوسرے لوگوں پر نہی عن المنکر کرنا لازم ہے ۔
نکاح کے بعد اطلاع پانا کہ شوہر مسلمان نہیں
اگر شادی کے بعد بیوی یہ سمجھے کہ اس کا شوہر مسلمان نہیں ہے ، اس کا حکم کیا ہے ؟
اس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی اور نکاح باطل ہے ۔
مرحومہ یا مطلّقہ عورت کے فوٹو دیکھنا
شوہر اور زوجہ نے ملکر فوٹو لیا ہے، لیکن شوہر اور اسکی بیوی ، تصویر میں ، کامل پردہ میں نہیں ہیں، اس کے بعد وہ میاں بیوی ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں یا ان میں سے کوئی ایک مرجاتا ہے، کیا ایک کے مرنے کے بعد یا طلاق کے بعد ، اس تصویر کو دیکھ سکتے ہیں جو پہلے کھنچوائی گئی ہے ؟
جواب:۔ مرنے کی صورت میں اشکال نہیں ہے لیکن جدا (طلاق) ہونے کی صورت میں تصویر کو نہ دیکھیں .
جماعت کے ہوتے ہوئے فرادی نماز پڑھنا
ایک امام جماعت نے مسجد بنانے کے لئے کچھ رقم مامومین اور لوگوں سے جمع کی اور کچھ رقم سہم امام کی حاصل کی لیکن اس سلسلہ میں کوئی اقدام نہیں کیا جن لوگوں نے رقم دی تھی وہ اب رقم واپس مانگ رہے ہیں امام جماعت کہتے ہیں کہ تمہں رقم کی واپسی کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے میں حاکم شرح کی جانب سے وکیل ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے کیا اس عالم دین کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟
جواب:۔ اگر مذکورہ رقم سہم امام علیہ السلام کے عنوان سے دی گئی ہے تو اس صورت میں مجتہد یا ان کے نمائندے کی رای کے مطابق اسے عمل کرنا چاہئیے اور اگر لوگوں نے عطیہ وغیرہ کے طور پر دی ہے تو اسے لوگوں کی رائے کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اسے پورا کرنا چاہئیے ۔
حاملہ عورت کی تعزیر اور حد
اگر کسی بیمار کے اوپر حد (سزا) ثابت اور واجب ہوجائےکیا اس صورت میں اسّی (۸۰) باریک لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک مرتبہ میں اس بیمار کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟ جواب کے مثبت ہونے کی صورت میں کیا تعزیر (غیر معیّن سزا) کا بھی یہی حکم ہے؟ اس تمہید کو پیش نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوال کا جواب مرحمت فرمائیں: کسی خاتون نے شادی سے پہلے کے زمانے میں کوئی ایسا کام کیا تھا جس کا حکم تعزیر تھا اور اب شادی کے بعد جبکہ وہ حاملہ ہوگئی ہے اور اس کا شوہر بھی اُس کے اس کام (جرم) سے آگاہ نہیں تھا، اس کا جرم ثابت ہوگیا ہے، لہٰذا یہ ملحوظ رکھتے ہوئے کہ اس وقت وہ بیمار ہے اور حاملہ ہے نیز یہ کہ اگر اسے تعزیر اور سزا دی جائے تو اس کے شوہر کو پتہ چل جائے گا اور ممکن ہے اُسے طلاق دیدے یا دیگر مشکلات پیش آئیں، کیا اس صورتحال میں تیس (۳۰) باریک لکڑیاں ایک ساتھ ملاکر تعزیر کے عنوان سے ایک مرتبہ میں اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں؟
بیمار کے سلسلہ میں تو، حد (سزا) کی تعداد کے مطابق لکڑیوں کو ایک ساتھ ملاکر ایک بار ہی اس کے بدن پر ماری جاسکتی ہیں لیکن حاملہ عورت کو وضع حمل کے بعد سزا دی جائے گی، البتہ تعزیر (غیر معین سزا) کی صورت میں چند کوڑوں پر اکتفا کی جاسکتی ہے اور تعزیر کوڑوں کی سزا ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس طرح کے موقعوں پر سرزنش کرنے یا نصیحت کرنے پر بھی اکتفا کی جاسکتی ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کے اس میں نصیحت وغیرہ کے اثر کرنے کی امید ہو ۔
رہن پر لینے والے شخص کا رہن پر لی گئی چیز کو کرایہ پر دینا
ایک شخص نے اپنی ضرورت پوری کرنے کی وجہ سے اپنا مکان یا دکان کچھ رقم کے عوض گروی رکھ دیا، پھر فریقین کی موافقت سے گروی رکھنے والا شخص رہن پر رکھی ہوئی چیز (مکان یا دکان) مالک کو کرایہ پر دے دیتا ہے، جس کے نتیجہ میں وہ مکان یا دکان ، مالک ہی کے تصرف میں رہتی ہے اور وہ رہن پر لینے والے کو ماہانہ کرایہ دیدیتا ہے، کیا یہ معاملہ صحیح ہے ؟
رہن پر لینے والا اس چیز (مکان یا دکان) کے منافع کا مالک نہیں ہے لہٰذا اس کو کرایہ پر نہیں دے سکتا ۔
ایڈز کی بیماری
کیا آپ مرد یا عورت میں ایڈس کی بیماری کو ان امراض میں سے جانتے ہیں کہ جن کی وجہ سے نکاح کو فسخ کیا جاسکتا ہے ؟
اگر ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق اس مرحلہ میں ہوجو دوسروں کو لگنے اور خود اسکے لئے بھی خطرہ کا سبب ہو اور شوہر طلاق دینے پر حاضر نہ ہوتو عورت حاکم شرعی کے ذریعہ طلاق لے سکتی ہے ۔اور اس طرح کے موقعوں پر مرد بھی عورت کو طلاق دے سکتا ہے ۔
جڑی بوٹی والی دوا کی تاثیر اور خواص کا بیان
ائمہ معصومین علیہم السلام کی حدیثوں اور اقوال پر مشتمل کتب یا دوسری کتابوں کے مطابق جیسے طب الرضا، طب الصادق، نسخہ عطار وغیرہ، جڑی بوٹی سے علاج کی غرض سے ان کے خواص اور فواءد بیان کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر اس طرح سے کہے کہ یہ نسخہ فلاں کتاب میں ذکر ہے تو ان کے بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اصول فقہ میں اعلم ہونا
اگر انسان کے اندر اتنی صلاحیت پائی جاتی ہو کہ اس چیز کو تشخیص دے سکے کہ فلاں مرجع مبانی اصول کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی ہے تو کیا یہ تشخیص ، مرجع کے اعلم ہونے میں دخالت رکھتی ہے؟
جواب:صرف علم اصول میں آگاہی اور اعلمیّت ،اعلم ہونے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اعلم ہونے کی دوسری شرطیں بھی ہیں۔
جمعہ کے نماز ظہر کو جماعت سے پڑھنا
معمول کے مطابق مجالس ترحیم، مسجدوں میں انجام دی جاتی ہیں اور بعض اوقات وہ دن جمعہ کا ہوتا ہے؛ جبکہ مسجد سے مصلیٰ شہر (وہ جگہ جہاںپر جمعہ ہوتا ہے) کا فاصلہ ایک کلو میٹر ہے، اُن تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو حاضرین سے کی گئی ہیں ان میں سے کوئی شخص بھی نماز جمعہ میں شرکت کا قصد نہیں رکھتا ہے اور نہ ہی ان کا قصد نماز جمعہ کی تحقیر ہوتا ہے ۔ کیا ایسی صورت میں نماز ظہر کو اول وقت جماعت کے ساتھ نماز پڑ ھا جاسکتا ہے؟
مذکورہ شرائط میں نماز جماعت کے پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے؛ لیکن بہتر ہے کہ نماز جمعہ کے احترام کی خاطر جمعہ کے وقت جماعت کو ترک کردیں ۔

