سوالات کو بہت مختصر، کم سے کم لاین میں بیان کریں اور لمبی عبارت لکھنے سے پرہیز کریں.

خواب کی تعبیر، استخارہ اور اس کے مشابہ سوال کرنے سے پرہیز کریں.

captcha
انصراف
انصراف
چینش بر اساس: حروف الفبا جدیدترین مسائل پربازدیدها

باپ کا بیٹا ثابت کرنے کے لیے ڈاکٹر کی سند۔

اگر جج یا قاضی کی طرف سے کیس عورت کو معاینہ کے لیے پیش کیا جائے کہ اس کے رحم میں جو نطفہ ہے وہ اس کے شوہر کا ہے یا کسی اجنبی کا، اور اسے اس کام کے قانونی پیروی کرنے والے سرکاری ڈاکٹر کے پاس بھیجا جائے، اس صورت میں ڈاکٹر قطعی طور پر یہ معین کر سکتا ہے کہ یہ نطفہ اس کے شوہر کا نہیں بلکہ کسی اجنبی کا ہے لیکن اس کے ایسا کرنے سے معلوم ہو کہ اس کے رشتہ دار اسے جان سے مار دیں گے اور اگر اس کے بر خلاف گزارش دے تو بچہ اس کے شوہر سے ملحق ہو جائے گا اور قانونی و میراث و محرمیت وغیرہ کے دوسرے مسائل اور مشکلات پیش آئیں گی، ایسی صورت میں اس ڈاکٹر کا شرعی فریضہ کیا ہے؟

جواب: مہم یہ ہے کہ ڈاکٹر کا قول اور اس کا یقین جج اور قاضی کے لیے اس طرح کے موارد میں حجت نہیں رکھتا اور حتی کے اگر خود قاضی کا یقین جو اس روش سے حاصل ہوتا ہے وہ بھی حجت نہیں رکھتا بلکہ محل اشکال ہے، لہذا ضروری نہیں ہے کہ ڈاکٹر اپنے یقین کو اس طرح کے موارد میں پیش کرے اور نتیجہ کے طور پر بچہ حکم ظاہری کے مطابق اس کے شوہر سے ملحق ہو جائے گا اور اس طرح کے احکام ظاہری سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔

دسته‌ها: قانونی ڈاکٹر

حق الاختراع کا شرعی حکم

کیا اختراع (کھوج) کرنے والا اپنی اختراع کی ہوئی شیٴ کی نسبت کسی خاص حق کا مالک ہے، اس طرح کے اس سے دوسروں کو نمونہ برداری کا کوئی حق نہیں ہے؟

جی ہاں، عرف عقلاء میں اختراع کچھ خاص شرائط کے ساتھ اختراع کرنے والے کے لئے کچھ حقوق ایجاد کرتی ہے جن کی رعایت کرنا شرعاً واجب ہے ۔

دسته‌ها: ایجاد کا حق

حاملہ کے لیے ہائی پاور دوا تجویز کرنا

ایسے مریض جو درد سے شدید بے چین اور پریشان رہتے ہیں لیکن اگر انہیں قوی سکون آور دوا دی جائے تو آرام ملتا ہے مگر ساتھ ہی اس بات کا قوی احتمال ہوتا ہے کہ وہ آئندہ حاملہ کو پیش آنے والے عوارض یا دوسرے عوارض کا شکار ہو سکتے ہیں تو اس طرح کے موارد میں ڈاکٹر کا کیا فریضہ بنتا ہے؟

جواب: اگر ایسا ضرر ہے، جو درد سے نجات دلانے کے لیے دی جانے والی دوا کے مقابلہ میں عقلاء کے نزدیک قابل قبول ہوتا ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر ضرر ایسا ہو جو اس کی جان کو خطرہ میں ڈال رہا ہو تو جائز نہیں ہے اور اگر مریضہ کو ضرر نہ پہچا کر شکم میں موجود بچے کو نقصان پہچا رہی ہو تو بھی جائز نہیں ہے ۔

اپنی زوجہ کا عمومی جگہوں پر بوسہ لینا

اگر ایک مرد انظار عمومی میں اپنی زوجہ کا بوسہ یا اس کے جیسی حرکت کا اقدام کرے ، کیا یہ عمل گناہ اور موجب تعذیر ہے؟۔

جواب : ایسا عمل گناہ شمارنہیں ہوگا اور اس پر تعذیر بھی نہیں ہے مگر یہ کہ قاضی تشخیص دے کہ ایسے اعمال پردہ دری اور جامعہ میں فساد کے شایع ہونے کا سبب ہوجائیں گے ، اس صورت میں مناسب تعذیر بجا ہے۔

دسته‌ها: تعزیرات

ترکہ کے تیسرے حصّہ مال کی وصیت کے بغیر ، وصی کو معین کردینا

اگر کسی مرنے والے نے، وصی تو معین کردیا ہو لیکن اپنے ایک تہائی مال کی وصیت نہ کی ہو کیا اس کا ایک تہائی مال، کار خیر میں، خرچ کرسکتے ہیں؟

جواب: وصی کو معین کرنے کا مطلب، ایک تہائی معین کرنا نہیں ہوتا، مگر یہ کہ بعض علاقوں میںوصی کو معین کرنے سے، ایک تہائی مال کی وصیت کرنا مقصود ہو، اس صورت میں اسی وصیت پر عمل کرنا چاہئے ۔

دسته‌ها: وصی کے شرایط و..

زوجہ کے لئے کام کاج کا سامان فراہم کرنا

میں نے اپنی زوجہ کے لئے، سلائی کا کام کرنے کے لئے ضروری انتظامات کئے، مشین خرید کر دی، جگہ، لائٹ اور ضروری سامان فراہم کیا ہے کیا اس سلائی کی آمدنی میں، میں بھی شریک ہوں؟ نیز کیا وہ میری اجازت کے بغیر یہ کام کرسکتی ہے؟

اگر آپ نے وہ سب چیزیں اپنی زوجہ کو بخش دی ہیں تو اس صورت میں آپ کو اس کی آمدنی میں کوئی حق نہیں ہے اور اگر نہیں بخشی ہیں تب طے شدہ معاہدے کے مطابق عمل کرنا ہوگا اور وہ آپ کا حصّہ ادا کرے گی ۔

دسته‌ها: شرکت

دو مریضوں کی صورت میں ڈاکٹر کا شرعی وظیفہ

اگر دو زخمیوں کو ڈاکٹر کے پاس معالجہ کے لیے لایا جائے اور دونوں کی حالت نازک اور خطرناک ہو اور ان دونوں میں سے ایک کا وہ فیملی ڈاکٹر ہو اور ایک کا علاج دوسرے کو چھوڑ دینے کے مترادف ہو، جس کے نتیجہ میں وہ مر جائے گا، اس حالت میں ڈاکٹر کا کیا شرعی فریضہ ہے وہ ان دونوں میں سے کس کو مقدم کرے اور کس کا علاج کرے، اس بیان کے ضمن میں ذیل الذکر سوالوں کے جواب عنایت کریں:الف۔ اس بات کے مد نظر کہ اس ڈاکٹر نے جن کا وہ فیملی ڈاکٹر ان سے اس نے ایسا کوئی ایگریمینٹ نہ کیا ہو جس کے تحت وہ علاج کے مجبور ہوگا ۔ب۔ اگر ان دونوں میں سے ایک کے گھرانے کے ساتھ اس کا ایگریمینٹ ہو تو اس صورت میں حکم مسئلہ کیا ہوگا؟ج۔ وہ زخمی ڈاکٹر جن کا فیملی ڈاکٹر ہے، اس کی حالت نہایت نازک ہو مگر اس کی موت کا امکان دوسرے سے کمتر ہو تو اس صورت میں اس کا شرعی فریضہ کیا ہے؟

جواب: پہلی اور دوسری صورت میں، اس بات کے پیش نظر کہ دونوں کی حالت ایک جیسی ہے ڈاکٹر کو اختیار ہے جس کا چاہے علاج کرے لیکن اگر اس کا کسی گھرانے سے شرعی معاہدہ ہو تو اسے مقدم کرے گا اور تیسری صورت میں جس کی جان کو زیادہ خطرہ ہو اس کا پہلے علاج کرے گا ۔

دسته‌ها: علاج، معالجه

بے جا چیک کی وجہ سے چیک کے مالکوں کے قید کی دلیل

کچھ عرصہ پہلے عدلیہ کے رئیس نے فرمایا تھا :”فقہ اسلامی کی نظر سے چیک اور قرضے زندان کا سبب نہیں بنتے“ اور یہ بھی فرمایا تھا : ”بہت سی وقتی قیدوں کی کوئی فقہی اور حقوقی دلیل نہیں ہے تو“ کیوں مراجع عظام، علماء کرام اور بزرگان دین نے اس طرح کے مسائل کے مقابلہ میں سکوت اختیار کیا؟ اگر کوئی مسئلہ فقہی اور دینی دلیل نہیں رکھتا تو کیوں اجراء ہوتا ہے؟

جواب : بے جا چیک کے سلسلہ میں ، قید کے مسئلہ کی دو دلیلیں ہوسکتی ہیں :اول : یہ کہ ثابت ہو کہ طر ف مقابل کچھ اموال رکھتا ہے جن کے ذریعہ اپنے قرض کو ادا کرسکتا ہے(مستثنیات دَین کے علاوہ)۔دوم : یہ کہ حکومت اسلامی ثابت کرے کہ بے جا چیکوں کے سلسلے میں کوئی کار وائی نہ کرنا معاشرے کے اقتصادی نظام کو متزلزل کردے گی۔

دسته‌ها: تعزیرات

ایسے اشخاص کو دوبارہ سزا دینا جو بیرون ملک سے سزا پاچکے ہوں

چنانچہ کچھ افراد بیرون ملک کچھ جرائم کے مرتکب ہوئے اور اس ملک کے قوانین کے مطابق ان کا محاکمہ بھی ہوگیا اور اس جرم کی مقررہ سزا بھی گذار لی ہے، اس کے بعد وہ ایران پلٹ آئے لہٰذا آپ فرمائیں :الف : ان جرائم میں جو قصاص کا باعث ہوتے ہیں، اولیاء دم کی درخواست کی صورت میں سزا کے قابل ہیں؟ب : جرائم حدّی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ج : تعذیری اور روک تھام والے جرائم میں کیا حکم ہے؟

جواب : ان موراد میں جو قصاص کا سبب بنتے ہیں ، اگر شاکی قصاص کا تقاضا کرے تو قصاص جاری ہوگا اور اگر شاکی قصاص کے بدلے جرمانہ پر راضی ہوگیا تھا تو قصاص کا حکم ساقط ہے اور اگر راضی نہیں ہوا تھا تو جرمانے کی رقم کو واپس کرکے قصاص کا تقاضا کرسکتا ہے ۔جواب : حدود والے جرائم میں حد ساقط نہیں ہوگی؛ کیوں کہ ان میں حد کے جاری کرنے کے شرائط نہیں پائے جاتے لہٰذاوہ حد کے قائل نہیں ہیں۔جواب : اس چیز پر توجہ رکھتے ہوئے کہ تعزیر نظر حاکم سے مربوط ہے اگر وہاں پر ان کو تعذیر کردیا گیا تھا ہر چند کہ تعذیر، زندان کی صورت میں تھی تو حاکم شرع یہاں کی تعذیر میں تخفےف دے سکتا ہے، چاہے تعذیر ملامت اور سرزنش کی صورت میں ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔

دسته‌ها: تعزیرات
قرآن و تفسیر نمونه
مفاتیح نوین
نهج البلاغه
پاسخگویی آنلاین به مسائل شرعی و اعتقادی
آیین رحمت، معارف اسلامی و پاسخ به شبهات اعتقادی
احکام شرعی و مسائل فقهی
کتابخانه مکارم الآثار
خبرگزاری رسمی دفتر آیت الله العظمی مکارم شیرازی
مدرس، دروس خارج فقه و اصول و اخلاق و تفسیر
تصاویر
ویدئوها و محتوای بصری
پایگاه اطلاع رسانی دفتر حضرت آیت الله العظمی مکارم شیرازی مدظله العالی
انتشارات امام علی علیه السلام
زائرسرای امام باقر و امام صادق علیه السلام مشهد مقدس
کودک و نوجوان
آثارخانه فقاهت