تمکین دینے کی تعداد کے بارے میں شرط لگانا
اگر بیوی شرط لگائے کہ ہفتہ میں ایک باریا دو بار تمکین (همبستری کی اجازت)دے گی ، کیا یہ شرط صحیح ہے ؟
اگر میاں بیوی دونوں اس شرط پر راضی ہوگئے ہوں تو یہ شرط صحیح ہے ۔
اگر میاں بیوی دونوں اس شرط پر راضی ہوگئے ہوں تو یہ شرط صحیح ہے ۔
ظاہر یہ ہے کہ اپنا مہر معجل وصول کیے بغیر ، مطلقاً طور پر بیوی خود کو شوہر کے سامنے تسلیم نہ کرے اور اس مدت میں شوہر کے اوپر اس کا نفقہ دینا واجب ہے ۔
الف) ان میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ مہر مثل ادا کریں ۔جواب ۔ ب) اگر دوبارہ اس فعل قبیح کی تکرار کرے ، بظاہر ایک مہر سے زیادہ نہیں ہے مگر یہ کہ مہر دیدے اور اس کے بعد دوبارہ ایسا کرے ( تو دوبارہ مہر بھی دینا ہوگا )
جواب: جی ہاں، اس کے لئے مہر المثل ہے۔
ہر درہم ۵ ، ۲ گرام کا ہوتا ہے لہذا اس بنا پر پانچ سو درہم تقریبا ً ۱۲۵۰ گرام ہوتے ہیں ۔
جن حالات میں ، درہم سکہ کی شکل میں نہ ہو تو ہم کواس پرفرض کرنا چاہئے کہ اگر چاندی سکہ کی شکل میں موجود ہوتی تو اس کی قیمت کس قدر زیادہ ہوتی لہذا اس کی بڑھی ہوئی قیمت کا اندازہ لگا کر اس میں اضافہ کر دیں اور چونکہ یہ مستحب حکم ہے لہذا اندازے کے قریب قیمت کا حساب کرنے میں کوئی نقصان نہیں ہے ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ عورت کو تمکین دینے سے پہلے ، مہر مانگنے کا حق ہے ، حتی اگر شوہر مہر ادا کرنے پر قار بھی نہ ہو ، دوسری بات یہ ہے کہ اگر شوہر کے پاس مہر کی (رقم ) نہیں ہے تو نفقہ دےتیسری بات یہ ہے کہ اگر یہی صورت حال مدتوں تک باقی رہے اور زوجہ کے نقصان یا شدید مشقت کا باعث ہو تو حاکم شرع شوہر کو طلاق دینے پر مجبور کرے اور اگر طلاق نہ دے تو حاکم شرع طلاق دیدے گا اور آدھا مہر شوہر کے ذمہ ہوگا اس وقت تک جب تک وہ ادا کرنے پر قادر نہیں ہوتا ۔
ظاہر یہ ہے کہ اپنا مہر معجل وصول کیے بغیر ، مطلقاً طور پر بیوی خود کو شوہر کے سامنے تسلیم نہ کرے اور اس مدت میں شوہر کے اوپر اس کا نفقہ دینا واجب ہے ۔
جب بھی شوہر ، بیوی کے حاملہ ہونے کا باعث ہو اگر دخول نہ کیا ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر اس کامکمل مہر ادا کرے ، اگرچہ دخول نہیں کیا ہے ۔
اگر پہلا عقد نکاح ، مرضی سے ہوا تھا اور صحیح تھا اور شوہر دار عورت سے زنا ہوا ہے تو اس صورت میں وہ عورت کے اوپر زانی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی ( احتیاط واجب کی بنا پر) ۔
اس کو مجبور کرنے کا حق نہیں ہے ، مگر یہ کہ بیوی خود اپنی خواہش سے ان کاموں کو انجام دے ۔
انھیں صلح کرنی چاہئے یا پھر آج کی قیمت کے مطابق ادا کرے ۔
چنانچہ طرفین ( شوہر و بیوی ) جانتے تھے کہ مہر سنت ( مہر محمدی ) مشہور قول کے مطابق ، پانچسو درہم ( چاندی کے سکہ ) ہیں تو اشکال نہیںاور سکہ رائج الوقت میں حساب کرے اور اگر دونوں یا دونوں میں سے کوئی ایک ، آگاہ نہیں تھا تو احتیاط یہ ہے کہ مہر کی مقدار کے بارے میں دونوں آپس میں صلح ومصالحت کریں ۔
مہر سنت ، مشہور قول کے مطابق ، چاندی کے پانچ سو درہم ہوتے ہیں ، اور اس کی دقیق قیمت کو آپ سنار وں سے معلوم کر سکتے ہیں ۔
جواب:۔جب یقین رہا ہو کہ انزال نہیں ہوگا تو بعید نہیں ہے کہ اُن کا بچّہ ، شبہ کے بچّہ (وطی شبہ) کے بچہ کی طرح ہو، اور اگر انزال ہونے کا امکان و احتمال دیا تھا، تو اشکال سے خالی نہیں ہے، رہا مہرِ-- مثل تو اس سلسلے میں اگر عورت اپنی مرضی اور خواہش سے تیار ہوگئی تھی اور اس کو اس بات کا امکان بھی تھا تو مہرِ مثل نہیں رکھتی لیکن اگر اس کی نظر میں اس بات کا امکان نہیں تھا اور تفخیذ (رانوں میں) کرانے کے علاوہ (کسی دوسری چیز پر) راضی نہیں تھی تو اس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کو مہر مثل دیا جائے