ناجائز اولاد (ولد الزنا) کا نفقہ
ولد زنا (ناجائز اولاد) کا نفقہ کس کے ذمّہ ہوتا ہے ؟
جواب:۔زنا کرنے والے کے ذمّہ ہے .
جواب:۔زنا کرنے والے کے ذمّہ ہے .
اگر عقلاء کے عرف کے مطابق ایسا کرنے میں اس قاری کا حق بنتا ہے تو جو اسے ریکارڈ کرنا چاہتا ہے اسے اس سے اجازت لینا ضروری ہے۔
اگر آپ کی مراد کرنسی چینج (بدلوانا) کرانا ہے تو کوئی اشکال نہین ہے لیکن اگر مراد پیسا کا پیسے سے معاملہ کرنا ہے جیسے ایرانی کرنسی کو ایرانی ہی کرنسی میں بدلیں چنانچہ بازار کے ماحول میں ان نوٹون میں فرق ہو مثال کے طور پر چھوٹے نوٹ کی بنسبت بڑے نوٹ کو زیادہ پسند کیا جاتا ہو جیسا کہ مسافروں کے لئے زیادہ پسندیدہ ہے اس صورت میں بھی ایک متاع کی حیثیت دی جا سکتی ہے اور لیا ، دیا جاسکتا ہے( البتہ بہت ہی کم فرق کے ساتھ جس فرق کا اس طرح کے موقوں پر عقلاء کے درمیان لحاظ کیا جاتا ہے ) تیسری صورت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ سود سے بچنے کے لئے کچھ نقد نوٹوں کو اس سے کچھ زیادہ مقدار میں ، کچھ مدت کے لئے ادھار کے طور پر فروخت کرے ، بغیر اس کے کہ نوٹوں کا فرق ملحوظ کیا جائے اس طرح کے معاملہ میں اشکال ہے ، حقیقت اس طرح کے فرض ادھار میں سود ہے کہ جس کانام خرید و فروخت رکھ دیا گیا ہے۔
۱/ سے ۳/تک: مذکورہ شرط کے ذریعہ فسخ کو مشروط کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور اگر شرط حاصل نہ ہوئی تو چیز کا مالک اپنی چیز کو واپس لے سکتا ہے ۔
فائدے کی کوئی مقدار معیّن نہیں ہے بلکہ یہ بات دونوں فریق (دگاندار اور خریدار) کی مرضی سے تعلق رکھتی ہے، مگر وہ جنس جس کی قیمت حکومت اسلامی کی جانب سے معیّن کی گئی ہو لیکن انصاف سے کام لینا بہرحال بہت اچھی بات ہے ۔
جلانا جایز نہیں ہے، اسے کسی دور پاک جگہ پر دفن کیا جا سکتا ہے یا کسی دریا کے حوالہ کر سکتا ہے البتہ وہ دریا کسی نامناسب جگہ پر نہ گرتا ہو، اور اگر کسی نے جلایا ہے تو اسے اس بات کی تاکید کریں کہ وہ آءندہ ایسا نہ کرے اور اپنے اس کام سے توبہ کرے۔
اگر ان قوانین نے دقت کے ساتھ قانونی مراحل طے کیے ہیں تو وہ یقینا اسلامی شرع سے مطابقت رکھتے ہیں۔
جواب:۔آخری جماع کے بعد، تین مہینہ تک صبر کرے گی، اس کے بعد صیغہ طلاق جاری کیا جائے گا پھر اس کے بعد تین مہینہ عدّت رکھے گی .
جواب:۔اگر مذکورہ رقم کو عقد کے ضمن میں باپ کیلئے قرار دیا جائے تو حلال ہے اور سال گذرنے کے بعد اس پر خمس واجب ہے .
جنس کی قیمت کو بیچنے والامعیّن کرسکتاہے؛ لیکن اس طرح کے موقعوں پر بہتر یہ ہے کہ جس جنس کو سستا خریدا ہے، سستا بیچے (منصفانہ فائدے کے ساتھ) اور جس جنس کو مہنگا خریدا ہے، مہنگا بیچے (انصاف سے فائدہ وصول کرنے کے بعد)۔
جواب:۔اس شخص کو اپنے وعدوں اور معاہدات پر عمل کرنا چاہیےٴ اور اگر زوجہ کو ایسے ہی بلا تکلیف چھوڑ دے اور اس کے سلسلے میں اپنے شرعی وظیفوں پر عمل کرنے پر بھی تیار نہ ہو، حاکم شرع اس کو طلاق دینے پر مجبور کرے گا ارو طلاق نہ دینے کی صورت میں، زوجہ کی درخواست پر ، حاکم شرع اس کو طلاق دے سکتا ہے .
جواب: اگر مشین مستقل چل رہی ہے تو احتیاط یہ ہے کہ اس وقت تک جب تک مشین چل رہی ہو ، ہمیشہ خدا کا نام دہراتا رہے۔ اگر چہ ایک بسم اللہ کے ساتھ چند جانور ذبح ہو جائیں۔
اگر جان بوجھ کر اور معلوم ہوتے ہوئے ایسا ہوا ہو تو مرتد ہوجائے گا اور دوسرے لوگوں پر نہی عن المنکر کرنا لازم ہے ۔
اگر طرفین اس بات پر راضی ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
اگر فروخت کرنے والا شخص خرید وفروخت کے وقت پر خرما کے عیب دار ہونے سے انکار کرتا ہے اور خریدار کے پاس اپنی بات پر کوئی دلیل بھی نہیں ہے تو بیچنے والے شخص کی بات قبول کی جائے گی، لیکن خریدار کو حق ہے کہ وہ اس سے مطالبہ کرے کہ حاکم شرع کے سامنے جاکر قسم کھائے ۔