نذر کے انجام دینے کی جگہ میں شک کرنا ۔
۳۔ جب تک میری مراد نہ آئے تو کیا میں نذر کی مقدار، نوع اور نذر کے ادا کرنے کے مقام کو بدل سکتا ہوں؟
جواب: اگر آپ نے نذر کا صیغہ پڑھا تھا تو جائز نہیں ہے۔
جواب: اگر آپ نے نذر کا صیغہ پڑھا تھا تو جائز نہیں ہے۔
جواب: اس زمین کو اسی کام میں استعمال کیا جائے جس کام کے لئے موافقت ہوئی تھی۔
جواب: گناہوں سے آلودہ محافل کابرپا کرنا کسی بھی مکان (جگہ) میں جائز نہیں ہے؛ اور وہ مکان جو اہل بیت ٪ سے منسوب ہوگئے ہیں وہاں پر گناہ دوبرابر ہوجاتا ہے، اس کام سے منع کیا جائے، اگر کمیٹی کے افراد ان کاموں کی موافقت کریں تو ان کو معزول کردیا جائے، لیکن عزاخانے کے وسائل کا ذاتی استعمال اس صورت میں جائز ہے جب واقفین نے وقف کے وقت اس کو وقف عام کیا ہواور ہمسایوں کے لئے مزاحمت ایجاد کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔
جواب: اگر ایسا ضرر ہے، جو درد سے نجات دلانے کے لیے دی جانے والی دوا کے مقابلہ میں عقلاء کے نزدیک قابل قبول ہوتا ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر ضرر ایسا ہو جو اس کی جان کو خطرہ میں ڈال رہا ہو تو جائز نہیں ہے اور اگر مریضہ کو ضرر نہ پہچا کر شکم میں موجود بچے کو نقصان پہچا رہی ہو تو بھی جائز نہیں ہے ۔
اگر یہ حالت، اس کی عادی حالت ہے (یعنی اس کی عادت ہوگئی ہے) تب وہ اسلام سے خارج ہوگیا ہے، لہٰذا اس کی زوجہ کے لئے اس سے جدا رہنا ضروری ہے، لیکن اگر وہ طبیعی حالت سے خارج ہوجاتا ہے، یا مشکوک ہے کہ طبیعی حالت سے خارج ہوا ہے یا نہیں (مثلاً دیوانگی اس پر طاری ہوئی ہے یا نہیں) تب اس صورت میں اس پر مسلمان ہونے کا حکم لگے گا نیز پہلی صورت میں اگر وہ شخص توبہ کرلے اور اس عورت سے دوبارہ نکاح کرلے تو وہ عقد صحیح ہے ۔
جواب: اس زمین کو اسی کام میں استعمال کیا جائے جس کام کے لئے موافقت ہوئی تھی۔
جواب:اگر پکاکر دینے کی صورت ممکن ہے تو یہ ہی مقدم ورنہ بغیر پکے بھی تقسیم کیا جاسکتا ہے
جواب:۔ اگر نما زمیں ظاہری طور پر کوئی کمی نہیں ہوئی ہے تو اعادہ نہ کرے، بلکہ تعقیبات کے ذریعہ اس کی کمی کو پورا کرے۔
جواب: تعذیر بھی نہیں ہے۔
جواب: واجب نہیں ہے۔
جی ہاں، عرف عقلاء میں اختراع کچھ خاص شرائط کے ساتھ اختراع کرنے والے کے لئے کچھ حقوق ایجاد کرتی ہے جن کی رعایت کرنا شرعاً واجب ہے ۔
جواب:اگر گرم پانی سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو اور اس کا حصول بھی ممکن ہو تو اسے چاہئے وضو کرے ورنہ تیمم کرے، اگر چہ اس کی مدت طولانی بھی ہوجائے تو کوئی مساٴلہ نہیں ہے۔
جواب: مہم یہ ہے کہ ڈاکٹر کا قول اور اس کا یقین جج اور قاضی کے لیے اس طرح کے موارد میں حجت نہیں رکھتا اور حتی کے اگر خود قاضی کا یقین جو اس روش سے حاصل ہوتا ہے وہ بھی حجت نہیں رکھتا بلکہ محل اشکال ہے، لہذا ضروری نہیں ہے کہ ڈاکٹر اپنے یقین کو اس طرح کے موارد میں پیش کرے اور نتیجہ کے طور پر بچہ حکم ظاہری کے مطابق اس کے شوہر سے ملحق ہو جائے گا اور اس طرح کے احکام ظاہری سے کوئی مشکل پیدا نہیں ہوتی۔